Wednesday, 03 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. America Iran Muzakrat Mein Kon Se Panch Masail Sab Se Aham Hain?

America Iran Muzakrat Mein Kon Se Panch Masail Sab Se Aham Hain?

امریکا ایران مذاکرات میں کون سے پانچ مسائل سب سے اہم ہیں؟

ساری دنیا کی نگاہیں پاکستان کی مدد سے جاری امریکا ایران مذاکرات پر لگی ہیں، جو کبھی آگے بڑھتے ہیں اور کبھی ان میں تعطل آجاتا ہے۔ کوئی ایک تنازع ہوتا تو شاید اسے طے کرنا آسان ہوتا لیکن دونوں ملکوں کے تعلقات میں پیچیدگی اور مسائل کی کثرت نے مذاکرات کی کامیابی کو مشکل بنادیا ہے۔ عالمی میڈیا، تھنک ٹینکس اور تجزیہ کار ان مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں، جن کی وجہ سے کوئی فریق کسی حل پر رضامند نہیں ہورہا۔

سب سے اہم مسئلہ ایران کے جوہری پروگرام کا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکا اور اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کے پاس موجود اعلیٰ درجے تک افزودہ یورینیم مستقبل میں جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران نہ صرف اپنے موجودہ ذخائر سے دستبردار ہو بلکہ آئندہ طویل عرصے تک افزودگی کی سرگرمیوں کو بھی محدود کرے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی حاصل کرنا اس کا حق ہے اور وہ مکمل طور پر اپنے جوہری ڈھانچے سے دستبردار نہیں ہوسکتا۔ فریقین کے بیانات میں اب بھی اختلاف پایا جاتا ہے کہ ایران اپنے موجودہ یورینیم ذخائر کے ساتھ کیا کرے گا۔

دوسرا بڑا مسئلہ آبنائے ہرمز ہے، دوسرے ملکوں کے لیے سب سے بڑا بحران ہے۔ یہ بحری راستہ دنیا کی توانائی کی رسد کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک تجارتی سرگرمیاں متاثر ہیں، جس کے سبب عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ امریکا اس کی بحری ناکابندی ختم کرے جبکہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر دوبارہ مکمل طور پر کھول دے۔

یہی نکتہ اکانومسٹ کے مضمون میں بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ جریدے کے مطابق مجوزہ معاہدے کا اہم مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور توانائی کی ترسیل کو معمول پر لانا ہے۔ لیکن صرف سیاسی معاہدہ کافی نہیں ہوگا۔ بحری جہازوں، انشورنس کمپنیوں اور توانائی کی پیداوار کو دوبارہ معمول پر آنے میں کئی ہفتے بلکہ مہینے لگ سکتے ہیں۔ اس لیے اگر معاہدہ ہوجائے تب بھی معاشی استحکام فوری طور پر واپس نہیں آئے گا۔

تیسرا مسئلہ ایرانی اثاثوں کا ہے جو برسوں سے مختلف ممالک میں منجمد ہیں۔ ایران چاہتا ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں اربوں ڈالر کے یہ اثاثے اسے واپس ملیں تاکہ اس کی معیشت کو سہارا مل سکے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ایرانی حکام تقریباً پچیس ارب ڈالر کے اثاثے واپس حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں، جبکہ امریکی حکام فی الحال اس حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے جوہری معاملات میں پیشرفت کو اس کی پیشگی شرط قرار دیا ہے۔

اکانومسٹ کے مطابق یہی نکتہ مذاکرات میں سب سے زیادہ تنازع پیدا کررہا ہے۔ ایران فوری معاشی فوائد چاہتا ہے جبکہ امریکا مرحلہ وار رعایتیں دینے کا خواہش مند ہے۔ واشنگٹن بعض پابندیوں میں نرمی یا محدود تیل برآمدات کی اجازت دینے پر غور کرسکتا ہے، لیکن وہ ایک ہی وقت میں تمام معاشی پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔

چوتھا مسئلہ ایران کی پروکسیز یعنی علاقائی اتحادی گروہوں کا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی اور عراق میں مختلف مسلح تنظیمیں کئی برس سے ایران کی علاقائی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ معاہدے کے نتیجے میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر لڑائی رکنی چاہیے۔ لیکن امریکی حکام نے اب تک ان گروہوں کو مذاکراتی ایجنڈے کا واضح حصہ قرار نہیں دیا۔

پانچواں اور شاید سب سے حساس مسئلہ ایران کا میزائل پروگرام ہے۔ اسرائیل اور خلیجی ممالک طویل عرصے سے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو اپنے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ موجودہ مذاکرات میں یہ موضوع پس منظر میں چلا گیا ہے اور زیرِ غور مجوزہ معاہدے میں میزائل پروگرام کو براہِ راست شامل نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل میں ایسے کسی معاہدے کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں جو جوہری پروگرام پر تو کچھ پابندیاں لگائے لیکن میزائل صلاحیت کو برقرار رہنے دے۔

اکانومسٹ کے مطابق اگر کوئی معاہدہ طے پا بھی جاتا ہے تو وہ غالباً حتمی سمجھوتہ نہیں ہوگا بلکہ مزید مذاکرات کے لیے ایک عبوری فریم ورک ہوگا۔ اصل تفصیلات بعد کے مذاکرات میں طے ہوں گی۔ جریدے نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ امریکی داخلی سیاست اس عمل پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی صدارت میں 2015 کے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے بعد اب نئے معاہدے کی کوشش ان کے اپنے حامیوں میں بھی اختلافات پیدا کررہی ہے۔ بعض ریپبلکن رہنما اسے ناکافی سمجھتے ہیں اور بعض مزید فوجی تصادم کے خطرات سے گریز کے حق میں ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات صرف ایک جوہری تنازع کے حل کی کوشش نہیں بلکہ پورے خطے کے سیاسی اور معاشی مستقبل کا تعین کرنے والی مشق ہیں۔ جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز، پابندیاں، علاقائی اتحادی اور میزائل صلاحیت، یہ پانچوں موضوعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر کسی عبوری معاہدے ہی کا اعلان ہوجائے تو وہ مشرقِ وسطیٰ کو مزید جنگ سے بچانے اور عالمی معیشت کو استحکام فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

Check Also

America Iran Muzakrat Mein Kon Se Panch Masail Sab Se Aham Hain?

By Mubashir Ali Zaidi