Jadeediyat
جدیدیت
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں حق و باطل کی تمیز کرنا بہت مشکل ہوچکا ہے۔ سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی کی روز افزوں ترقی نے آج کے انسان کو ایک غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کردیا ہے۔ دورِ جدید میں انسان کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ آج کی نسل کی لغت میں وہ اصطلاحات ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں جو ہمارے آبا و اجداد کے زمانے میں بہت آن و شان سے نہ صرف وجود رکھتی تھیں بلکہ زندگیوں کا حصہ بھی تھیں۔
بالفاظِ دیگر، زندگیاں انہی اصطلاحات کی بنیاد پر قائم تھیں۔ مثال کے طور پر نسلِ جدید کی لغت میں حرام و حلال، جائز و ناجائز، شرم و حیا، سود، زنا، نشہ، پردہ، غیرت، عزت و ناموس، صبر و برداشت، بزرگوں کا ادب و احترام، اساتذہ کرام کو روحانی باپ کا درجہ دینا، ناداروں اور غریبوں کے ساتھ ہمدردی اور بھائی چارے کا اظہار کرنا اور ہمسائیوں کے ساتھ دکھ سکھ میں شریک ہونا جیسی اصطلاحات اب مفقود ہو چکی ہیں۔
ان روایتی اصطلاحات کی جگہ اب ایسے نئے تصورات نے لے لی ہے جو آج کی نسل کے لیے زیادہ دلکش، دلچسپ اور دل کو موہ لینے والے ہیں اور آج کی زندگیاں انہی کی بنیاد پر استوار ہیں۔ ان نئے تصورات میں روشن خیالی، سیکولرزم اور جنسی آزادی وغیرہ شامل ہیں۔ کچھ اصطلاحات تو وہی ہیں مگر ان کا مفہوم بالکل بدل چکا ہے، مثلاً آزادی کی اصطلاح کو دیکھیے۔ اس زمانے میں آزادی کا مفہوم غلامی سے نجات پانا تھا مگر آج آزادی کا مفہوم یہ بن چکا ہے کہ انسان ہر لحاظ سے ہر قسم کے حدود و قیود سے ماورا ہو اور اس پر کسی کی طرف سے کسی بھی قسم کی پابندی نہ ہو۔
بیوی پر شوہر کی اور شوہر پر بیوی کی پابندی نہ ہو جبکہ بچوں پر والدین یا اساتذہ کی طرف سے کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ ہر کسی کو اپنے فیصلے خود کرنے کا مکمل اختیار ہو اور اس سلسلے میں اگر مذہب بھی رکاوٹ بنے تو اس کو نظر انداز کردیا جائے۔ اسی طرح ایک اور اصطلاح معیار کی ہے۔ پہلے زمانے میں معیار کا مفہوم کسی چیز، شخص یا حالت کا ظاہر و باطن میں ایک ہونا یعنی خالص ہونا تھا مگر آج کی نسل کے لیے معیار کا مطلب ظاہری خوبصورتی، بے بہا دولت، پرتعیش طرزِ زندگی، بینک بیلنس، بنگلہ اور مہنگی گاڑی وغیرہ بن چکا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زمانے میں اتنی بڑی تبدیلی کیوں اور کیسے آئی، تو اس کا سیدھا سا جواب جدیدیت یعنی ماڈرنزم ہے۔ جدیدیت نے انسان کو ایک ایسی اندھی دوڑ کے پیچھے لگا دیا ہے جہاں صرف نفس اور مادے کی پرستش کی جاتی ہے۔ جہاں صرف ظاہر کی ستائش ہوتی ہے اور کامیابی کا پیمانہ بالکل بدل چکا ہے۔ آج کے دور میں جو چیز نفس کو تسکین پہنچانے سے روکے اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور جو چیز مادے کے حصول کی دوڑ کو سست کرنے پر مجبور کرے اس کا نام و نشان تک مٹا دیا جاتا ہے، خواہ وہ مذہب ہو، انسانیت ہو، بھائی چارہ ہو یا پھر عقل و شعور۔

