Saturday, 13 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Zafar Syed
  4. Ambar Bail Ki Uljhi Bailen (1)

Ambar Bail Ki Uljhi Bailen (1)

"امبربیل" کی الجھی بیلیں (1)

جیسے کوئی دریا بہتے بہتے دو مختلف حصوں میں تقسیم ہو جائے اور اس کے بعد الگ الگ دھاروں میں سمندر کی جانب سفر جاری رکھے، بالکل ایسا ہی اردو کی ایک کہانی کے ساتھ ہوا جو نہ صرف اردو فکشن بلکہ شاید بین الاقوامی فکشن کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا واحد واقعہ نہ سہی، انوکھا معاملہ ضرور ہے۔

یہ کہانی بھی کوئی عام کہانی نہیں بلکہ امبربیل، ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ 1970 کے عشرے میں اردو دنیا کی سب سے مقبول کہانی تھی جس کا ہر مہینے دسیوں لاکھ لوگ شدت سے انتظار کیا کرتے تھے۔

امبربیل، کو دو مختلف ادیبوں نے لکھنا شروع کیا تھا، پھوٹ پڑنے کے بعد دونوں نے اپنے اپنے انداز میں اسی کہانی کو آگے بڑھایا۔

اس واقعے کی تفصیل یہ ہے کہ امبربیل، سب رنگ ڈائجسٹ میں شائع ہونے والی ایک سلسلے وار کہانی ہے جو جون 1974سے لے کر مارچ -اپریل 1980 تک قسط وار چھپتی رہی اور اپنے رولر کوسٹر پلاٹ، تند و تیز مکالموں، دھواں دار ایکشن اور مار دھاڑ سے بھرپور سنسنی خیز مناظر، رومانی ذیلی پلاٹس اور حقیقت میں دیومالا کے تڑکے کی بنا پر اردو پڑھنے والوں کو اپنا گرویدہ بنا گئی اور ہر مہینے اس کی اگلی قسط کا انتظار کرنا دوبھر ہوگیا۔

پھر سب رنگ کے پرچوں کا درمیانی وقفہ بڑھنے لگا۔ قارئین واویلا مچاتے رہے مگر ماہنامہ سب رنگ سہ ماہی، شش ماہی اور پھر سالنامہ بنتا چلا گیا۔ آخر 1980 میں امبربیل، کا سلسلہ یک قلم ٹوٹ گیا۔ اس کی وجہ سب رنگ کے مدیر شکیل عادل زادہ نے یہ بتائی کہ وہ دنیا کے مقبول ترین اردو پرچے کے مدیر کی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ ہر شمارے میں دو مستقل سلسلے نہیں لکھ سکتے۔ (دوسرا سلسلہ بازی گر، تھا جو امبربیل، ہی کی طرح مقبول تھا۔)

جب امبربیل، بند ہوا تو اس زمانے میں سب رنگ کی اشاعت ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔ غالباً آج تک کسی اردو رسالے، پرچے اور اخبار کو وہ والہانہ قبولیت اور دیوانہ وار پذیرائی نہیں ملی جو سب رنگ کے نصیب میں آئی۔ اپنے دور کے چوٹی کے ادیب اس میں چھپنا اعزاز سمجھتے تھے۔ ایک پوری نسل عالمی ادب کے سرخیل ادیبوں سے سب رنگ کے 104 پرچوں کی وساطت سے روشناس ہوئی: چیخوف، موپساں، ٹالسٹائی، کافکا، پشکن، ماہم، جیک لنڈن، ایڈگر ایلن پو، سٹیونسن، مارک ٹوین، ایچ ایچ منرو، نجیب محفوظ اور بہت سے دوسرے۔ دوسری طرف اردو کے لگ بھگ تمام اہم ادیب مثلاً منٹو، بیدی، غلام عباس، اشرف صبوحی، سید رفیق حسین، نیر مسعود، کرشن چندر، عصمت چغتائی، شوکت صدیقی، احمد ندیم قاسمی، بلونت سنگھ، ابوالفضل صدیقی، عبدالستار صدیقی، ممتاز مفتی، اشفاق احمد، حاجرہ مسرور، خدیجہ مستور، سید محمد اشرف، نیلوفر اقبال وغیرہ سب رنگ میں شائع ہو کر کروڑوں لوگوں تک پہنچے۔

امبربیل، کے تعطل کے ساتھ ہی شکیل صاحب نے وعدہ کیا کہ جلد ہی اس لڑی کو دوبارہ وہیں سے جوڑ دیا جائے گا جہاں سے یہ ٹوٹی تھی۔ یہ بھی کہا کہ اس کی اگلی قسطیں لکھ لی گئی ہیں، مگر لوگ سر مارتے رہے، اگلی قسط کو پھر سب رنگ کا منھ دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔

آخر لگ بھگ دو عشروں بعد پتہ چلا کہ کسی انوار صدیقی نے مارچ 2001 میں امبربیل، کو کتابی شکل میں چار حصوں میں شائع کروا دیا ہے، جس کے کل صفحات کی تعداد ڈیڑھ ہزار کے قریب بنتی ہے۔

