Hamari Qismat Kharab Nahi, Hamari Adatein Kharab Hain
ہماری قسمت خراب نہیں، ہماری عادتیں خراب ہیں

اکثر جب زندگی میں مشکلات آتی ہیں، صحت خراب ہوتی ہے، گھروں میں بے سکونی ہوتی ہے یا کسی کام میں کامیابی نہیں ملتی تو ہم فوراً ایک جملہ کہہ دیتے ہیں: "میری قسمت ہی خراب ہے"۔ مگر کیا ہم نے کبھی خود سے یہ سوال کیا کہ واقعی قسمت خراب ہے یا ہماری حرکتیں خراب ہیں؟
ہم رات گئے تک جاگتے ہیں، وقت پر نہیں سوتے، وقت پر نہیں اٹھتے، کھانے پینے میں بے احتیاطی کرتے ہیں، بیماری کے باوجود وہی چیزیں کھاتے ہیں جو نقصان دیتی ہیں، جسم کو آرام نہیں دیتے، پھر جب صحت خراب ہوتی ہے تو شکوہ قسمت سے کرتے ہیں۔ کیا یہ انصاف ہے؟
ہماری نمازیں قضا ہو جاتی ہیں، قرآن سے تعلق کمزور پڑ جاتا ہے، دعا صرف مشکل کے وقت یاد آتی ہے، ذکرِ الٰہی سے دل خالی رہتا ہے اور پھر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں سکون بھی ہو، رزق میں برکت بھی ہو اور زندگی میں آسانیاں بھی ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں کامیابی کے راستے بتا دیے ہیں، مگر اگر ہم خود ان راستوں پر نہ چلیں تو اس کا الزام قسمت کو کیسے دیا جا سکتا ہے؟
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے۔ وہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ اس کا بندہ تکلیف میں رہے یا اپنی زندگی برباد کر لے۔ اللہ تعالیٰ تو چاہتا ہے کہ ہم اعتدال کے ساتھ زندگی گزاریں، اپنے جسم کا بھی خیال رکھیں، اپنی روح کا بھی، اپنے فرائض بھی ادا کریں اور دوسروں کے حقوق بھی۔
یاد رکھیے! ہمارا جسم بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک امانت ہے۔ اس کی حفاظت کرنا، اسے صحت مند رکھنا، مناسب آرام دینا، اچھی غذا کھانا اور بیماری کی صورت میں علاج کروانا بھی عبادت ہے، اگر نیت اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو۔
اپنی زندگی پر غور کیجیے۔ وقت پر سوئیں، وقت پر جاگیں، نماز کو اپنی اولین ترجیح بنائیں، قرآن سے مضبوط تعلق قائم کریں، دعا کو اپنی عادت بنائیں، اپنے والدین، اہلِ خانہ اور دوسروں کا خیال رکھیں اور اپنے جسم کی حفاظت بھی اللہ کی رضا کے لیے کریں۔
یقین جانیے! یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں زندگی میں بڑی آسانیوں کا سبب بنتی ہیں۔ ہر کام اللہ کی رضا کے لیے کیجیے، چاہے وہ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا ہو، کسی پریشان شخص کی دلجوئی کرنا ہو یا اپنے جسم اور صحت کا خیال رکھنا ہی کیوں نہ ہو۔
آج سے قسمت کو کوسنے کے بجائے اپنے اعمال کا جائزہ لیجیے۔ جب اعمال بدلتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے حالات بھی بدل دیتا ہے۔ اس لیے شکوہ قسمت سے نہیں، اصلاح اپنی ذات سے شروع کیجیے، کیونکہ اکثر ہماری قسمت خراب نہیں ہوتی، ہمارے اعمال ہماری زندگی کا رخ متعین کر رہے ہوتے ہیں۔
اللہ تعالی ہمیں اس کی عطا کر دی امانت کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اس راستے پہ چلائے جسے وہ پسند کرتا ہے اور اس راستے سے بچنے کی توفیق عطا کرے جس سے بھی وہ ناراض ہوتا ہے۔

