Aap Bandar Nahi, Insan Paida Kiye Gaye Hain
آپ نے بندر نہیں، انسان پیدا کیے ہیں

بڑے اور بعض چھوٹے شہروں میں رہنے والی پڑھی لکھی نسبتاً خوشحال، خواتین کی اکثریت اپنا وقت، اپنے چہرے کی خوب صورتی کے نسخے، اپنی عمر کو پانچ سال کم کرنے کے ٹوٹکے، گھر کی آرائش کے طریقے، جدید فیشن کے بارے میں معلومات اور اپنے گھر والوں کے لیے مزے دار پکوانوں کی ترکیبیں جاننے اور ان پر عمل کرنے میں صرف کرکے، ایک سگھڑ عورت، اچھی بیوی یا بہترین ماں کا ٹائٹل پا کر ایسے مطمئن ہو جاتی ہے جیسے اس کے دنیا میں آنے کا مقصد پورا ہوگیا۔ گھر کی خوبصورتی اور گھر کے افراد کے لیے مزے دار اور غذائی قوّت والے کھانے بنا کر آپ نے ان سے جو داد سمیٹی ہے، وہ داد بسا اوقات فیس کی صورت میں ڈاکٹر کی جیب میں چلی جاتی ہے۔ لیکن کیا اچھا ہوتا کہ تر لقموں کے ساتھ آپ ان کے اذہان میں انسانیت کے لیے کام کرنے والوں اور دنیا کو معنی دینے والوں کے کارناموں اور شیریں خیالات سے ان کی روح کو بھی سیراب رکھتیں۔
آپ کے بچوں کی سب سے بڑی خوش نصیبی یہ ہے کہ ان کی ماں زندہ ہے، لیکن اگر ایک پڑھی لکھی باشعور عورت اپنے بچوں کا شعور بلند نہیں کر سکتی، ان کے اندر انسانیت کا درد پیدا نہیں کر سکتی، ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو مہمیز نہیں کر سکتی، ان کی پوشیدہ صلاحیتوں سے ہونے والے فوائد سے دوسرے مستفید نہیں ہو سکتے، تو آپ کا ہونا نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
اگر آپ کے لیے خوشی کا مطلب بچوں کی سال گرہیں اور پارٹیاں ہیں اور وقت گزاری کا مطلب مارننگ شوز دیکھنا اور پیسے کا مصرف مہنگے لباس اور جلد کی شادابی کے لیے مہنگی کریمیں ہیں، تو بچوں کے لیے آپ محض ایک خوب صورت، حنوط زدہ، چلتی پھرتی لاش ہیں۔ آپ کے ہونے یا نہ ہونے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اپنے پاؤں پر کھڑے تو ہم نے ان بچوں کو بھی دیکھا جن کی مائیں انہیں پیدا کرتے ہی مر گئیں۔ آپ زندہ ہیں تو اس کا ثبوت دیجیے، کہ زمانہ نہ سہی کچھ لوگ آپ کے بچوں کو اس لیے یاد رکھیں کہ انہوں نے انہیں معاشرے کا سود مند شہری بنانے میں کسی طرح اپنا کردار ادا کیا۔ اپنے بچوں کی ذہنی بالیدگی کے لیے خواتین کو اپنے شعور کو بلند کرنا ہوگا، ان خواتین کے کردار کا جائزہ لینا ہوگا، جنہوں نے اپنے حوصلوں کو چٹانوں کی طرح مضبوط رکھا۔
عورت ایک عورت سے جنم لیتی ہے اور اگلی نسل کو جنم دیتی ہے۔ اس اعتبار سے اس کی تخلیقی قوت، طاقت اور حوصلہ مرد سے زیادہ ہونا عین فطرت بھی ہے اور اس کے لیے قدرت کا ایک انعام بھی اور ہم نے ایسی عورتوں کی مثالیں دیکھی ہیں جنہوں نے بچوں جنم دیا یا نہیں لیکن ان کے حوصلے نے دنیا کو ان کے آگے سر جھکانے پر مجبور کر دیا۔
بچے کو نو ماہ پیٹ میں رکھنا، جنم دینا اور اس لوتھڑے کو زندگی کی حرارت دینا، کمزوری اور نقاہت کے باوجود اسے اپنا دودھ پلا کر اسے طاقت بخشنا، یہ ایک ماں کا ہی اعزاز ہے۔
اگر آپ نے اپنے بچوں کی تربیت زمانے کے چلن کے حساب سے کی ہے، تو آپ کی مثال بندریا کی سی ہے۔ بچے تو بندریا بھی پیدا کرتی ہے اور ان کی تربیت اور حفاظت بھی ویسے ہی کرتی ہے جیسے ساری بندریاں کرتی ہیں اور بڑے ہو کر وہ سارے بچے بھی بندروں کی ما نند حرکتیں کرتے ہیں اور بندروں کی مانند ہی بوڑھے ہوتے ہیں اور بندروں کی مانند ہی مر جاتے ہیں۔ اگر آپ نے پڑھ لکھ کر وسائل ہوتے ہوئے اپنے بچوں کو صرف اس قابل کیا ہے کہ وہ اپنا اور اپنے گھر بار کا بوجھ اٹھا سکیں، تو آپ نے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا، آپ نے محض بندریا کا کردار نبھایا ہے۔ آپ نے انسان نہیں بندر پیدا کیے ہیں۔
آپ کا مقام مرد سے افضل ہے، کیوں کہ اسے آپ نے پیدا کیا ہے، اپنے آپ کو اس مقام سے بھی بلند ثابت کیجیے، کیوں کہ آپ کے پاس علم، شعور آگہی سب کچھ ہے۔ اس دولت سے اپنی نسلوں کو فیضیاب کیجیے۔ آپ کے چہرے کی ایک ایک جھری کی شادابی آپ کی نسلوں کے ماتھے پر نظر آئے گی۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ صبح کے مارننگ شوز میں معاوضہ لینے والوں کے جڑی بوٹیوں والے ٹوٹکوں کو اپنے چہرے پر آزما کر اپنی عمر کو پانچ سال پیچھے لے جائیں یا انسانیت کو پانچ سو برس آگے لے جائیں۔

