Saturday, 06 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Muhabbat Ki Kahani Nahi Marti

Muhabbat Ki Kahani Nahi Marti

محبت کی کہانی نہیں مرتی

اپنے سٹوڈیو میں بہت لوگوں سے مفصل گفتگو ریکارڈ کی۔ آٹھ دس ماہ سے لمبی بریک ہے۔ کچھ وقت بعد پھر سے سلسلہ شروع کرتا ہوں۔ بیٹا ساتھ ہی رہتا تھا وہ کیمروں پر نظر رکھتا تھا۔ ہر مہمان شخصیت کے ساتھ گفتگو کے بعد میں اپنے بیٹے سے پوچھتا رہا کہ سناؤ تم نے ان سے کیا سیکھا۔ ایک دن عباس تابش صاحب سے گفتگو ختم کی۔ گھر آیا تو پوچھا کہ کیا سمجھ آئی؟ بولا "بابا آج میں نے سیکھا کہ یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی"۔ میں نے پوچھا مطلب؟ بولا "آپ ان کو خود ہی تو کہہ رہے تھے

یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاہتے ہوئے مر جاتے ہیں

میں نے کہا کہ ہاں وہ ان کا ہی شعر تھا اس سے تم نے کیا سیکھا؟ بولا "بابا یہی کہ محبت کرنی چاہئیے، وہ نہیں مرتی لوگ مر جاتے ہیں"۔

اس سے پہلے کہ میں اسے سمجھاتا بیگم بول پڑی "شاباش بیٹا، یہی سیکھنا تم، تمہاری عمر آ رہی ہے"۔ پھر مجھے بولی "اور سکھائیں اسے۔ یہ بہت جلد آپ کو "محبت" کرکے بتائے گا پھر آپ کہنا کہ یہ نہیں کرنی تھی۔ اینوں نال لے تے نکل ایتھوں"۔

کچھ دنوں سے بیٹا بار بار سمر کیمپ شروع ہونے کے دن گن رہا تھا۔ اس کو پڑھائی کے لیے اتنا جذباتی میں نے پہلے تو کبھی نہیں دیکھا۔ آئے دن کہتا "بابا سمر کیمپ شروع ہو رہے ہیں، آپ نے پک ڈراپ والے انکل کو بتا دیا ناں؟"۔ اس کو کئی بار کہا کہ ہاں بتا دیا ہے۔ آج پھر خوش ہو کر کہنے لگا سوموار سے سمر کیمپ شروع ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس نے آج بال بنوائے۔ باربر شاپ سے واپس گھر آیا تو سٹائل مار رہا تھا۔ کریم شریم لگا کے اس نے کھڑے کیے ہوئے تھے اور شیشے کے سامنے وہ پندرہ منٹ بال سنوارتا رہا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ یہ آخر چاہتا کیا ہے۔ بال وال سیٹ کرکے چلنے لگا تو میں نے کہا "بیٹا سمر کیمپ شروع ہو رہے ہیں۔ گرمی بہت ہے۔ کل صبح میرے ساتھ چل، تُو بال چھوٹے کروا کے نہیں آیا۔ تیرا فوجی کٹ کراتا ہوں۔ سردیوں میں بڑھا لینا"۔

ایکدم غصہ سا کر گیا اور ناراض ہو کر بولا "بابا، میں بچہ تھوڑی نا ہوں۔ مجھے چھوٹے نہیں کرانے"۔ بیگم بولی "خیر سے آپ کا بیٹا ہے بخاری صاحب، اس عمر سے عاشقی شروع کرے گا تو پھر جا کر آپ جیسا پروفیشنل بنے گا ناں۔ ابھی تو سمر کیمپ شروع ہونا ہے"۔ میں نے کہا کیا مطلب میرے جیسا پروفیشنل؟ بولیں "بچے کے سامنے ضرور سننا چاہتے آپ؟ میں نے خاموش رہنے میں عافیت جانی"۔ بیٹے نے مجھے دیکھ کر دانت نکالے اور کہنے لگا "ماما بابا ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ گرلز کا سیکشن تو ویسے ہی الگ ہوتا ہے۔ ان کا اینٹری گیٹ بھی الگ ہوتا ہے"۔ بیگم صاحبہ بھی پھر دنیا جہاں کا علم سمیٹے ہوئے ہیں۔ بولیں "جی بیٹا جی، مگر وین میں تو اکٹھے آتے جاتے ہیں ناں؟"۔ یہ سنتے ہی بیٹے نے بھی خاموشی سے کھسک جانے میں عافیت جانی۔

