Bhool Bhulaiyaa Rastay
بھول بھلیاں راستے

چیک پوسٹ سے نکلے تو خرم بولا "گاڑی روکو، راستہ مجھے یاد ہے لیکن ایک مرتبہ پھر سے کنفرم کر لیتا ہوں"۔ علی سہیل نے اسے روکا "تم رکو، میں خود پوچھ کر آتا ہوں" اور یہاں پر ہم سے سنگین غلطی ہوگئی کہ وہ فقط گذارے لائق رشین بول سکتا تھا، گاڑی وہیں کھڑی کرکے علی سہیل چیک پوسٹ کی طرف پیدل گیا، جب واپس آیا تو بولا "یہ افراد بہت تعاون کرتے ہیں، آفیسر بتا رہا تھا کہ سپیڈ کم رکھو، چند کیلومیٹر بعد ایک بہت خطرناک موڑ آتا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سڑک سیدھی جا رہی ہے لیکن اس موڑ سے سیدھا مت جانا، وہاں گہری کھائی ہے، سپیڈ کم رکھنا اور دائیں موڑ کی طرف بڑھنا، اس کے چند کیلومیٹر بعد راستے میں ایک جگہ زمین پر نصب لکڑی کا سمت نما ملے گا، کسی نالائق نے گلوبوئی زالیف کی سمت والا نشان اکھاڑ کر اسے الٹی سمت نصب کر دیا تھا، وہ چیک کرلینا، اگر اس کا رخ مشرق کی سمت ہو تو اسی سڑک پر سیدھا چلتے جاؤ، جھیل کا یہاں سے فاصلہ پچاس کیلومیٹر ہے"۔
یہ رہنمائی گرچہ کافی تھی لیکن وہی ہوا جس کا ڈر تھا، چند کیلومیٹر بعد دائیں موڑ والی جگہ پر پہنچ گئے، راستہ صاف تھا، محض تجسس کی خاطر وہاں گاڑی روک کر ڈبل اشارے آن کرکے نیچے اترے، چند قدم آگے جا کر نیچے جھانک کے دیکھا، بہت گہری کھائی، اندھیرے میں ٹھیک سے گہرائی کا اندازہ نہ کر سکتے تھے، ہر طرف چھوٹی پہاڑیاں دکھائی دیتی تھیں، یہاں سے پہاڑیوں کی بلندی زیادہ ہو رہی تھی، خرم سونا چاہتا تھا، اس کی جگہ مجھے فرنٹ پر پسنجر سیٹ پر بیٹھنا پڑا۔
اس موڑ سے ہم آگے بڑھے، یہاں سڑک قدرے اچھی حالت میں تھی، جب زمینی سمت نما تک پہنچے تو علی سہیل نے وہاں بریک لگائی اور مجھ سے بولا "ذرا اتر کر چیک کرو کہ سمت نما کس جانب اشارہ کر رہا ہے"۔
میری جانے بلا کہ مشرق، مغرب، شمال و جنوب کون سی سمتوں میں واقع ہیں اور نہ میری ملکیت میں کوئی کمپاس تھی جس سے درست سمت کا تعین کرپاتے، خرم سویا پڑا تھا، باقی سب نیچے اترے اور مشورے شروع ہوگئے، آسمان پر چاند چمک رہا تھا اور نیچے ہم یہ طے کرنے سے قاصر تھے کہ چاند اس وقت کس سمت پر ہے۔
افتی نے مشورہ دیا "خرم کو جگا کر پوچھتے ہیں"۔
علی سہیل بولا "اسے سونے دو، مجھے راستے کی سمجھ آگئی ہے"۔ طے پایا کہ تیر کے نشان کی سمت آگے بڑھتے ہیں، جس جانب ہم بڑھے وہ کچی پتھریلی سڑک تھی، گاڑی ہچکولے کھاتے آگے بڑھ رہی تھی، لگ بھگ پندرہ منٹ بعد مخالف سمت سے گاڑی کی ہیڈ لائئٹس نظر آئیں، علی سہیل نے ہیڈ لائٹس جلا بجھا کر دوسری گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا، گاڑی عین ہمارے سامنے رکی تو میں خود نیچے اترا، ان کے پاس جا کر سلام کرکے گلوبوئی زالیف کا راستہ پوچھا۔
