Tuesday, 02 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Touq Ul Hamama

Touq Ul Hamama

طوقُ الحمامہ

دنیا کی بعض کتابیں محض پڑھی نہیں جاتیں، محسوس کی جاتی ہیں۔ ان کے لفظ کاغذ پر نہیں، دل کے کسی نرم گوشے پر ثبت ہوتے ہیں۔ ایسی ہی ایک لازوال اور سحر انگیز کتاب "طوقُ الحمامہ فی الألفۃ والأُلّاف" ہے، جو صدیوں کے فاصلے طے کرنے کے باوجود آج بھی انسانی جذبات کی سب سے سچی اور گہری ترجمان محسوس ہوتی ہے۔ اس کتاب کا نام ہی اپنے اندر ایک عجیب شعری کیفیت اور روحانی رمز رکھتا ہے۔ عربی زبان میں "طوق" اس ہار یا حلقے کو کہتے ہیں جو گلے میں ڈالا جائے، لیکن ادب کی دنیا میں یہی لفظ اس تعلق اور وابستگی کے لیے بھی بولا جاتا ہے جو انسان کے وجود کا ایسا حصہ بن جائے کہ اس سے رہائی ممکن نہ رہے۔

"حمامہ" کبوتر یا قمری کو کہتے ہیں اور عربوں نے خاص طور پر اس خوبصورت دائرے کو "طوق الحمامہ" کہا جو بعض کبوتروں کے گلے کے گرد قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے۔ یہ دائرہ اس پرندے کی پیدائش سے لے کر موت تک اس کے وجود کا حصہ رہتا ہے، کبھی جدا نہیں ہوتا۔ امام ابن حزم اندلسیؒ نے اسی منظر کو محبت کے استعارے کے طور پر اختیار کیا کہ عشق بھی انسان کی روح کے گرد ایسے ہی لپٹ جاتا ہے جیسے کبوتر کے گلے کا وہ دائمی طوق، جو عمر بھر ساتھ رہتا ہے اور کبھی اترتا نہیں۔

یہ کتاب پانچویں صدی ہجری کے عظیم اندلسی عالم، فقیہ، فلسفی اور ادیب امام ابن حزم اندلسیؒ نے تحریر فرمائی۔ اندلس اُس زمانے میں علم، تہذیب، حسن، موسیقی، ادب اور فکر کا ایک درخشاں مرکز تھا۔ قرطبہ، غرناطہ اور اشبیلیہ جیسے شہر صرف عمارتوں اور باغوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ذہانت، جمالیات اور فکری عظمت کی وجہ سے بھی پہچانے جاتے تھے۔ ایسے ماحول میں لکھی جانے والی یہ کتاب محض عشق و محبت کی روایتی داستان نہیں بلکہ انسانی نفسیات، روحانی کشش، قلبی واردات اور باطنی احساسات کا ایک عمیق مطالعہ ہے۔ امام ابن حزم نے اس کتاب میں محبت کو محض جسمانی کشش یا وقتی جذبات کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے روحوں کے باہمی تعارف اور دلوں کے پراسرار اتصال سے تعبیر کیا۔ ان کے نزدیک بعض روحیں ایک دوسرے کو پہچان لیتی ہیں، جیسے صدیوں پہلے بچھڑے ہوئے دو ہم سفر اچانک دوبارہ مل گئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض انسان پہلی ملاقات ہی میں ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہیں رہتے۔ وہ دل کی کسی ان دیکھی دنیا میں پہلے ہی ایک دوسرے سے متعارف ہو چکے ہوتے ہیں۔

"طوقُ الحمامہ" کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس میں تخیل سے زیادہ مشاہدہ ہے، مبالغے سے زیادہ سچائی ہے اور داستان سرائی سے زیادہ انسانی نفسیات کی باریک فہم موجود ہے۔ امام ابن حزم نے واضح طور پر لکھا کہ انہوں نے صرف وہی واقعات بیان کیے ہیں جو خود دیکھے، سنے یا معتبر لوگوں سے معلوم کیے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب میں بیان ہونے والے کردار افسانوی محسوس نہیں ہوتے بلکہ سانس لیتے ہوئے انسان دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں کوئی خاموش محبت میں جل رہا ہے، کہیں کوئی محبوب کی بے رخی سے ٹوٹ رہا ہے، کہیں ایک نظر پوری زندگی بدل دیتی ہے، کہیں ایک ملاقات انسان کو عبادت گزار سے شاعر بنا دیتی ہے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ گیارہویں صدی میں لکھا گیا یہ متن آج کے انسان کے دل کی بھی اسی طرح ترجمانی کرتا ہے جیسے صدیوں پہلے کرتا تھا۔ زمانے بدل گئے، لباس بدل گئے، شہر بدل گئے، مگر محبت کے احساسات نہیں بدلے۔ دل آج بھی اسی طرح دھڑکتا ہے، آنکھ آج بھی اسی طرح انتظار کرتی ہے اور جدائی آج بھی اسی طرح انسان کو خاموش کر دیتی ہے۔