اس کے جاتے ہی کہنے لگیں "میری بھی کیا زندگی ہے۔ کالج ختم کیا تو وہ بھی گرلز کالج تھا۔ ماں باپ کے فوت ہونے کے بعد بڑی آپا نے کفالت میں لے لیا۔ گریجوئیشن اسلام آباد سے کی تو وہ بھی گرلز کالج تھا۔ ابھی بی کام مکمل نہیں ہوا تھا کہ آپ آ گئے اور شادی ہوگئی"۔ یہ سُن کر میں نے کہا اب تم کیا کہنا چاہتی ہو؟ بولیں "یہی کہ بیٹے پر نظر رکھنا چھوڑ دیں۔ آخر آپ پر ہی جائے گا"۔ میں نے کہا کہ وہ تو ٹھیک ہے لیکن تمہاری سٹوری اس میں فٹ نہیں بیٹھی، وہ سنانے کا کیا مقصد تھا؟ کہنے لگیں "کچھ نہیں، بس یہی کہ آپ کی رنگا رنگ زندگی کے سامنے میری سٹوری پھیکی سی لگتی"۔

اس کے بعد میں نے بیٹے کو کہا کہ بندہ بن جا، کوئی شکایت نہ آئے۔ بولا "بابا، آپ ماما کی بات کا غصہ اب مجھ پر نکالنے لگے ہیں"۔ میں نے بیگم کو کہا آپ بھی ادھوری بات نہ کیا کریں۔ فوراً وہ میرا بازو تھام کر بیڈ روم میں لے گئیں اور بولی "چپ کر جائیں آپ، بچے کے سامنے آپ کو کیا کہوں۔ یاد ہے سات سال پہلے وہ جب آپ نے اپنی سِم توڑی تھی کہ آئندہ نہیں کرتا؟ اور پھر یاد ہے جب اصغر الیکٹریشن کے نام سے سیو نمبر بھی کسی اور کا نکلا تھا؟ اور پھر وہ جب۔۔ " اس سے پہلے پوری گیت مالا چل پڑتی میں نے غیر مشروط معافی مانگ لی اور باہر نکل کر پودوں کو پانی دینے لگا۔ اندر آیا تو بیگم دیکھ کر بولی "آپ پودوں کو پانی دے رہے تھے یا نہا رہے تھے؟ سارے گیلے ہو گئے ہیں"۔ اب اسے کیا بتاتا کہ ساتھ ساتھ اپنا تالو ٹھنڈا کر رہا تھا تو کپڑے بھی بھیگ گئے۔

میں نے حساب لگایا ہے کہ اگر آپ کی شادی اوائل جوانی بائیس تئیس سال میں ہو چکی ہو تو چالیس سے پینتالیس کے بیچ کا عرصہ ایسا ہوتا ہے جہاں پہنچ کر بندہ نہ بیگم کو کچھ کہہ سکتا ہے (خیر بیگم کو تو کبھی بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا، نتائج کے ذمہ دار آپ ہی ہوں گے) اور بچے بھی بڑے ہو رہے ہوتے ہیں وہ آپ کی سننا نہیں چاہتے۔ کل رات دس بجے کی بات ہے۔ بیگم صاحبہ نے موبائل پر میوزک چلایا ہوا تھا جس میں گلوکارہ فرما رہی تھیں

تیرا پانی وی بھراں گی رانجھیا وے
جیویں کہویں گا کراں گی رانجھیا وے

نجانے کیوں یہ سن کر میری آنکھیں بھر آئیں۔ بہت ضبط کیا لیکن ہوکا سا بھرنا پڑ گیا، ہچکی سی لگ گئی۔ بیگم نے دیکھا تو پریشان ہو کر بولی" آپ کو کیا ہوا؟ خیر ہے؟"۔ میں نے ٹشو اُٹھاتے کہا کچھ نہیں بس اس گانے کے بول دل پر اثر کر گئے ہیں۔ وہ پھر دیر تک زیرِ لب بڑبڑاتی رہیں جن میں سے دو تین لفظ ہی میں سمجھ سکا اور وہ یہاں بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔

Check Also

Waldain Aur Rishton Mein Tafreeq

By Qurratulain Shoaib