مجھ سمیت بہت سے لوگوں کو اچنبھا ہوا کہ یہ انوار صدیقی کہاں سے آن دھمکے؟

سب رنگ میں جب امبربیل، شائع ہوتا تھا اور اس پر کسی مصنف کی بجائے کہانی کے راوی یعنی میر جمشید عالم کا نام درج ہوتا تھا۔ ہم سمیت بہت سے آشفتگانِ سب رنگ، سمجھتے تھے کہ یہ شکیل عادل زادہ کی تصنیف ہے، کیوں کہ انداز ہوبہو اسی آوازِ پا کا تھا۔ بعد میں کئی جگہ چھپا کہ انوار صاحب کچا پکا مسودہ بھیجتے تھے، شکیل اسے ری رائٹ کرکے چھاپتے تھے۔ انوار صدیقی کی کتاب میں عین مین وہی ڈائجسٹ والا متن ہے، مزید یہ کہ انوار صدیقی نے پیش لفظ میں چند عجوبہ باتیں لکھی ہیں، جن میں یہ تردید بھی شامل ہے کہ امبربیل، میں ان کے علاوہ کسی اور کا بھی قلم لگا ہے۔ وہ کہتے ہیں 19ویں قسط تک میں خود لکھتا رہا، پھر کارواں سے الگ ہوگیا۔ مزید لکھا کہ وہ دانشور جو امبربیل، کو مکمل کرنے کا دعویٰ کر رہے تھے بہت جلد تھک کر بیٹھ گئے، پسینے پسینے ہو گئے۔ لشتم پشتم تین چار قسطوں کا مرچ مصالحہ قارئین کی نگاہوں میں جھونکا گیا، پھر سارا طنطنہ ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا۔۔

انوار صدیقی صاحب کا دعویٰ جو بھی رہا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ امبربیل، کی تخلیق کی کہانی بھی اسی کی طرح گنجلک ہے۔ عاشقِ سب رنگ، حسن رضا گوندل صاحب کے مطابق شروع کی چند قسطیں انوار صاحب نے ضرور لکھیں، اس کے بعد ہر قسط کے لیے پانچ افراد پر مبنی ایک منڈلی سر جوڑ کر بیٹھتی اور اگلی قسط کے تانے بانے بنتی تھی، جس میں مدیر سب رنگ کے علاوہ انوار صدیقی، حسن ہاشمی اور دو دوسرے احباب ہوا کرتے تھے۔ یہاں جو خاکہ بنتا تھا، انوار صاحب اسے لکھ کر لاتے تھے، جسے مدیر سب رنگ شکیل عادل زادہ سنوار سدھار نکھار کر شائع کر دیتے تھے۔ یہ سلسلہ 19ویں قسط تک جاری رہا، لیکن پھر انوار صاحب اپنا مرغا بغل میں داب کر الگ ہو گئے۔ جاتے جاتے یہ کہتے گئے کہ اس میں تو میرا کچھ رہا ہی نہیں۔ اس کے بعد کی قسطیں پوری کی پوری شکیل عادل زادہ نے لکھیں۔

اب کلامِ شاعر بزبانِ شاعر بھی سن لیجیے: شکیل عادل زادہ نے ایک انٹرویو میں بتایا، امبربیل شروع انہوں نے (یعنی انوار صاحب نے) ضرور کی تھی، بعد کی سب میں نے لکھی۔ سنا ہے انہوں نے کسی پبلشر سے 90 ہزار روپے لے کر اس کی آخری قسط لکھ دی اور اس کے پیش لفظ میں میری برائی بھی کی۔ میں نے ان کا مسودہ اور اپنا مسودہ محفوظ کیا ہوا ہے۔ ہم تو اسے پورا پورا ری رائٹ کیا کرتے تھے۔ ایک بار ناراض ہو کر انہوں نے پیسے بھی واپس کر دیے تھے کہ اگر تم لکھتے ہو، تو میں پیسے کیوں لوں۔ یہ بھی ثبوت ہے۔۔

گوندل صاحب کے مہیا کردہ اعداد و شمار کے مطابق 19ویں قسط تک کل 456 صفحے بنتے ہیں، جب کہ اس کے بعد بھی امبربیل 11 قسطوں تک چلتی رہی۔ قسطیں کم سہی، لیکن بعد کی قسطیں زیادہ طویل ہوتی گئی تھیں۔ جہاں پہلے پندرہ بیس صفحے کی قسط ہوا کرتی تھی، انوار صاحب کی علیحدگی کے بعد یہ سلسلہ پچاس ساٹھ صفحوں تک درازہوتا چلا گیا، بلکہ ایک قسط تو 111صفحوں تک پھیل گئی۔ اس طرح شکیل صاحب کے لکھے گئے صفحات کی تعداد 550 کے قریب بنتی ہے، جب کہ یہ صفحے بھی بڑے ہیں اور ان میں سطروں کی تعداد بھی پہلے سے زیادہ ہے۔ اس طرح ایک محتاط اندازہ لگایا جائے تو انوار صاحب کے دور میں اور بعد میں 60:40 کی شرح بنتی ہے۔ اس طرح انوار صاحب کا یہ دعویٰ ٹائیں ٹائیں فش، ہو جاتا ہے کہ میر کارواں لشتم پشتم تین چار قسطوں کا مصالحہ قارئین کی آنکھوں میں جھونک کر ہانپ گئے تھے۔