امام ابن حزم کی عظمت یہ ہے کہ انہوں نے محبت کو گناہ یا کمزوری کہہ کر رد نہیں کیا بلکہ اسے انسانی فطرت کا ایک حقیقی اور ناگزیر حصہ مانا۔ البتہ انہوں نے محبت اور ہوس کے درمیان ایک واضح فرق بھی قائم کیا۔ ان کے نزدیک سچی محبت انسان کے اخلاق، حلم، وفاداری اور پاکیزگی میں اضافہ کرتی ہے، جبکہ محض خواہش انسان کو بے سکون اور بے قرار کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "طوقُ الحمامہ" میں محبت کی داستانوں کے ساتھ ساتھ وفاداری، جدائی، راز داری، حسد، بے وفائی، وصل اور ہجر جیسے موضوعات پر بھی نہایت باریک گفتگو ملتی ہے۔ وہ عاشق کے دل کی ان کیفیات کو اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ قاری خود کو ان صفحات کے اندر چلتا پھرتا محسوس کرنے لگتا ہے۔ کہیں کسی کی خاموشی بولتی ہے، کہیں ایک خط پوری روح کو ہلا دیتا ہے، کہیں ایک مسکراہٹ زندگی بھر کا اثاثہ بن جاتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ امام ابن حزم صرف ایک فقیہ یا ادیب نہیں تھے بلکہ انسانی روح کے ایک غیر معمولی قاری بھی تھے، جو دل کے پوشیدہ رازوں کو لفظوں میں ڈھالنے کا ہنر جانتے تھے۔

یہ بھی حیرت انگیز حقیقت ہے کہ ایک مذہبی عالم ہونے کے باوجود امام ابن حزم نے انسانی جذبات کے بیان میں تنگ نظری اختیار نہیں کی۔ انہوں نے محبت کے وجود سے انکار کرنے کے بجائے اسے سمجھنے اور اس کی تہذیب سکھانے کی کوشش کی۔ یہی وہ اعتدال ہے جو بڑے علما اور عظیم ادیبوں کی پہچان بنتا ہے۔ "طوقُ الحمامہ" ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ محبت اگر پاکیزگی، احترام اور وفاداری کے دائرے میں ہو تو وہ انسان کے باطن کو روشن کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کو صرف عربی ادب کا شاہکار نہیں بلکہ انسانی جذبات کی تاریخ کا ایک درخشاں باب سمجھا جاتا ہے۔ مغرب اور مشرق دونوں میں اس پر بے شمار تحقیقات ہوئیں، مختلف زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے اور آج بھی دنیا کی بڑی جامعات میں اسے ادب، نفسیات اور تہذیب کے مطالعے میں اہم مقام حاصل ہے۔

بعض کتابیں وقت کے ساتھ پرانی ہو جاتی ہیں، مگر کچھ کتابیں وقت سے بلند ہو جاتی ہیں۔ "طوقُ الحمامہ" انہی نایاب کتابوں میں سے ایک ہے۔ یہ صرف محبت کی کتاب نہیں، انسان کے باطن کی کتاب ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دل کی دنیا کتنی پیچیدہ، کتنی نازک اور کتنی مقدس ہو سکتی ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ انسان چاہے کتنا ہی عقل مند، عالم یا طاقتور کیوں نہ ہو، محبت بہرحال اس کے وجود کے گرد اپنا ایک طوق ڈال دیتی ہے۔ ایک ایسا طوق جو کبھی زنجیر بن جاتا ہے، کبھی روشنی، کبھی دعا، کبھی اذیت اور کبھی زندگی کا سب سے خوبصورت راز۔ شاید اسی لیے صدیوں بعد بھی "طوقُ الحمامہ" کے صفحات کھولے جائیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے قرطبہ کی کسی خاموش رات میں ایک دانا انسان بیٹھا آج بھی انسانی دل کی دھڑکنیں سن رہا ہو اور انہیں لفظوں کی صورت ہمیشہ کے لیے محفوظ کہا ہو۔

Check Also

Pakistan: Aam Admi Ki Mushkilat Aur Masail Ka Hal

By Aftab Alam