Habib Jalib
حبیب جالب

لاہور شہر کبھی ثقافت، تہذیب اور شاعری کا مرکز تھا جو آج ایک ایسی خوابیدہ سی حقیقت لگتا ہے کہ خود شہر بھی اپنے وجود پر شک کرتا ہے۔ یہاں سبزہ زار ہاؤسنگ اسکیم ہے جو کبھی اپر مڈل کلاس کا خواب تھی۔ سبزہ زار موٹر وے، ملتان روڈ اور بند روڈ کے بیچ قید ایک ٹکڑا ہے جہاں راستے ٹوٹے ہوئے اور ہر قدم پر خواب کی بجائے ٹریفک کا شور اور نالے کی بدبو موجود ہے۔ اسی سبزہ زار میں ایک قبرستان ہے۔ شاہ فرید۔ جو ٹریفک، شور اور دھوئیں کے درمیان ایک خاموش جزیرہ معلوم ہوتا ہے۔ یہاں صوفی روایت بھی ہے اور لوک داستان بھی۔ اسی قبرستان کے ایک کونے میں عوام کا شاعر، حبیب جالب آسودۂ خاک ہے۔
یہ محض ایک شاعر کی قبر نہیں یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا زندہ استعارہ ہے۔ جالب اس لاہور کی آواز تھے جو طاقت کے بیانیے سے انکار کرتا رہا۔ وہ شہر جو ایوب خان کی آمریت کے خلاف بولتا رہا۔ جو ریڈیو پاکستان کے سرکاری مشاعرے میں آنسو گیس اور گولیوں کی بات کرتا رہا
صر صر کو صبا، ظلمت کو ضیا، بندے کو خدا کیا لکھنا
جو ضیائی آئین کو ماننے سے انکار کرتا رہا اور "دستور" نظم کہہ کر پورے نظام کو چیلنج کرتا رہا۔
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
جالب کی شاعری ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان میں آمریت ہمیشہ ترقی، نظم و ضبط اور نجات دہندہ کے نام پر آئی۔ ایوب خان ہو یا ضیاء الحق، یا بعد کے وردی پوش۔ ہر دور میں ایک مسیحا تراشا گیا اور عوام نے بار بار اس فریب کو قبول کیا۔ آج بھی یہ رجحان ختم نہیں ہوا۔ سیاستدان ہوں یا اسٹیبلشمنٹ، ایک فرد، ایک نجات دہندہ، ایک مضبوط ہاتھ۔ یہی بیانیہ بار بار لوٹ آتا ہے۔ ہر سیاسی یا عسکری قائد کے گرد "واحد حل" کا ہالہ کھینچا جاتا ہے۔
جالب کا کمال یہ تھا کہ وہ صرف فوجی آمریت کے خلاف نہیں تھے، وہ منافقت کے خلاف تھے وہ شخصی آمریت یا سول ڈکٹیٹرشپ کے بھی خلاف تھے۔ انہوں نے بھٹو صاحب کو بھی نہ بخشا اور ان کو ناراض کر بیٹھے۔ بینظیر آئیں تو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اس وقت کے سیاسی حالات دیکھتے ہوئے کہہ ڈالا
ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے
یہ نظم جنگل کی آگ مافق عوام الناس میں پھیل گئی اور پھر جب بینظیر سے مایوس ہوئے تو فرمایا
وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
جالب کو ایوب خان نے فاطمہ جناح کے حق میں بولنے کی پاداش میں جیل میں ڈالا۔ بھٹو صاحب بگڑے تو انہوں نے جیل میں ڈالا۔ جنرل ضیا نے جیل میں ڈالا۔ بینظیر ان سے خفا رہیں۔ وجہ بس یہ کہ بقول جالب " مجھے ہر کسی نے خریدنے کی کوشش کی اور میں آزاد منش انسان تھا"۔ اگر جالب چاہتا تو اپنی زندگی میں وہ بھی سرمایہ دار بن سکتا تھا۔ ایوب خان، یحییٰ خان اور ضیاالحق کے 25 سالہ دورِ اقتدار میں اسے ہر طرح کے لائسنس پرمٹ اور ٹھیکے مل سکتے تھے۔ یوں تو نواب کالا باغ بھی کہا کرتے تھے کہ ہر شخص کی ایک قیمت ہوتی ہے مگر وہ بھی اپنی لاکھ کوششوں کے باوجود ایک مفلس شاعر حبیب جالب کو خرید نہیں سکے۔ آج حبیب جالب ہر سیاسی جماعت کے جلسے میں پڑھا جاتا ہے مگر اس کی روح کہیں گم ہے۔
سبزہ زار کا قبرستان، شاہ فرید کا مزار اور حبیب جالب کی قبر۔۔ یہ تینوں مل کر لاہور کی اصل کہانی سناتے ہیں۔ یہ شہر صرف طاقت کا مرکز نہیں، یہ مزاحمت کی سرزمین بھی تھا۔ مگر افسوس، جالب کے بعد ہر سیاسی لیڈر نے اس مزاحمت کو صرف اشعار گنگنانے یا پڑھنے تک محدود رکھا۔ جالب کی مزاحمتی شاعری ان کی سیاسی زندگی پر بہت مفصل مضمون باندھا جا سکتا ہے لیکن میرا مدعا اس لاہور کا ذکر تھا جس کی فضا میں مزاحمتی شاعری گونجتی تھی۔ جو اب کہیں کھو چکا ہے۔

