Nai Nasal Ke Samajhdar Bache
نئی نسل کے سمجھ دار بچے

آج کے دور کے بچے اور ہمارا بچپن ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ ہمیں تو امی کی ایک سخت نظر ہی کافی ہوتی تھی کہ فوراً سمجھ جائیں معاملہ سنجیدہ ہے، اب بس خاموشی اختیار کر لینی ہے یا وہاں سے ہٹ جانا ہے۔ امی نے کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا، مگر ان کی نگاہوں میں وہ اثر تھا جو ہمیں نظم و ضبط سکھاتا تھا۔ اگر انہوں نے کوئی کام کہا تو "جی امی" کے علاوہ کوئی دوسرا جملہ زبان پر نہیں آتا تھا، "نہیں ہوگا" یا "میرا دل نہیں ہے" جیسے جملے ہمارے تصور میں بھی نہیں تھے۔
اب کے بچے اپنی بات کھل کر کہتے ہیں۔ اگر ان کا موڈ ہو تو کام کریں گے، نہ ہو تو صاف انکار کر دیتے ہیں۔ وہ اظہار میں مضبوط ہیں، جبکہ ہم جذبات کو اندر ہی اندر سہنے والے تھے۔ اگر امی ناراض ہوتیں تو چپ چاپ روتے تھے، وہ بھی چھپ کر۔ میری بیٹی بریرہ جب دیکھتی ہے میں ناراض ہوں تو کہتی ہے: "ماما، آپ ناراض ہوں تو مجھے لگتا ہے دنیا ختم ہوگئی ہے۔ میرے دل اور سینے میں کچھ ہونے لگتا ہے، جیسے کچھ ویووز ہوں اور مجھے رونا آنے لگتا ہے" اور پھر جب وہ شام کو جب میں آفس سے گھر آتی ہوں مجھ سے ملتی ہے تو کہتی ہے: "میں آپ کے ساتھ جینا اور مرنا چاہتی ہوں"۔
پریشان ہو تو کہتی میرے سٹمک میں کچھ گہرا سا عجیب سا ہو رہا ہے۔ میرا دل بند ہو رہا ہے۔ جیسے وہ چل ہی نہیں رہا۔
اتنا اظہار تو ہم نے آج تک نہیں سیکھا۔
جب کبھی میں اسے کوئی کام کہوں تو وہ فوراً ڈیل بنانے لگتی ہے۔ کہتی ہے: "اگر بیسن کا حلوہ بنائیں گی تو سارے کام کروں گی، اگر پیزا بنائیں گی تو بھی۔ اگر وہ چیز خریدنے کا وعدہ کریں گی تو میں ضرور کام کروں گی" اور اگر موڈ نہ ہو تو بے جھجک کہتی ہے: "میرا موڈ نہیں ہے"۔ صرف سات سال کی ہے لیکن اپنی پسند اور ناپسند کا شعور مکمل رکھتی ہے۔ اگر میں کسی کے سامنے اسے کچھ کہہ دوں، حتیٰ کہ اس کے والد کے سامنے بھی، تو برا مانتی ہے اور کہتی ہے: "مجھے پسند نہیں کہ آپ کسی کے سامنے کچھ کہیں"۔ اس لیے اب میں اس کے کان میں آہستہ سے بات کرتی ہوں۔
اسے کیا پہننا ہے، کیا کھانا ہے، سب اس کی مرضی سے ہوگا کیونکہ اس کے مطابق جب چیز اس نے استعمال کرنی ہے تو فیصلہ بھی اس کا ہوگا۔ یہاں تک کہ گھر میں کیا پکے گا، وہ بھی طے کرتی ہے اور یہ طے پایا ہے کہ ایک دن اس کی پسند پر اور ایک دن ہماری پسند پر کھانا بنایا جائے گا۔
ہمیں اسے قائل کرنا ہوتا ہے۔ ڈانٹ یا مار بچے کے اندر اٹھتے سوال کو تشنہ رکھتے ہیں۔
اسے لاجکس دینی ہوتی ہیں کہ ایسا کیوں نہیں یا ایسا کیوں ہے۔ اگر میرے پاس موجود لاجکس سے وہ قائل نہ ہو تو مجھے ہار ماننی پڑتی ہے۔
اور ہمارے دور میں والدین میں بہت انا تھی۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ بچہ بھی درست ہو سکتا ہے۔ وہ یہ ہی سمجھتے تھے کہ والدین ہمیشہ درست ہوتے ہیں۔
