Saturday, 06 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Hamza Bhatti
  4. Crowd Puller Se Ghaddari Tak Ka Safar

Crowd Puller Se Ghaddari Tak Ka Safar

کراؤڈ پُلر لیڈر سے غداری تک کا سفر

پاکستانی سیاست میں بعض شخصیات اپنی جماعتی حیثیت سے زیادہ اپنے عوامی تاثر کے باعث پہچانی جاتی ہیں۔ شیر افضل مروت کا شمار بھی اِنہی چند ناموں میں ہوتا ہے۔ جنہوں نے مختصر عرصے میں جلسوں، میڈیا مباحثوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایک غیر معمولی عوامی مقبولیت حاصل کی۔ وہ ایک ایسے وقت میں اُبھرے جب اِن کی جماعت پاکستان تحریک انصاف پر کڑا وقت چل رہا تھا۔ اِسی کڑے وقت کی وجہ سے جماعت کے بڑے بڑے رہنما پی ٹی آئی کو خیر آباد کہہ رہے تھے اور جو باقی بچ گئے وہ کچھ جیلوں میں تھے اور کچھ غائب۔ اِس سخت وقت میں شیر افضل مروت نہ صرف پارٹی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے بلکہ کراؤڈ پُلر لیڈر کے طور پر بھی سامنے آئے۔ ان کی جارحانہ گفتگو، بے باک انداز اور عوامی اجتماعات میں جوشیلے لب و لہجے نے انہیں محض ایک سیاسی کارکن نہیں بلکہ ایک "کراؤڈ پُلر" رہنما کے طور پر متعارف کروایا۔

مگر سیاست میں مقبولیت ہمیشہ وفاداری کی ضمانت نہیں بنتی۔ طاقت کے ایوانوں، جماعتی نظم و ضبط، ذاتی اختلافات اور سیاسی حکمتِ عملیوں کے درمیان اکثر وہ لمحہ آتا ہے جب ایک ہی شخصیت کو کبھی وفادار سپاہی اور کبھی باغی یا غدار کے طور پر پیش کیا جانے لگتا ہے۔ شیر افضل مروت کی سیاسی کہانی بھی اِسی تضاد کی عکاس دکھائی دیتی ہے۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر شیر افضل مروت عمران خان کے نام سے منسلک نہ ہوتے تو شاید اتنی شہرت حاصل نہ کر پاتے۔ لیکن اس سب سے پہلے بھی وہ اپنی ایک پہچان رکھتے تھے جوڈیشری سے منسلک رہے ایک بہترین وکیل تھے اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ عمران خان کے نام کے ساتھ منسلک ہو کر تو اور بھی بہت سے لوگوں نے شہرت حاصل کی۔

کیا صرف شیر افضل مروت ہی عمران خان کا نام لے کر پارلیمنٹ تک پہنچے؟ نہیں نا۔ آج اگر تحریک انصاف والے شیر افضل مروت کو غدار اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں۔ انہیں اُس وقت کے شیر افضل مروت کو بھی تو دیکھنا چاہیے جب پورے ملک میں بڑے بڑے رہنما عمران خان کا نام لینے سے ڈرتے تھے تو اُس وقت چند آوازوں میں ایک آواز شیر افضل مروت کی بھی تھی جس نے پورے ملک میں عمران خان کے نعرے لگوائے۔ اِس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کا سوشل میڈیا باقی جماعتوں کے سوشل میڈیا سے بہت زیادہ آگے ہے۔ جو کہ بہت اچھی بات ہے کیونکہ زیادہ تر نوجوان طبقہ اِس جماعت کے ساتھ ہی منسلک ہے اور سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بھی نوجوان طبقہ ہی کرتا ہے۔ لیکن اس کا ایک منفی پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی رہنما جانے یا انجانے میں پارٹی پالیسی سے تھوڑا سا ہٹ کر اپنی رائے کا اظہار کرنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ پارٹی کی ہر پالیسی سے تو اتفاق نہیں نہ کیا جا سکتا، کچھ چیزیں ہوتی ہیں جس پر انسان اپنی ایک رائے رکھتا ہے اگر ہر بات پر ہاں میں ہاں ملائی جائے تو وہ تو غلامی کے زُمرے میں آتا ہے۔