یہ دونوں رشین میاں بیوی ہماری طرح راستہ بھٹک کر دور جا نکلے تھے اور اب واپس آ رہے تھے، مرد نے بتایا "ہم تقریباً پچاس کیلومیٹر فاصلہ طے کرکے واپس آئے ہیں، جس جگہ پر نشانات نصب ہیں، گلوبوئی زالیف کی سمت والا تیر مخالف سمت میں نصب ہے"۔
میرے منہ سے بے اختیار نکلا "دھت تیرے کی" یعنی اب تک ہم ایڈونچر پر ایڈونچر ہی کر رہے تھے۔
میں واپس گاڑی کی طرف مڑا اور صورت حال گوش گذار کی، علی سہیل کا پارہ ہائی ہوگیا، "اس آفیسر نے جان بوجھ کر غلط بتایا تھا"۔
افتی نے تصحیح کی "تجھ سے سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی، رات بہت ہوگئی ہے، مزید وقت ضائع کرنا بیکار ہے، واپس چلو"۔ مرتے کیا نہ کرتے، علی سہیل نے آڑھی ترچھی کرکے گاڑی واپس گھمائی اور گالیاں بکتا ہوا ڈرائیو کرنے لگا، جب اس سمت نما تک پہنچے تو ایک مرتبہ پھر سے سوچ میں پڑ گئے کہ اب کس سمت جانا ہے، ایسے میں عقبی سمت سے آتے اسی رشین جوڑے نے رہنمائی کی، ہمارا غصہ عروج پر تھا، میں دروازہ کھول کر نیچے اترا اور سمت نما کے پاس جا کر اسے اکھاڑنے کیلئے زور لگانے لگا، علی سہیل دوڑا دوڑا میرے پاس آیا اور پوچھا "کیا کر رہے ہو؟"
میں زور لگاتے جواب دیا "اس۔۔ کو اکھاڑ کر کھائی میں پھینک دینا ہے"۔
وہ قہقہہ لگا کر ہنسا "پاگل مت بنو" اور میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچتا ہوا واپس لے گیا، پھر سے سفر شروع ہوا، اس مقام سے آگے سڑک شاندار تھی، ایک موڑ پر رشین جوڑے کی گاڑی ہم سے آگے کھڑی تھی، ہم سمجھے کہ شائد ان کو مدد کی ضرورت ہوگی، گاڑی روک کر جب ان کے پاس پہنچے تو وہ دنیا وہ مافیہا سے بے خبر خاموش سامنے دیکھے جا رہے تھے۔
ان کی نظروں کا تعاقب کرتے جب منظر کو دیکھا تو وقت جیسے تھم سا گیا، چودھویں کے چاند کی پر سکون رات میں آسمان چاندی کی چمک میں نہایا ہوا، پہاڑی سلسلے کی ہر چوٹی چمکتی ہوئی، ہم نے اپنے آپ کو ایک خاموش پہاڑی پر کھڑے گلوبوئی زلیف کے دل میں جھانکتے ہوئے پایا، رات کی نرم سرگوشیوں کو لے کر ہوا کرکراتی اور جادوئی خاموشی میں لپٹی محسوس ہوئی، دور سے ہم نے ایک دم توڑ دینے والا نظارہ دیکھا، پانچ مختلف اطراف سے چشمے ڈھلوانوں سے نیچے بہہ رہے تھے، ان کا بہاؤ ایک روشن آسمانی ستارے سے مشابہ تھا، طاقتور سرچ لائٹیں پانی کے سفر کو روشن کرتی ہوئیں، ہر قطرہ مائع ہیروں کی طرح چمکتا، یہ منظر دن کی روشنی میں کبھی نظر نہ آتا، یہ پوشیدہ عجوبہ صرف چاندنی رات کی نرم آغوش میں دیکھنا ممکن تھا۔
مقامی لوگوں نے سچ کہا تھا "گلوبوئی زالیف کو رات کے وقت دیکھنا چاہیے تاکہ اس کی دلکشی کی صحیح معنوں میں تعریف کی جا سکے، کوئی دوسری جھیل اس قدرتی سحر انگیز حسن کا مقابلہ نہیں کر سکتی"۔ ایک خوابیدہ منظر دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا، اس چمکتی ہوئی رات کی یاد، ستاروں کی شکل کے چشمے اور چاندنی کا جادو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا، اس منظر کی خوب صورتی بیان کرنے کے لئے مجھے آج تک مناسب الفاظ ہی نہیں مل سکے۔
