Naqar Khane Mein Phir Aik Awaz
نقار خانے میں پھر ایک آواز

گزشتہ روز ایک ساٹھ سالہ بابا جی کو بھائی حسن اورنگزیب کی تقریر کے دوران سٹیج کے پیچھے کھڑے دیکھا جو ہر تھوڑی دیر بعد حاضرین کو اکسا کے تالیاں بجوا رہے تھے۔ یہ مری کی یونین کونسل روات میں ایک سیاسی اجتماع تھا جس میں وہاں کے مقامی نوجوان میرے عزیز سردار اویس اکرام، صوبائی اسمبلی کے رکن بلال یامین ستی و دیگر مقامی مسلم لیگی رہنماؤں کے ہمراہ اپنے آئندہ کے بلدیاتی عزائم کے تحت منصوبہ جات کا اعلان کر رہے تھے۔ اس اجتماع میں تقریباً 34 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز کا اعلان بھی کیا گیا جن میں سڑکوں، واٹر سپلائی، فٹ پاتھوں اور دیگر عوامی منصوبوں کا ذکر کیا گیا۔
یہ باباجی اور تالیاں بجاتے حاضرین کوئی نیا منظر نہیں۔ 1960کی دہائی کے ایوب کی بنیادی جمہوریت کے نظام سے لے کر آج تک پاکستان کے طول و عرض، دیہی و شہری علاقوں میں ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بابا جی نے بھی اپنے بچپن سے سیاسی لوگوں کے وعدوں پہ ایسے ہی اپنے بزرگوں کو تالیاں بجاتے دیکھا ہوگا۔
اس کے ساتھ ہی جڑی گزشتہ چند روز سے دوسری خبر یہ گردش کر رہی ہے کہ ملک میں بلدیاتی نظام کو مستقل اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ مستقبل میں بلدیاتی نمائندوں کو براہِ راست ترقیاتی فنڈز دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی اپنی یونین کونسلوں اور مقامی آبادی کی مشاورت سے ترقیاتی منصوبے ترتیب دے سکیں۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند پیش رفت محسوس ہوتی ہے کیونکہ مقامی مسائل سے مقامی لوگ ہی زیادہ واقف ہوتے ہیں۔
یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن اصل سوال اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔
کیا صوبائی و بلدیاتی سطح پہ ترقیاتی منصوبے واقعی اسی طرح ترتیب دیے جانے چاہئیں؟ کیا چند مقامی افراد، برسر اقتدار سیاسی کارکنوں یا بااثر شخصیات کی مشاورت سے یہ فیصلہ ہونا چاہیے کہ کون سی سڑک بنے گی، پانی کہاں سے آئے گا، کس گاؤں میں کتنے پیسے خرچ ہوں گے اور کون سی عمارت تعمیر ہوگی؟ اعتراض اس پہ بھی نہیں ہے۔ اعتراض یہ کہ کیا ان فیصلوں کے پیچھے کوئی ایسا مربوط، سائنسی اور ادارہ جاتی نظام نہیں ہونا چاہیے جو پورے علاقے کی آئندہ بیس، تیس یا پچاس سال کی ضروریات کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کرے؟
مجھے لندن میں اپنے چھوٹے بھائی کی بے بسی یاد آ گئی۔ اس کے گھر میں وسیع گیراج موجود تھا، مگر اس کے آگے ایک سرکاری فٹ پاتھ حائل تھا جو تقریباً چھ انچ اونچا تھا اور اس کے ساتھ اسفالٹ کا ایک چھوٹا سا سلوپ بنانا مقصود تھا، تا کہ گاڑی گیراج میں چڑھائی جا سکے۔ مگر اس سارے عمل کے لئے مقامی کونسل میں ایک درخواست دائر کرنا مقصود تھی جس کے ساتھ پانچ سو پاؤنڈز کی فیس لگنی تھی، جس کے بعد کونسل کے عملے نے آ کے موقع ملاحظہ کرنا تھا اور کام کروانا تھا۔ یہ ساری بات مجھے تب پتہ چلی جب میں نے بھائی کو یہ کہا کہ یہ تو دو گھنٹے کا کام ہے، مزدور اور میٹریل لا کے خود کیوں نہیں کر لیتے۔