جب میں اپنے بچپن کو یاد کرتی ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی پسند ناپسند کا شعور ہی نہ تھا۔ جو پہننے کو ملا، پہن لیا۔ جو کھانے کو ملا، کھا لیا۔ ہم بہت چھوٹی چھوٹی چیزوں میں خوش ہو جاتے تھے۔ اب کے بچوں کو خوش کرنا آسان نہیں۔ ان کے دل جیتنا اور ان کی دنیا میں شامل ہونا، محض کہنے کی بات نہیں رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک اور وقت کے لوگ تھے اور یہ بچے ایک بالکل مختلف وقت میں پیدا ہوئے ہیں۔
بس ایک ہی حل ہے کہ اس جنریشن گیپ کو مٹایا جائے۔ ہم نے جب خود کو ان کی جگہ رکھ کر سوچنا شروع کیا تو محسوس ہوا کہ ان کی باتیں بجا ہیں۔ اگر وہ کوئی لباس پہننا چاہتی ہے تو اس کی مرضی کا پہننے دے کر ہمارا کچھ نہیں بگڑتا۔ اگر وہ اپنی مرضی سے کچھ کھانا چاہتی ہے تو وہ خوشی سے کھائے گی اور اس کے جسم پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔ اگر وہ روز پارک جانا چاہتی ہے تو اسے کھیلنے دینا چاہیے، اس سے کسی کا نقصان نہیں۔
اگر اس کا موڈ ہے وہ برتن دھوئے گی کیا فرق پڑتا ہے کپڑے ہی گیلے کرے گی۔ کپڑے تبدیل ہو جائیں گے۔ بعض مائیں صرف بچے کو اس لیے بھی ایکسپلور نہیں کرنے دیتیں کہ صفائی کرنی پڑے گی۔ کپڑے گندے ہو جائیں گے۔
ہوگا سب کچھ ہوگا لیکن بچے کا وقت نہیں آئے گا۔ اسے کھل کر جی لینے دینے میں کیا قباحت ہے؟
اگر بچے مٹی سے ہاتھ بھر لیتے ہیں تو کیا وہ جس لذت اور خوشی کو محسوس کر رہے ہیں۔ وہ اس صفائی سے بہتر نہیں جس میں وہ اداس بیٹھے ہوں؟
اگر وہ کاغذ کاٹ کاٹ کر پھیلا رہے ہیں تو وہ اس سے خوشی کشید کر رہے ہیں۔
کیا فرق پڑتا ہے چند منٹوں میں۔ صفائی ہو جاتی ہے۔
انھیں خوشیاں کشید کرنے دیں۔ بلا ضرورت روکنے سے کیا حاصل ہوگا۔
ہمارے دور کے اکثر والدین اپنی اولاد کو ان کاموں سے بھی روکتے تھے جن سے کوئی نقصان نہیں تھا۔ کیا پہننا ہے، کیا کھیلنا ہے، کیا پڑھنا ہے، سب کچھ ان کی مرضی سے طے ہوتا تھا۔ ان کے بچوں رجحانات کیا ہیں انھیں سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی تھی۔
میری والدہ کہا کرتی تھیں کہ چھوٹے بچے کو چھوٹا مت سمجھیں، اس کی عزتِ نفس اتنی ہی اہم ہے جتنی کسی بڑے کی، اس کے جذبات بھی اتنے ہی قیمتی ہوتے ہیں۔ وہ صرف جسمانی طور پر چھوٹا ہوتا ہے۔
اب جب میں بریرہ کو دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ امی ٹھیک کہتی تھیں۔ ہمارے بچے تو ہماری ذہنی سطح پر آ چکے ہیں۔ بلکہ کئی معاملات میں ہم سے ایک قدم آگے ہیں۔ بریرہ کے مشورے بعض اوقات اتنے پختہ اور مکمل ہوتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔
اگر ہم نے وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر بچوں کے ساتھ چلنا سیکھ لیا تو یہ نسل صحت مند، باشعور اور خوشحال ہوگی۔ اگر نہ سیکھا تو ایک بڑے بگاڑ کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

