Friday, 05 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Pakistan Ke Sath Narmi, America Ne Imf Ko Koi Hidayat Nai Di

Pakistan Ke Sath Narmi, America Ne Imf Ko Koi Hidayat Nai Di

پاکستان کے ساتھ نرمی، امریکہ نے آئی ایم ایف کو کوئی ہدایت نہیں دی

ملکی اور بین الاقوامی سیاست کے تین سے زیادہ دہائیوں تک پاکستان اور بیرون ملک ہوئے انتخابات، جنگوں اور حساس معاملات پر مذاکرات کے بطوررپورٹر عملی مشاہدے کے باوجود میں کئی اہم معاملات کے بارے میں بچگانہ سادگی سے سوچتا ہوں۔ یہ سوچ اہم عہدوں پر فائز افراد کے سامنے رکھوں تو میرا مذاق اڑانے کے بجائے وہ معاملات کی سنجیدگی کو جس مشفقانہ انداز میں سمجھاتے ہیں اسے ہضم کرنے کے بعد میں کئی گھنٹے اپنی سادگی کی ملامت میں مصروف ہوجاتا ہوں۔

سالانہ بجٹ کی تیاری کا عمل اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ آج سے چند ہفتے قبل تک میں بارہا خود سے سوال کرتا رہا کہ ہمارے حکمران آئی ایم ایف کے فیصلہ سازوں کو یہ سمجھانے میں ناکام کیوں ہورہے ہیں کہ پاکستان کی مصالحانہ کوششوں کے نتیجے میں خلیج میں چھڑی جنگ بے قابو نہیں ہوئی۔ اپریل کے پہلے دس دنوں کے دوران طے ہوئی جنگ بندی ابھی تک برقرار ہے۔ جنگ بندی کے بعد پاکستان کی وساطت سے امریکہ اور ایران کے مابین پیغامات کا تبادلہ بھی ہورہا ہے۔ ان پیغامات ہی کے نتیجے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایک بڑے وفد کے ہمراہ اسلام آباد آئے تھے۔ ایران کی قومی اسمبلی کے سپیکر کی قیادت میں بھی ایک بھاری بھر کم وفد یہاں پہنچا۔ ان دونوں کے مابین مذاکرات مگر مثبت انجام تک پہنچ نہ پائے۔

میری اطلاع کے مطابق امریکی وفد میں شامل ڈونلڈٹرمپ کے جوانی کے دنوں سے کاروباری شریک سٹیوویٹکوف کا مذکورہ مذاکرات کے دوران رویہ انتہائی جارحانہ رہا۔ وہ نت نئی شرائط مذاکرات کے ہر دور میں متعارف کروادیتا۔ ایرانی وفد کے لئے ان کا مؤثر جواب دینے کے لئے لازمی تھا کہ وہ اپنی قیادت سے رابطہ کریں۔ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کے دیگر پلیٹ فارم مگر دورِ حاضر میں محفوظ تصور نہیں ہوتے۔

ایرانی یہ سوچنے میں بھی حق بجانب تھے کہ وہ ہدایات لینے کے لئے جن قائدین سے رابطے استوار کریں گے ان کے نام اور لوکیشن امریکہ ہی نہیں اسرائیل کے علم میں بھی آجائے گی۔ یوں ان کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ایرانی وفد کی جانب سے لہٰذا معقول وجوہات کی بنیاد پر یہ تجویز آئی کہ وہ اپنی قیادت سے مشورے کے لئے ایران لوٹ جائیں۔ پاکستان چھوڑنے سے قبل تاہم امریکی وفد کے نمائندے کے ساتھ کھڑے ہوکر یہ تاثر دیا جائے کہ مذاکرات ناکام نہیں ہوئے ہیں۔ ان میں تعطل مزید مشاورت کیلئے درکار ہے۔ ایرانی وفد اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد مذاکرات کے دوسرے دور کے لئے پاکستان واپس آئے گا۔