انوار صاحب کی تحریر ری رائٹ کیوں ہوتی تھی؟ اس کی وجہ شکیل صاحب نے یہ بتائی: مجھے لگا کہ ان کا ذخیرہ الفاظ محدود ہے۔ نئی نئی کیفیات کے لیے نئے نئے الفاظ ہونے چاہییں۔۔

اور وہ نئے الفاظ کیا ہیں؟ یہ الفاظ اور ان کی مدد سے تراشی گئی کیفیات امبربیل میں جگہ جگہ بکھری ہوئی ہیں۔ خاص طور پر اس کے مصنفین معاملاتِ حسن و عشق میں خوب کھل کھیلتے ہیں:

ایک طرف پارو تھی، دوسری طرف شاردا۔ ایک نسترن تھی تو دوسری سوسن، ایک ساون تھی، دوسری بھادوں، ایک رتن جوت تھی، ایک رکت چندن۔ کمرے میں ان کی سانسوں کی خوشبوئیں گھل گئیں۔ میں سوچنے لگا اگر پارو اور شاردا کا عطر کشید کیا جائے تو کیسا نشاط انگیز ہوگا۔ ایک میں بھینی بھینی خوشبو ہوگی، ایک میں کچھ تیز۔۔

(یہاں اگر آپ کو مشہور جرمن فلم پرفیوم، یاد آ جائے جس ہیروئن کا عطر نکالا جاتا ہے (محاورتاً نہیں، سچی مچی) تو اس میں آپ کا یا مصنفین کا قصور نہیں کہ یہ فلم بہت بعد یعنی 2006 کی پیداوار ہے۔)

سندھیا وہ سویرا تھا جو بس اب روشن ہوا چاہتا تھا۔ صبحِ صادق، بند کلی، آم کے درخت پر لٹکی ہوئی کیری جس کا رنگ بدل رہا ہو اور شاخ جھکی جاتی ہو۔ وہ الھڑ لڑکی، اس کے بدن نے آٹھویں جماعت پاس کر لی تھی اور وہ اتنی تیزی سے زندگی کے سبق پڑھ رہی تھی کہ اسے بےساختہ داد دینے کو جی چاہتا تھا۔۔

اس کے لبوں پر ایک لطیف مسکراہٹ۔۔ غزل خواں ہوئی۔۔

لیکن یاد رہے کہ جمشید بزم ہی کا نہیں، رزم کا بھی کھلاڑی ہے۔ اس لیے ایک معرکے کا بھی احوال دیکھ لیجیے جس میں وہ ایک اندھیرے باغ میں راجکماری انیتا کو چیخنے سے روکنے کے لیے اس کا منھ بند کیے ہوئے حملہ آوروں کے قریب آنے کا منتظر ہے:

اتنے میں وہ اور نزدیک ہوتے گئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جس کا میں شدت سے منتظر تھا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے میرے پستول سے دونوں گولیاں ایک ساتھ نکلی ہوں۔ اتنی تیزی اور برجستگی سے کہ اگر انیتا کا منھ کھلا ہوتا تو داد دیے بغیر نہ رہتی۔۔

پھر متکلم جگہ جگہ زندگی کے مختلف معاملات پر گہرا فلسفیانہ مگر دلچسپ تبصرہ بھی کرتا چلا جاتا ہے کو تحریر ختم ہونے کے بعد دیر تک کانوں میں گونجتا رہتا ہے:

موت کے پاس جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ زندگی کے پاس بہت سے کھلونے ہوتے ہیں۔ زندگی بڑی قطامہ ہے۔ بی جمالو ہے۔ زندگی رنڈی کا کوٹھا ہے، راجے پور کا چمکتا دمکتا بازار ہے۔ زندگی ایک دوشیزہ ہے جس کے پستان بڑے ہیں اورکمر پتلی ہے اور جس کی عادت خراب ہے اور جو اپنے چمکیلے بدن کی ایک جھلک دکھا کر روپوش ہو جاتی ہے۔۔

سٹیئرنگ پر بیٹھ کر آدمی بالکل بدل جاتا ہے۔ اس کا چہرہ گمبھیر ہو جاتا ہے، جیسے وہ کوئی بڑا کام انجام دے رہا ہے۔۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے پیروں کے بجائے چار پہیے نکل آئے ہیں۔۔ سٹیئرنگ کے گول پہیے پر دنیا کا گمان ہوتا ہے گویا دنیا ہاتھ آ گئی ہے۔۔ گاڑی میں بیٹھ کر آدمی دگنا ہو جاتا ہے۔۔

یہ طنطنہ، یہ کس بل، یہ شوخی، یہ رکھ رکھاؤ، یہ انداز، یہ لگاوٹ چھت پر چڑھ کر اعلان کر رہے ہیں کہ پردے کے پیچھے کون معشوق ہے۔ یہ تحریر شکیل عادل زادہ کے علاوہ کسی کی نہیں ہو سکتی۔ ایک تو اس کا موازنہ سب رنگ ہی میں چھپنے والے ایک اور دلگداز سلسلے بازی گر، سے کیا جا سکتا ہے اور صاف پتہ چلتا ہے کہ دونوں سلسلوں کا راقم ایک ہی ہے۔ دوسری طرف یہی طرزِ بیان سب رنگ کے شروع میں چھپنے والے ذاتی صفحہ، کا ہے جو باقاعدہ طور پر شکیل صاحب کے نام سے چھپا کرتا تھا۔