روات کا جلسہ اور 34 کروڑ کے ترقیاتی اعلانات دیکھ کے مجھ عاجز کو لندن یاد آ گیا۔ برطانیہ اور یورپ کے شہروں میں مقامی کونسلیں، شہری منصوبہ ساز، انجینئرز، ماہرین ماحولیات، ٹرانسپورٹ ماہرین، آبادیاتی تجزیہ کار اور مالیاتی ماہرین مل کر ایسے ترقیاتی کاموں کے لئےطویل المدتی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ وہاں ہر علاقے کے لیے مقامی ترقیاتی فریم ورک، ماسٹر پلان اور اسٹریٹجک پلاننگ دستاویزات موجود ہوتی ہیں جو عام طور پر 15 سے 30 سال کے افق کو مدنظر رکھ کر تیار کی جاتی ہیں۔
اگر کسی علاقے میں نئی سڑک بنانی ہو تو صرف سڑک کی موجودہ ضرورت نہیں دیکھی جاتی بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اگلے بیس سال میں آبادی کتنی بڑھے گی، ٹریفک کا دباؤ کتنا ہوگا، نئی رہائشی آبادیاں کہاں قائم ہوں گی، پانی، سیوریج، بجلی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام پر اس کا کیا اثر پڑے گا اور آیا یہ منصوبہ اردگرد کے علاقوں کی ترقیاتی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہے یا نہیں۔
اس مقصد کے لیے تفصیلی سروے کیے جاتے ہیں، ٹریفک ماڈلنگ کی جاتی ہے، جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS) استعمال کیے جاتے ہیں، ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور پھر منصوبے کو متعدد سطحوں پر جانچا جاتا ہے۔ مقامی آبادی سے مشاورت ضرور کی جاتی ہے لیکن صرف مشاورت ہی فیصلہ کن عنصر نہیں ہوتی۔ مقامی خواہشات کو تکنیکی، مالی اور قانونی معیارات کے ساتھ ملا کر دیکھا جاتا ہے۔
برطانیہ میں کسی بھی منصوبے کے تمام نقشے، تخمینے، منظوریوں کی تفصیلات، ماحولیاتی رپورٹس اور فنی دستاویزات محفوظ رکھی جاتی ہیں۔ یہ ریکارڈ نہ صرف ہارڈ کاپی بلکہ ڈیجیٹل شکل میں بھی محفوظ ہوتا ہے تاکہ مستقبل میں آنے والے منصوبے ماضی کے فیصلوں کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آج لندن میں کسی سڑک، واٹر لائن یا پبلک ٹرانسپورٹ منصوبے کو دیکھیں تو وہ اکثر کئی دہائیوں پر محیط ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ نظر آتا ہے۔
ہمارے ہاں تمام ترقیاتی منصوبے سیاسی ادوار، انتخابی ضروریات یا مقامی دباؤ کے تحت تشکیل پاتے ہیں۔ پاکستان کی مسلسل بے ترتیب آبادیوں میں ہر دور میں ایک بے ربط سی سڑک بن جاتی ہے، دوسرے دور میں اسے دوبارہ توڑ کر نئی تعمیر شروع ہو جاتی ہے۔ کہیں واٹر سپلائی سکیم بن جاتی ہے لیکن مستقبل کی آبادی کا تخمینہ شامل نہیں ہوتا۔ کہیں فٹ پاتھ بن جاتا ہے مگر چند سال بعد کسی اور منصوبے کے لیے دوبارہ اکھاڑ دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سرکاری وسائل خرچ ہوتے رہتے ہیں لیکن ان کے ثمرات مطلوبہ سطح پر سامنے نہیں آتے۔