امریکہ نے مگر ایرانی وفد کے کسی نمائندے کے ساتھ کھڑے ہوکر یہ تاثر دینے کے بجائے جے ڈی وینس کے ذریعے مذاکرات کے پہلے دور کو بے نتیجہ ثابت ہونے کا اعلان کردیا۔ ایرانی اور امریکی وفود اسلام آباد سے رخصت ہوگئے مگر ان کے کئی معاونین اور چند طیارے پاکستان ہی میں موجود رہے۔ اس امر کو عوام سے چھپایا گیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے مگر نیویارک پوسٹ کی نمائندہ کیٹلن ڈورنبوس کو فون کرکے یہ مشورہ دیا کہ وہ اسلام آباد ہی رکی رہے۔ کیونکہ مذاکرات کا دوسرا دور کچھ دنوں میں شروع ہوسکتا ہے۔ وہ اس دور کے انتظار میں یہاں ٹھہری رہی اور بالآخر ٹرمپ ہی کے مشورے پر وطن لوٹ گئی۔

ایران ا ور امریکہ کے مابین مذاکرات کا دوسرا دور ناممکن ہوتا دکھائی دیا تو پاکستان کے فیلڈ مارشل جرات وبہادری سے ایران پہنچ گئے۔ وہاں ان کی "حقیقی اور حتمی" فیصلہ سا زوں سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے نتیجے میں مذاکرات کا دوسرا دور ابھی تک شروع نہیں ہوا۔ پیغامات کے تبادلے اگرچہ جاری رہے ہیں۔ امریکی صدر ہی نہیں بلکہ اب ایرانی قیادت بھی سرکاری طورپر ان کا اعتراف کررہی ہے۔

دو سے زیادہ قابل اعتماد ذرائع نے مجھے بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین پیغامات کے تبادلے کے نتیجے میں ایران اس امر پر رضا مند ہوگیا تھا کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیار بنانے کے قابل یورینیم کو کسی تیسرے ملک کے حوالے کرنے کے بجائے ایٹمی ہتھیاروں پر نگاہ رکھنے والے بین الاقوامی ادارے کی نگرانی میں اپنی ہی سرزمین پر تلف کروادے گا۔ میرے لئے انتہائی قابل اعتماد ذرائع مگر یہ بھی دعویٰ کررہے ہیں کہ اسرائیل کو ایران کے اس وعدے کی بھنک پڑگئی۔ ممکنہ معاہدے کو سبوتاڑ کرنے کے لئے لہٰذا اس نے لبنان کے جنوبی علاقوں میں وحشیانہ فضائی بمباری کے بعد زمینی افواج بھی داخل کردیں۔ ساتھ ہی یہ اعلان بھی کردیا کہ وہ بیروت شہر کے جنوب میں موجود حزب اللہ کے مرکز میں فوج داخل کردے گا۔

2006ء کے دوران لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہوئی جنگ کے دوران میں مذکورہ علاقے میں محض 20منٹ کے فاصلے پر قائم ایک ہوٹل میں مقیم تھا۔ وہاں سے پیدل چل کر حزب اللہ سے وابستہ محلوں میں پہنچ جاتا۔ وہاں کے گھر بے آباد دکھائی دیتے۔ دوکانوں کے شٹربند۔ آسمانوں پر لیکن اسرائیل کے ڈرون طیارے سراسیمگی پھیلاتی آوازوں کے ساتھ نگرانی میں مصروف رہتے۔ چلچلاتی دھوپ میں ویران محلوں سے گزررہا ہوتا تو اچانک چند نوجوان دو یا تین موٹرسائیکلوں سے اترکر مجھے گھیرلیتے۔ ماہر تفتیشی افراد کی طرح مجھے ایک مکان میں لے جاتے اور وہاں مجھ سے میری شناخت کی بارہا تصدیق ہوتی۔ بہت مشکل سے یہ تسلیم کرلینے کے بعد کہ میں اسرائیلی جاسوس نہیں بلکہ پاکستانی صحافی ہوں، مجھے اس علاقے سے نکل جانے کا دھمکی آمیز انداز میں حکم دیا جاتا۔