میں نے انوار صدیقی صاحب کا ناول طاغوت، کو بھی جستہ جستہ دیکھا (دل پر پتھر رکھ کر) اور ان کا امبربیل کا تحریر کردہ آخری حصہ پڑھا (ناک پر رومال رکھ کر، مگر وہ قصہ کچھ دیر بعد)، ان دونوں تجربات سے نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہ تھا کہ ان حضرت کا امبربیل، کی تحریر سے اتنا ہی لینا دینا بنتا ہے جتنا اوپر بیان کردہ مرغے کی بانگ کا سورج کے طلوع ہونے میں عمل دخل ہوتا ہے۔

داخلی اور خارجی شواہد کی روشنی میں جو خاکہ ابھرتا ہے وہ میں آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں۔

امبربیل، کا بنیادی خیال انوار صاحب کا تھا اور شروع کی تین چار پانچ قسطیں بھی زیادہ تر انہی نے لکھیں، لیکن جب یہ سلسلہ مقبول ہوگیا تو پھر شکیل عادل زادہ کو خیال آیا کہ اس پر زیادہ محنت ہونی چاہیے، چنانچہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ ری رائٹ کرنا شروع کر دیا۔ یہ سلسلہ انیس قسطوں تک جاری رہا جس کے بعد انوار صاحب کارواں سے بچھڑ گئے اور بقیہ ساری قسطیں مکمل طور پر شکیل صاحب کے پاس آ گئیں۔

لیکن اس کے بعد سب رنگ کی اشاعت میں لمبے لمبے وقفے آنے لگے، کیوں کہ بقول شکیل صاحب کے اب وہ رسالے کی ترتیب و تشکیل پر بہت زیادہ محنت کرنے لگے تھے جس کی وجہ سے پرچے کی باقاعدگی بری طرح سے متاثر ہوئی۔ شکیل صاحب بازی گر، کے ساتھ امبربیل، پر بھی بہت زیادہ، بلکہ ضرورت سے زیادہ سر کھپاتے تھے۔ یہ مشقت اوور رائٹنگ، کی صورت میں جگہ جگہ نظر آنے لگی۔ اب یہ کہانی خارج کی بجائے داخل پر زیادہ مرکوز ہونے لگی۔ پہلے ہر صفحے پر کوئی نئی واردات، کوئی تازہ معرکہ، کوئی نیا معاشقہ، کوئی نیا موڑ آتا تھا جو قاری کو افتاں و خیزاں ساتھ ساتھ بھگائے رکھتا، سانس پھلائے رکھتا تھا، اب کہانی کے دس دس صفحے ایک خیال کو ٹٹولتے پھرولتے گزرتے ہیں ور پلاٹ ہے کہ دور گھٹنوں میں سر دیے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا ہے کہ مصنف صاحب کو پہلے ذرا عبارت آرائی سے فرصت ملے تو میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھوں۔

پہلے اگر ایک پیراگراف چھوٹ جائے تو کہانی کا سرا ہاتھ سے جاتا رہتا تھا، آخری قسطوں میں یہ ہونےلگا کہ دس دس ورق پلٹ جائیے، کہانی وہیں کی وہیں صم بکم دیوار کے سائے میں بیٹھی ملے گی۔

برسبیلِ تذکرہ، عین یہی احوال بازی گر، کا بھی ہے، کہ اس کی بھی پہلی پندرہ بیس قسطیں سرکش پہاڑی ندی کی طرح بہتی، بہکتی، تڑپتی، چھچھلتی، سرکتی، مچلتی چلی جاتی ہیں، لیکن آخر آخر میں اس کی کہانی بھی اتنی سست ہو جاتی ہے مانو کوئی سوڈے والی نلکی سے شہد پینے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان دونوں سلسلوں کا تفصیلی تقابل نیچے آ رہا ہے، یہاں یہ بتا دوں کہ کہانیاں بےشک سست ہوئی ہوں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر دو سلسلوں میں زبان منجھتی گئی، لہجہ شستہ تر ہوگیا، خیالات میں تنوع آتا گیا اور ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہیں ان دونوں حصوں کے آخری حصے زیادہ پسند ہیں۔ ہم ٹھہرے میانہ رو، ہم سے پوچھیں تو دونوں اسالیب کا امتزاج زیادہ بھاتا ہے۔ ہمارے خیال سے اچھی کہانی وہ ہوتی ہے جو صرف ناک کی سیدھ میں ایک سرنگ میں دوڑتی نہ چلتی جائے، بلکہ رک کر، ذرا ٹھیکی لے کر آس پاس کے منظر پر بھی ایک نظر دوڑاتی رہے، کبھی کبھی پیچھے مڑ کر بھی دیکھے کہ کہاں تھے اور کہاں آ گئے۔ لیکن یہ سستانے کے لمحے چند منٹوں پر محیط ہوں، نہ کہ برسوں کو لپیٹ میں لے لیں اور قاری بےچارہ وہیں کھڑا کھڑا سوکھ جائے۔