محتاط ڈرائیو کرتے گلوبوئی زالیف کے مضافات میں پہنچ گئے، لیکن آگے بھی حیرتوں کا ایک جہان ہمارا منتظر تھا، داخلے کا ایک ہی راستہ تھا، سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی بھرمار، شائد بجلی سرے سے دستیاب نہ تھی یا پورے علاقے کی بجلی بند تھی، گاڑی پارک کرنے کیلئے دس بارہ منٹ گھومتے رہے لیکن خالی جگہ نہ ملی، اونچے نیچے راستوں پر سفر کی تھکان سے جسم بھی ٹوٹ رہا تھا، سڑک اونچائی کی طرف گامزن ہو کر ہموار ہوگئی تھی۔
علی سہیل نے دائیں جانب ایک چوڑی گلی میں گاڑی داخل کی، ایک عمارت کے باہر کھڑی سگریٹ نوشی کرتے عریاں لڑکی پر جیسے ہی نظر پڑی، اس نے گاڑی کا ایکسکلریٹر دبا کر سپیڈ بڑھائی، ٹائروں کے چرچرانے کی آواز سن کر لڑکی یک لخت اندر کی جانب دوڑی، عین اس عمارت کے سامنے علی سہیل نے گاڑی روکی، پوری قوت سے بریک دابے، بھرپور قوت سے ہینڈ بریک کھینچی اور گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی، ہم بغیر سوچے سمجھے دروازے کھول کر عمارت کے داخلی دروازے کی جانب دوڑے۔
سیڑھیوں میں دوڑتی لڑکی کے قدموں کی آوازیں سنائی دیں، ہم بھی دوڑتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگے، ہم اپنی دھن میں ایک کی بجائے دو دو سیڑھیاں پھلانگتے لگے، لڑکی کی قدموں کی آوازیں سنائی دینا بند ہو چکی تھیں، شائد وہ اپنے فلیٹ میں گھس چکی تھی، سیڑھیاں چڑھتے ہم آخری منزل تک پہنچ گئے، چھت پر جانے والا دروازہ بند تھا، وہاں رک کر ہم نے گہرے سانس لئے، ایک دوسرے کو الزام دینے لگے، جب آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو واپس سیڑھیاں اترنے لگے، جوش میں آخری منزل تک پہنچ گئے تھے لیکن واپسی پر پھونک پھونک کر قدم رکھنے پڑ رہے تھے، گرنے سے بچنے کیلئے ایک قدم نیچے رکھتے، اگر قدم محفوظ ہوتا تو دوسرے سے کہتے "قدم بڑھاؤ"، نیچے اترتے ہوئے بھی غور سے دیکھ رہے تھے کہ شائد کوئی دروازہ کھلا ہو اور وہ لڑکی باہر جھانک کر ہمیں دیکھ رہی ہو، اس طرح نیچے اترنے میں پانچ منٹ لگے۔
عمارت سے باہر نکلے تو گاڑی اسی طرح سٹارٹ کھڑی تھی، افتی، رانا کاشف اور خرم گاڑی کے باہر پریشان کھڑے ہمارے منتظر تھے، انہیں ماجرا بتایا تو سارے مشٹنڈے کھل کر ہنسے، ایک تجویز آئی کہ عمارت میں داخل ہو کر اس گمنام عفیفہ کو تلاش کرنے کی سعی کی جائے، کیا پتہ قسمت کی دیوی مہربان ہو جائے لیکن گھپ اندھیرے میں دیواروں کو ٹکریں مارنے کے خطرے کے پیش نظر کسی نے یہ رسک لینا مناسب نہ سمجھا، اپنی قسمت پر نادم ہو کر کف افسوس ملتے رات گذارنے کیلئے ہوٹل کی تلاش میں نکلے، ہوٹل گرچہ وافر تعداد میں تھے لیکن ٹورسٹ سیزن ہونے کی وجہ سے کسی ہوٹل میں ایک کمرہ بھی نہ ملا، اب ہم تھے اور گلوبوئی زالیف کی اندھیری سڑکیں۔