کیا کبھی کوئی وقت آئے گا کہ پاکستان میں بھی قومی، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر ایک مربوط منصوبہ بندی کا نظام قائم کیا جائے جس میں ہر ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کے لیے طویل المدتی ماسٹر پلان موجود ہو۔ ہر نئی سکیم اسی ماسٹر پلان کے مطابق منظور کی جائے۔ سیاسی قیادت عوامی ضروریات کی نشاندہی ضرور کرے لیکن منصوبوں کی فنی جانچ، ترجیحات کا تعین اور وسائل کی تقسیم ادارہ جاتی بنیادوں پر ہو۔
سوال یہ نہیں کہ 34 کروڑ روپے خرچ ہوں گے یا 340 کروڑ روپے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ رقم کس وژن کے تحت خرچ ہوگی۔ اگر منصوبہ بندی بیس یا تیس سال آگے دیکھ کر کی جائے تو نسبتاً کم وسائل بھی غیر معمولی نتائج دے سکتے ہیں۔ لیکن اگر منصوبے صرف وقتی سیاسی ضروریات یا مقامی دباؤ کے تحت بنتے رہیں تو اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود مطلوبہ ترقی حاصل نہیں ہو سکے گی۔
مگر پھر جب مجھے پاکستان اور پاکستانیوں کا سکہ رائج الوقت نظام یاد آیا ایک طرف ڈرائنگ روم میں بیٹھے چند نابغہ نوجوان نظر آئے جو اپنی فہم کے مطابق اپنے ووٹرز کی ترجیحات کے مطابق ترقیاتی منصوبے بنا رہے ہیں اور دوسری طرف قومی سطح پر شہباز شریف صاحب کے کان میں امیر مقام صاحب جلسے کے سٹیج پہ سرگوشی کرتے نظر آئے ہیں جسےسن کے وہ مانسہرہ کے پہاڑوں سے آگے ڈھائی سو ارب کے ایک اور موٹر وے کا اعلان کر دیتے ہیں۔ جب کہ اسی روز ایک اور اہم ترین چنیوٹ ڈیم منصوبہ موٹر وے کی ترجیح پہ کہیں کاغذوں میں دفن ہو جاتا ہے۔
برطانیہ کا نظام مجھے اچھا لگا تو تجویز کر دی۔ مگر مجھے معلوم ہے یہ یہ بحث لاحاصل ہے۔ گورے ہمیں جو لولا لنگڑا نیم جمہوری نظام اور "خوبصورت بیوروکریسی" دے کے چلے گئے ہیں، اس کے ہوتے ہوئے ایسی باتیں سوچنا عبث ہے۔ حکمرانوں کو رائیونڈ اور بلاول ہاؤس کی تاحیات عملداری یقینی بنانے کے لئے یہی نظام سوٹ کرتا ہے۔ مشرف نے مجسٹریسی نظام کو ختم کرنے اور بلدیاتی نظام کے تابع کرنے کی ایک نیم دلانا سی کوشش کی تھی مگر وہ بعد میں ہمارے ہر دلعزیز تاحیات سیاستدانوں نے پھر لپیٹ دی کہ اس سے ان کے "سویٹ ول" اور "گو گیٹر" عزائم میں رکاوٹ حائل ہوتی تھی۔
شائید میری یہ تجویز اس نقار خانے میں ابھی بے وقت ہے، ممکن ہے بیس تیس سال بعد قوم اس کی افادیت کو جانے، لہذا فی الوقت اسے واپس لیتا ہوں، کہیں اس پہ خدا نخواستہ عمل ہوگیا تو بلدیہ مری کے خونخوار انسپکٹر پھر گاؤں گاؤں دہاڑیاں لگاتے نظر آئیں گے۔ ابھی بہتر ہے کچھ دہائیاں اور ہم اسی تنخواہ پہ کام کرتے رہیں۔ فلحال نوجوان عزیز سردار اویس کی کامیابی کے لئے دعا گو ہوں۔