دستور ہے کہ جس کہانی پر تبصرہ کرنا ہو اس کے پلاٹ کا خلاصہ بھی بیان کر دیتے ہیں۔ اس لیے وہ شرط بھی پوری کر دیتے ہیں۔ امبربیل، میر جمشید عالم نامی ایک نوجوان کی کہانی ہے جسے لڑکپن ہی سے خوابوں میں کچھ خونریز منظر دکھائی دیتے ہیں جو بعد میں اصل زندگی میں ویسے ہی دہرائے جاتے ہیں۔ اس پر گھر والے منحوس اور کالی زبان والا سمجھ کر اس سے کھنچے کھنچے رہنے لگ جاتے ہیں۔ پھر ایسے ہی ایک واقعے میں اس کے ماں باپ اور بہن ہلاک ہو جاتے ہیں اور بھائی پاگل ہو کر گھر سے نکل جاتا ہے۔

خود جمشید کلکتہ چلا جاتا ہے جہاں اس کی دوستی ایک اینگلوانڈین جارج سے ہو جاتی ہے جو اسے ایک طوائف بانو سے ملواتا ہے۔ بانو امبربیل، کے طویل سفر میں جمشید عالم کا پہلا پڑاؤ ہے (وہ پہلی لڑکی ہے جس کے گداز سے میرا سینہ آشنا ہوا تھا)۔ لیکن بدقسمتی یہاں بھی پیچھے پڑی رہتی ہے اور بانو کی ماں اور بالاخانے کا ایک گرگا جمشید کے ہاتھوں قتل ہو جاتے ہیں۔ جمشید بھاگ کر بمبئی چلا جاتا ہے جہاں اس کی ملاقات ڈالی نامی ایک بھکارن سے ہوتی ہے، جو اسے اپنی کھولی میں پناہ دیتی ہے۔ ایک دن ڈالی، جمشید اور ڈالی کا ننھا بیٹا گڈا ریاست راجے پور (فرضی نام) چلے جاتے ہیں جہاں میاں بیوی کا روپ دھار کر پرکاش بھون، نامی ایک بڑی حویلی، جو اپنی فصیل کے اندر ایک چھوٹی سی ریاست سے کم نہیں، میں بطور ملازم نوکری شروع کر دیتے ہیں۔ جمشید موہن داس کا نام اختیار کر لیتا ہے۔

یہیں سے امبربیل، کی کہانی ٹیک آف کرکے نئی بلندیوں کا سفر شروع کر دیتی ہے۔ پرکاش بھون ایک طلسم خانہ ہے، ایک الف لیلوی محل ہے جہاں قدم قدم پر قدم پر حسین باندیاں تھرکتی پھرتی ہیں، ہر بارہ دری میں ایک پری چہرہ راج کماری لوگوں پر ڈورے ڈالنے پر تلی ہوئی ہے، ہر غلام گردش، ہر گلی، ہر چوکھٹ پر سازشوں کے پھندے نصب ہیں۔ بھائی بھائی کے درپے، بہن بہن کی بیری ہے، بیٹا باپ کے خون کاپیاسا ہے، بیوی خاوند کے خلاف جال بچھائے ہوئے ہے۔ اس جادونگر میں کوئی پتہ نہیں چلتا کب کون کس کو دغا دے جائے، کون کس کا جاسوس، کون کس کا مخبر ہے، کون کس راہداری میں گھات لگائے بیٹھا ہے، کوئی کس کے خلاف تانے بانے بن رہا ہے۔

جمشید موہن داس بن کر اس طلسم کدے میں کسی تنکے کی طرح بہہ جاتا ہے، کبھی کوئی راج کماری اس پر ملتفت ہو جاتی ہے، کبھی کوئی باندی اسے اسیر کرنے پر تل جاتی ہے۔ سب نہیں تو اکثر اس سے کوئی نہ کوئی کام لینا چاہتے ہیں۔ کوئی راج کماری اس کی وجاہت اور سرخ و سپید رنگت، سے متاثر ہو کر اسے اپنے جسم کا اسیر کرنے کے لیے سرگرداں ہے۔ کوئی رئیس زادہ اس کے لمبے قد اور مضبوط اعضا، کی مناسبت سے اسے کرائے کا قاتل بنانا چاہتا ہے، کوئی اس کی تیز سمجھ بوجھ سے متاثر ہو کر اس سے جاسوسی کروانے کا خواہش مند ہے۔

یہاں جمشید کی فتوحات کے طویل سلسلے کا آغاز ہوتا ہے۔ بانو اور ساجدہ پہلے اس کی قتیل رہ چکی تھیں، ڈالی کے ساتھ اس کا رشتہ مرد عورت کا نہیں بلکہ کچھ اور تھا، لیکن پرکاش بھون میں اسے مالتی نامی چنچل باندی کے علاوہ راج کماری شکنتلا اپنے بدن کدے کی سیر کرواتی ہے۔ معصوم ملکوتی حسن سے مالامال شاردا اسے اپنا موہن بنا لیتی ہے۔ چکنی مچھلی سے زیادہ پھسلواں مہارانی پارو اسے شکار کرنے آتی ہے مگر خود کانٹے میں پھنس جاتی ہے اور یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا جاتا ہے۔ کمسن راج کماریاں، تجربہ کار مہارانیاں، باراں دیدہ طوائفیں، نوکرانیاں، نرسیں، غرض کون ہے جو اس کی سرخ و سپید، رنگت پر مر نہیں مٹتا۔