تحریک انصاف کا سوشل میڈیا پھر اُس رہنما کی کردار کُشی پر اُتر آتا ہے اور اتنی بدترین کردار کُشی کرتا ہے کہ اللہ کی پناہ اور ظاہر ہے کہ مضبوط اتنا ہے کہ اس کا مقابلہ تو کوئی کرنے سے رہا، لہذا یہ نہایت ہی نامناسب رویہ ہے اور یقین مانیں تحریک انصاف کا ہر رہنما قائم مقام چیئرمین بیرسٹر گوہر سے لے کر نیچے تک کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں ہر رہنما اس خوف میں مبتلا ہے کہ کہیں وہ جانے انجانے میں کوئی ایسی بات نہ کر بیٹھے جس سے سوشل میڈیا پر اُس کے خلاف کمپین چل نکلے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس رویے کو بدلنے کی ضرورت ہے اور رہی بات شیر افضل مروت کی تو موصوف اِس رویے کے عادی نہیں تھے اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں موصوف میں برداشت کا لیول بھی بہت کم ہے جس کی وجہ سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر مختلف رہنماؤں سے اِن کے اختلافات بنتے رہے اور آخر میں وہ اختلافات عمران خان کی بہن علیمہ خان تک جا پہنچے جہاں سے معاملات زیادہ خراب ہو گئے۔ ظاہر ہے سیاست میں برداشت بھی بہت کچھ کرنا پڑتا ہے، جس کا مظاہرہ مروت صاحب نہ کر سکے اور متعدد شوکاز نوٹس ملنے کے بعد آخر کار پارٹی سے نکال دیے گئے۔ لیکن مروت صاحب آج بھی عمران خان کو ہی اپنا لیڈر مانتے ہیں بلکہ محبوب کہتے ہیں وہ شعر ہے نا:

دل اُس کو دیا ہے تو وہی اِس میں رہے گا

ہم لوگ امانت میں خیانت نہیں کرتے

بدقسمتی سے پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں اختلافِ رائے کی کوئی گنجائش نہیں کہیں ہے بھی تو بہت محدود، اگر آپ جی حضوری اور ہاں میں ہاں ملاتے جائیں گے تو پارٹی کے عہدے بھی ملیں گے اور آپ پارٹی کے سرکردہ رہنما بھی تصور کیے جائیں گے اور اگر اختلاف رائے کرنے کی تھوڑی سی کوشش بھی کریں گے تو اس کا انجام وہی ہوگا جو بہت سوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ جب مخدوم جاوید ہاشمی جیسے بڑے قد والے سیاست دان پارٹیوں میں اختلاف کرنے کی وجہ سے برداشت نہ کیے جا سکے ہوں، جو میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت موجود سیاستدانوں میں جمہوریت کا اصل چہرہ ہیں تو شیر افضل مروت صاحب کو تو سیاست میں آئے جمعہ جمعہ اٹھ دن ہوئے ہیں۔

ستمبر 2024 کی بات ہے ہم چند دوست پارلیمنٹ کا اجلاس دیکھنے کے لیے گئے۔ اُن دنوں تحریک انصاف پر بہت سخت وقت چل رہا تھا اب بھی اِن کے لیے کوئی دودھ یا شہد کی نہریں تو نہیں بہ رہی (گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات سے پہلے کی صورتحال ہی دیکھ لیں) مگر اُس وقت حالات زیادہ ہی سخت تھے۔ پارلیمنٹ کے اُس اجلاس سے ایک یا دو دن پہلے تحریک انصاف نے اسلام آباد میں ایک جلسہ کیا، جس میں مقررہ وقت جس کی انتظامیہ نے اجازت دی تھی سے کچھ وقت زیادہ جلسہ جاری رہا جس کو جواز بنا کر تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریاں کی جانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں اور اس جلسے میں شیر افضل مروت نے بھی اچھی خاصی سخت باتیں کی تھی لہذا مروت صاحب کا گرفتار ہونا تو لازمی تھا۔ ہم بھی پارلیمنٹ کا یہ اجلاس دیکھنے کے لیے جا پہنچے۔ مختلف رہنماؤں کی تقاریر سنی۔

شیر افضل مروت بھی اسلام آباد پولیس سے بچتے بچاتے پارلیمنٹ آ پہنچے۔ مروت صاحب تقریر کرنا چاہتے تھے لیکن کیونکہ دیر سے پہنچے تھے شاید اسلام آباد پولیس کو چکمہ دیتے رہے لہذا جب وہ پہنچے تو اُس دن کی کاروائی ختم ہونے کے قریب تھی، لہذا وہ اپنی تقریر نہ کر سکے۔ اجلاس ختم ہونے کے بعد جب وہ باہر نکلے تو اُن کے ساتھ 15 سے 20 گارڈ جو کہ اُن کے اپنے مروت قبیلے کے بتائے جا رہے تھے موجود تھے جب وہ پارلیمنٹ کے دروازے سے نکلے اور سیڑھیوں کی طرف جانے لگے تو میں نے اُن کے گارڈز کے حِصار کو عبور کرتے ہوئے اُن تک رسائی حاصل کر لی اور ہم تقریباََ ساتھ ہی سیڑھیاں اُترتے نیچے پارلیمنٹ کی لابی میں پہنچے۔

میں نے مروت صاحب کی گزشتہ جلسے میں کی جانے والی تقریر کی تعریف کی اور کہا کہ شکر ہے کہ پاکستانی سیاست میں ابھی تک ایسے سیاسی ورکر موجود ہیں جو مقتدر حلقوں کو آئینہ دکھائیں۔ مروت صاحب سگریٹ کا کش لگاتے بڑے پُر سکون انداز سے سیڑھیاں اُتر رہے تھے اُن کے گارڈز اور اُن کا سیکرٹری مسلسل انہیں اس بات کی اطلاع دے رہے تھے کہ نیچے پولیس تحریک انصاف کے رہنماؤں کو گرفتار کرنے کے لیے پہنچ چکی ہے لہذا نیچے جانا خطرے سے خالی نہیں، لیکن مروت صاحب نے ان کی باتوں پر کوئی خاص دھیان نہ دیا اور تیزی سے نیچے اُترتے رہے۔