ایران کا آخری پیغام جس کے ذریعے اس نے افزودہ یورینیم کو تلف کرنے کی پیشکش کی تھی۔ اسرائیل کے علم میں آیا تو اس نے مزید پیش رفت میں رخنہ ڈالنے کیلئے بیروت کے مذکورہ علاقے میں اپنی افواج داخل کرنے کا اعلان کردیا۔ امریکی صدر ٹرمپ اس کے مذکورہ اقدام سے تلملااٹھا۔ اسی باعث اس نے ٹیلی فون پر اسرائیلی وزیر اعظم کو جلی کٹی سنائیں۔ اسرائیل نے تردید کی کوششیں کی تو ٹرمپ نے بذاتِ خود نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلی فون پر تلخ گفتگو کی تصدیق کردی۔

ٹرمپ کی جانب سے ہوئی تصدیق نے میرے ذرائع کو سچا ثابت کردیا۔ پاکستان کی وساطت سے ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں تاریخی سمجھوتے کو تیار تھا۔ لبنان پر بھرپور حملے اور جنوبی بیروت میں گھس جانے کے ارادے نے مگر ممکنہ پیشرفت کو سبوتاژ کردیا۔ جو ڈیل ممکن تھی وقتی طورپر سبوتاڑ ہوگئی۔ مجھ سادہ لوح کی مگر یہ خواہش برقرار رہی کہ پاکستان اپنی کاوشوں کے عوض امریکہ کو اس امر پر قائل کرے کہ وہ آئی ایم ایف پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے ہمارے ساتھ کوئی نرمی اختیار کرے۔ جس نرمی کا میں منتظر تھا وہ افغانستان کو سوویت یونین سے "آزاد" کروانے کے دوران پاکستان کے ساتھ کئی برسوں تک برقرار رکھی گئی تھی۔ بعدازاں "واران ٹیرر" کے دنوں میں بھی عالمی معیشت کے نگہبان ادارے پاکستان کے ساتھ دوستانہ لچک دکھاتے رہے ہیں۔

قابل اعتماد ذرائع سے مگر اب علم ہوا ہے کہ آئی ایم ایف کو امریکہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کی کوئی ہدایت نہیں ملی ہے۔ ٹرمپ بہت تیزی سے امریکہ کے ریاستی اداروں پر اپنا کنٹرول کھورہا ہے۔ ایران پر مسلط کردہ اس کی جنگ امریکہ میں غیر مقبول ہے۔ بدھ کی رات ہی امریکہ کے ہائوس یعنی قومی اسمبلی نے اس کے جنگ کے بارے میں اختیارات پر لگام ڈال دی ہے۔ اب یہ معاملہ سینٹ کے روبرو جائے گا۔ بش کی افغانستان پر مسلط کردہ جنگ مگر نائین الیون کی وجہ سے امریکی عوام کی بے پناہ اکثریت کے لئے قومی بقاء اور حمیت کی جنگ تصور ہوتی رہی ہے۔

جنرل مشرف کی قیادت میں اس جنگ کے دوران امریکہ کی معاونت کرتے ہوئے ہم آئی ایم ایف جیسے اداروں سے نرم روی کی توقع رکھ سکتے تھے۔ ایران پر مسلط کردہ جنگ مگر وہ سہولت فراہم نہیں کرسکتی اور میں سادہ دل ذمہ دار ذرائع سے گفتگو سے قبل اس حقیقت کا ادراک کرنے میں ناکام رہا۔

بشکریہ: نوائے وقت

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Nange Sar Walon Ki Khair Khabar

By Abu Nasr