اور میاں جمشید ہیں کہ کوئی صفحہ ایسا خالی نہیں جانے دیتے جہاں وہ اپنے حسن و جمال، جادوئی شخصیت، قد کاٹھ، مسحور کن ذہانت، خوش خرامی و خوش کلامی کا قصیدہ نہ پڑھ رہے ہوں۔ ایسا گھمنڈی، نرگسیت کا مارا ہوا خود بڑبولا اصل زندگی میں ملے تو لوگ اسے دیکھ کر دائیں بائیں ہو جاتے ہیں، مگر امبربیل، کے پلاٹ کا دھارا اتنا تیز ہے قاری کو یہ معمولی کنکر پتھر نظر ہی نہیں آتے۔ ویسے تو امبربیل، کا ہر صفحہ اس کی گواہی دے گا، میں نے اس داستان کے کھلیان میں سے آپ کے لیے بس ایک مٹھی نکالی ہے:

پہلی بار اپنی جسمانی وجاہت، سرخ و سپید رنگ، نکلتے ہوئے قد اور مضبوط اعضا پر پہلی بار غصہ آیا۔۔

میں وہ شخص تھا جو باتوں میں بہتا دریا تھا، قد و قامت میں اونچا درخت تھا، رنگ و روپ میں پھول تھا، اس کا نشانہ سچا تھا۔۔

دیکھیں تو تمہارے ہاتھ کتنے سخت ہیں۔ تم فولادی آدمی ہو۔۔

تم ساری رات نہیں سوئے؟ آدمی ہو یا جادوگر؟

میں نے کھڑے ہو کر آئینےمیں اپنی شکل دیکھی تو پہچان نہیں سکا۔ میرا رنگ نکل کے آیا۔ سرخ و سپید رنگ کا ایک وجیہہ شخص۔۔ بالکل ایک جنٹلمین ولایت سے آیا ہوا۔۔

ولایتی جنٹلمین کی سرخ و سپید نسل پرستانہ مرعوبیت کو نظرانداز کرکے واپس پلاٹ کی طرف آتا ہوں جو سرکش گھوڑے کی طرح سرپٹ بھاگتا رہتا ہے کہ بیچ میں پرکاش بھون کے دو تخت نشین یکے بعد دیگرے موہن داس کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ ان کے بعد ولایت پلٹ نوجوان دنیش کمار گدی پر براجمان ہو جاتے ہیں۔ اس کا اور جمشید کا قارورہ مل جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ دونوں قالب یک جان ہو جاتے ہیں۔ اس حد تک کہ کبھی کبھی تو دونوں کے بیچ ہومو اروٹیسزم کا گمان گزرنے لگتا ہے۔

کہانی کی ڈور میں بڑا پیچ اس وقت پڑتا ہے جب پتہ چلتا ہے کہ ریاست راجے پور کے راجہ بوڑھے ہو چکے ہیں اور ان کی کوئی نرینہ اولاد نہیں۔ پرکاش بھون کے علاوہ ریاست کا دوسرا بڑا خاندان بڑی حویلی، کا باسی ہے جس کی باگیں جگ دیپ نامی شخص کے پاس ہیں۔ یہ سرپھرا، بدمست، جاہ طلب نوجوان ریاست کی کرسی پر حریصانہ نظریں جمائے ہوئے ہے اور دنیش کمار کو سب سے بڑا کانٹا سمجھتا ہے اور اسے راہ سے ہٹانے کے لیے اپنے زرخریدوں کے ذریعے کبھی اس کی خواب گاہ میں زہریلا سانپ چھوڑ دیتا ہے، کبھی زہر کا جام بھجوا دیتا ہے، گاہے گولیاں چلوا دیتا ہے۔ اس کے زرخریدوں کی کوئی کمی نہیں۔ خود دنیش کمار کی کئی بہنیں، دوسرے قریبی رشتے دار، ملازم اور اہلکار اس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔

ایسے میں جگ دیپ کے چھوڑے ہوئے ہر تیر کو جمشید اپنے چوڑی چھاتی پر لے لیتا ہے، سنگ چور سانپ سے خود کو ڈسوا لیتا ہے مگر دنیش پر آنچ نہیں آنے دیتا۔ اس پر چلنے والی گولیوں کو خالی جانے دیتا ہے، جاسوسوں، ضمیر فروشوں کا سراغ لگا کر انہیں موت کے گھاٹ اتارتا ہے، حتیٰ کہ خود آگے بڑھ کر پیش بندانہ حملے شروع کر دیتا ہے، لاشوں کے ڈھیر لگا دیتا ہے۔

یہاں سے ایک اور کردار کی انٹری ہوتی ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ جب ہندوستان انگریزوں کی مٹھی میں ہے۔ راجے پور میں ان کی چھاؤنی قائم ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ راجہ کے مرنے کے بعد وہ اس ریاست کو بھی ہڑپ کر جائیں۔ امبربیل، میں ان کی آمد سے کہانی کے سرپٹ گھوڑے کو مہمیز لگ جاتی ہے۔ واقعات اتنی بلاخیزی سے پیش آتے ہیں کہ بعض اوقات ان کا سرا پکڑنے میں دشواری ہونے لگتی ہے۔