لابی میں نیچے آئے تو کافی لوگوں نے اُن کے ساتھ تصاویر بنوائی۔ شام ڈھل چکی تھی اور اندھیرا ہو چکا تھا۔ مروت صاحب اپنے گارڈز کے ہمراہ اپنی گاڑی کی طرف گئے اور باہر دروازے پر پولیس نے انہیں گھیر لیا۔ میں اپنے دوسرے دوستوں کے انتظار میں پارلیمنٹ کی لابی میں ہی کھڑا رہا اتنے میں شیر افضل خان مروت کا سیکرٹری اظہار خان جو کہ سوشل میڈیا پر بڑا مشہور ہے بھاگتا ہوا پارلیمنٹ کے اندر آتا دکھائی دیا میں نے اُس سے پوچھا کہ خیریت ہے تو کہنے لگا کہ مروت صاحب کو گرفتار کر لیا گیا ہے تو میں نے کہا کہ تم بھی اپنے بوس کے ساتھ ہی گرفتاری دے دیتے، جس پر اظہار خان کچھ کہے بغیر پریشانی کے باوجود مسکراتا پارلیمنٹ کے اندر چلا گیا جہاں پر تحریک انصاف کے کافی ایم این ایز پناہ لیے بیٹھے تھے۔ جس کے بعد رات کو ایک آپریشن کے ذریعے تمام رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا اور جس پر مولانا فضل الرحمان اور بڑے بڑے رہنماؤں نے بیانات جاری کیے تھے کہ یہ پارلیمنٹ پر حملہ ہے کہ پارلیمنٹیرینز کو پارلیمنٹ کی حدود سے گرفتار کیا گیا اور اسپیکرنے بھی اس کا سخت نوٹس لیا تھا کہ پولیس پارلیمنٹ کی حدود میں کیوں داخل ہوئی اور شیر افضل مروت کی گرفتاری کی ویڈیو کا بھی سوشل میڈیا پر بڑا چرچہ رہا تھا جس میں موصوف سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے گاڑی سے نکلتے ہیں اور گرفتاری دیتے ہیں۔

اگر آج تحریک انصاف کا سوشل میڈیا شیر افضل مروت کو غدار اور نہ جانے کیا کیا کہتا ہے تو اُنہیں ماضی کے اِن واقعات کو بھی تو دیکھنا چاہیے۔ اصل میں میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک انسانی فطرت ہے کہ کوئی انسان اگر آپ کے لیے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دے بیٹھا ہو جب وہ کہیں جانے یا انجانے میں ایک ادھ غلطی کرے گا تو اس کی اہمیت وہ نہیں رہے گی جو کبھی تھی۔ لہذا جماعتوں کو بھی چاہیے کہ اپنے رہنماؤں کے تھوڑے بہت اختلاف کو برداشت کرے اور شیر افضل مروت جیسے جذباتی رہنماؤں کو بھی چاہیے کہ اگر وہ پارٹی کے ساتھ واقعتًا مخلص ہیں تو چھوٹے چھوٹے اِختلافات کو اس حد تک نہ لے جائیں کہ آپ کو آخر کار جماعت سے ہی نکالنا پڑ جائے۔

بہرحال میں سمجھتا ہوں کہ ہماری سیاسی جماعتوں کو بھی اختلاف رائے برداشت کرنا چاہیے تا کہ جماعتوں میں اصل جمہوریت آئے ویسے تو جمہوریت جمہوریت کے نعرے بہت بلند کیے جاتے ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ جب جماعتوں کے اندر ہی جمہوریت نہیں ہوگی تو ملک میں کیسے جمہوریت لائی جائے گی۔ 2014 کے دھرنوں میں جب مخدوم جاوید ہاشمی پاکستان تحریک انصاف کے صدر تھے تو عمران خان سے اختلافات پیدا ہونے پر مخدوم صاحب کنٹینر سے سیدھا پارلیمنٹ میں آئے اور اپنا استعفیٰ دیتے ہوئے تقریر میں کہا کہ ہماری جماعتوں کے اندر حکومتیں گرانے اور بنانے کا ایک نظام موجود ہے میں ہمیشہ اس نظام کے خلاف بولتا آیا ہوں، جب تک ہماری جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں آئے گی اُس وقت تک ملک میں جمہوریت کا خواب دیکھنا، احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ اختلاف رائے کرنے کو جمہوریت کا حسن کہا گیا ہے۔ لہذا سب کو اِسے اپنانے کی ضرورت ہے۔

About Hamza Bhatti

Ameer Hamza Umer Bhatti is from Sargodha. He is a student and studies BS Department of English literature in University of Lahore (SGD Campus). He loves to write on social and political issues. He wants to become a journalist.

Check Also

Kasb e Kamal e Kun: Baba Phatta

By Asif Masood