جمشید پکا دیش بھگت ہونے کے ناتے انگریزوں کا جانی دشمن ہے، وہ انہیں بھی شست پر رکھ لیتا ہے اور چن چن کر ان کے چوٹی کے افسروں کو مار گراتا رہتا ہے۔ ایک عجیب دھماچوکڑی مچ جاتی ہے، چومکھی آندھی چلتی ہے۔ لاشوں کا ڈھیر اونچا ہوتا چلا جاتا ہے، خون کی ندیاں بہہ جاتی ہیں، پرکاش بھون، بڑی حویلی، انگریزوں کی چھاؤنی سب لال ہو جاتے ہیں۔

اب تک میں نے امبربیل، کے اس دیومالائی کردار کا ذکر نہیں کیا جس کا نام کیچو، ہے۔ یہ کوئی دیوی ہے جو جمشید پر عاشق ہے اور اسے اپنی طرف بلاتی رہتی ہے۔ وہی جمشید کا سب سے بڑا سہارا ہے اور جب بھی وہ بھٹکنے لگتا ہے، خواجہ خضر کی طرح دستگیری کے لیے حاضر ہو جاتی ہے، مشکل آسان کرتی ہے، پھر ہوا میں تحلیل ہو جاتی ہے۔

جب جگ دیپ کا بس جمشید پر نہیں چلتا تو وہ کم ظرف دشمن ہونے کے ناطے ایک دن ڈالی اور اس کے بیٹے گڈے کو اغوا کر لیتا ہے۔ جمشید پاگل ہو کر تین بھرے ہوئے پستولوں اور کارتوسوں کا ڈبہ لے کر بڑی حویلی پر دھاوا بول دیتا ہے، مگر عین دیوار کے نیچے سے اسے کیچو بھٹکا کر اپنے پیچھے لگا لیتی ہے۔ جمشید ایک طلسماتی جنگل میں پہنچ جاتا ہے جو کہیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔

یہ وہ پڑاؤ ہے جہاں انوار صدیقی صاحب امبربیل، سے الگ ہوئے تھے اور شکیل عادل زادہ نے امبربیل، کا سٹیئرنگ مکمل طور پر تھام لیا۔ اس کے برسوں بعد دونوں ادیبوں نے بعد میں پیش آنے والے واقعات الگ سے لکھ کر چھاپے۔ اوپر ذکر آ چکا ہے کہ سب رنگ میں شکیل عادل زادہ کے تصنیف کردہ ساڑھے پانچ سو صفحوں تک امبربیل، کا سلسلہ چل کر ٹھپ ہوگیا اور آج تک اپنی منزل کا منتظر ہے، لیکن انوار صدیقی نے اس کے بعد ساڑھے تین سو صفحے لشتم پشتم، لکھ کر کہانی ختم کر ڈالی۔

جیسا کہ پہلے ذکر آ چکا، ہماری معلومات کے مطابق یہ اردو فکشن، بلکہ شاید عالمی فکشن کی تاریخ کا بھی انوکھا واقعہ ہے کہ ایک ہی کہانی پہلے دو مصنف دو ایک ساتھ لکھتے رہے، پھران کی راہیں جدا ہوگئیں اور دونوں نے اپنے اپنے انداز میں الگ الگ کہانی لکھی۔ بالکل ایسے ہی جیسے پھوٹ پڑنے کے بعد ایک خاندانی کاروبار کے حصے بخرے ہو جاتے ہیں اور وہ دو مختلف دھاروں میں آگے بہتا رہتا ہے۔

یہ تو عام ہے کہ ایک ناول کو دو یا دو سے زیادہ مصنف مل کر لکھتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور بیسٹ سیلر ادیب جیمز پیٹرسن نے مل کر ایک سنسنی خیز ناول لکھا۔ لیکن ایسی مثال ہمارے علم میں نہیں ہے کہ جس میں ناول پہلے دو ادیبوں نے مل کر لکھا، بعد میں الگ الگ۔

اب اس موقعے پر ہمیں تھوڑی سی آزادی لینے کا موقع دیجیے۔ ہمیں معلوم ہے کہ انوار صدیقی صاحب ضعیف ہو کر ادبی دنیا سے کنارہ کش ہو چکے، ان کا ذکر بدی سے نہیں کرنا چاہیے، مگر اس امر کو کیا کیا جائے کہ سب رنگ سے کنارہ کشی کے بعد انہوں نے امبربیل، کا جو خون کیا اس پر چپ سادھ لینا، یا صرفِ نظر کرنا بھی کسی گھناونے جرم سے کم نہیں۔

جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا، ہم نے انوار صدیقی کا ناول طاغوت، پڑھا اور امبربیل، کی آخری قسطیں بھی دیکھیں جو انہوں نے الگ سے چھپوائیں۔ ان دونوں نمونوں کے مطالعے کے بعد ہم پوری سنجیدگی اور ایمانداری سے کہہ سکتے ہیں کہ انوار صدیقی اچھے ادیب تو کیا، عامیانہ ادیب بھی نہیں۔ قلم ان کے ہاتھوں میں آ کر کدال بن جاتا ہے، جس سے وہ لفظوں کو کھود کھود کر غیر مربوط واقعات کے ڈھیر لگاتے چلے جاتے ہیں۔ ان کا اظہار محدود اور معمولی، فکر پر کٹے پتنگے سے بھی نارسا، تخیل جامد، لہجہ لجلجا اور زبان کلیشیائی ہے۔ تعجب ہوتا ہےکہ انیس قسطوں تک سب رنگ کی ادارتی ٹیم کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے بھی انہوں نے امبربیل، کے مقناطیسی اسلوب، شوخ و شنگ اندازِ بیان، برجستہ مکالموں، بےساختہ روانی اور بہاؤ سے کچھ نہیں سیکھا۔ سب رنگ کی چادر ہٹی تو موصوف بالکل برہنہ ہو کر سامنے آ گئے اورپتہ چلا کہ کہانی کہنے کا ہنر تو دور کی بات ہے، وہ فقرے سے فقرہ جوڑ کر ایک چسپاں پیراگراف لکھنے کے فن سے بھی مکمل طور پر نابلد ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ انہیں سب رنگ کی جانب سے کس بات کا معاوضہ دیا جاتا تھا۔

شاید آپ کو یہ باتیں تھوڑی سخت لگیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امبربیل، کا پرانا گزیدہ و گرویدہ ہونے کے ناطے ہمیں انوار صدیقی کا تحریر کردہ جعلی امبربیل، کا آخری حصہ پڑھ کر سخت مایوسی اور کوفت ہوئی۔ انہوں نے میر جمشید عالم کے کردار کو بالکل نہیں سمجھا، نہ ہی وہ انہیں اس ہردل عزیز سلسلے کی حرکیات کی کوئی شدھ بدھ حاصل ہو سکی۔ میں ان کی تحریر کردہ کہانی کی تفصیل میں تو نہیں جانا چاہتا، لیکن دونوں سلسلوں کی ایک قسط کا جائزہ پیش کرنا چاہتا ہوں، جس سے سب رنگ کے جنت فام دودھ سے انوار صدیقی کا جوہڑ آمیز پانی الگ ہو جاتا ہے۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، امبربیل، کی ہر قسط کا پلاٹ پانچ افراد کی ایک ٹولی بیٹھ کر طے کرتی تھی۔ جمشید کے جنگلوں میں کھو جانے کا واقعہ بھی یقیناً اسی دوران طے ہوا ہوگا کیوں کہ ایک قسط کے واقعات انداز الگ ہونے کے باوجود یکساں ہیں، البتہ اس کے بعد دونوں کہانیاں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہو جاتی ہیں۔

مارچ 1976کے سب رنگ میں شائع شدہ یہ جنگل والی قسط (جس کا نمبر غالباً 21واں ہے) ہمارے خیال کے مطابق امبربیل، کے ماتھے کا جھومر ہے۔ اس میں جمشید کے درختوں کے نامختتم سلسلے میں کئی مہینے تک بھٹکنے کو جس تازہ کاری سے بیان کیا گیا ہے، اسے پڑھ کر اردو کے ایک منفرد ادیب سید رفیق حسین کی یاد آتی ہے (جن کی کئی کہانیاں سب رنگ میں شائع ہو چکی ہیں)۔

اردو وہ زبان ہے جس میں فطرت نگاری کی کوئی توانا روایت موجود نہیں ہے، نہ شاعری میں نہ فکشن میں۔ اس کی وجہ شاید یہی رہی ہے کہ اردو تاریخی طور پر دوشہروں کی زبان ہے، دہلی اور لکھنو۔ اس زبان کوگاؤں دیہات، پہاڑ جنگل، دریا سمندر سے علاقہ نہیں۔ آپ نے میر تقی میر کا واقعہ سنا ہوگا کہ کسی دوسرے علاقے کے شاعر نے ان سے اصلاح چاہی تو خدائے سخن نے فرما دیا، میاں، اردو خالص دلی کا محاورہ ہے، آپ اپنی فارسی وارسی کہہ لیا کیجیے۔۔

اگر آپ پوچھیں گے اردو مثنوی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اردو مثنوی کی فضا درآمدہ ہے، اس کے موسم، پھل، پھول، پرندے، حتیٰ کہ کوہ و دریا بھی فارس سے سموچے منگوائے گئے ہیں۔ ہم نے ریختہ میں سوسن، و لالہ و شمشاد و بلبل و جیحوں و بےستوں کے مضامین تو خوب خوب باندھے، مگر کوئل اور سرسوں اور ٹاہلی اور گنگا اور ہمالیہ کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔

ہاں ایک دو استثنائی مثالیں موجود ہیں۔ سید رفیق حسین کا ذکر ہو چکا، ابوالفضل صدیقی ایک اور ادیب ہیں جن کے ہاں فطرت ملتی ہے (ان کا لاجواب ناولٹ خونی، بھی سب رنگ کی زینت بن چکا ہے)، اکا دکا شاید کوئی اور ہو تو ہو اور بس۔

Check Also

Child Labour Day Mubarak Ho

By Aftab Alam