Saturday, 30 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muzammil Iqbal
  4. Bohran Aabna e Hormuz Aur Americi Sharait

Bohran Aabna e Hormuz Aur Americi Sharait

بحران آبنائے ہرمز اور امریکی شرائط

نقشے پر کھینچی گئی لکیریں اور سمندری لہریں بعض اوقات کسی خطے کی تقدیر کا فیصلہ اس انداز میں کرتی ہیں کہ دنیا بھر کے دارالحکومت ان کے تابع ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ریاستوں کا عروج تاریخ میں ہمیشہ ان گزرگاہوں سے جڑا رہا ہے جہاں سے مال و زر کی نقل و حمل ہوتی تھی۔ قرونِ وسطیٰ کے قافلوں سے لے کر جدید دور کے بحری بیڑوں تک طاقت کا ترازو اسی کے پلڑے میں جھکتا رہا ہے جس کا کنٹرول تجارتی راستوں پر مضبوط رہا ہو۔ جدید اور مشینی دور میں جہاں صنعتوں کا پہیہ پٹرولیم اور گیس کی مرہونِ منت ہے، زمین کے ایک چھوٹے سے سمندری ٹکڑے نے پوری دنیا کی سانسیں روک رکھی ہیں۔ یہ ٹکڑا آبنائے ہرمز ہے، ایک ایسا جغرافیائی موڑ جہاں سیاست، جنگ اور معیشت کی لہریں آپس میں ٹکراتی ہیں اور جس کی خاموشی یا ہلچل سے عالمی منڈیوں میں زلزلے آجاتے ہیں۔

خلیج فارس کو خلیج عمان کے پانیوں سے جوڑنے والا یہ راستہ محض 167 کلومیٹر طویل ہے اور اس کا سب سے تنگ دہانہ صرف 39 کلومیٹر چوڑا ہے۔ اس کے ایک طرف ایران کی پہاڑی سرحدیں ہیں اور دوسری طرف عمان کا جزیرہ نما مسندم اور متحدہ عرب امارات کا ساحل پھیلا ہوا ہے۔ بظاہر یہ پانی کا ایک عام سا راستہ نظر آتا ہے، لیکن عالمی توانائی کی دنیا میں اس کی حیثیت انسانی جسم میں دوڑنے والے خون جیسی ہے۔ دنیا بھر میں بحری جہازوں کے ذریعے سپلائی ہونے والے کل خام تیل کا تقریباً 25 فیصد روزانہ اسی تنگ راستے سے ہو کر گزرتا ہے۔ قطر کی مائع قدرتی گیس ایل این جی ہو یا کویت، سعودی عرب اور امارات کا ایندھن، یورپ اور ایشیا کی صنعتوں کو زندہ رکھنے کے لیے اس بحری گلیارے سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ معاشی اہمیت کے ساتھ ساتھ، یہ خطہ خوبصورت مرجان کی چٹانوں، ڈولفنز اور نایاب سمندری کچھووں کا مسکن بھی ہے، جس کی وجہ سے اس کی ماحولیاتی حساسیت بھی غیر معمولی ہے۔

اگرچہ یہ علاقہ صدیوں سے پرتگالیوں، صفویوں اور برطانوی بحریہ کی رسہ کشی کا مرکز رہا ہے، لیکن فروری 2026 میں آنے والے موڑ نے یہاں ایک ہولناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ 28 فروری کو ایران کی سرزمین پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد، جس میں اعلیٰ ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا، تہران نے تزویراتی ردِعمل کے طور پر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بلاک کر دیا۔ اس ناکہ بندی نے خلیج فارس کو ایک بند گلی میں تبدیل کر دیا، جہاں دنیا بھر کے لیے نکلنے والا تیل اچانک قید ہو کر رہ گیا۔ مارچ کے مہینے میں ایران نے اس گزرگاہ پر اپنے مستقل تسلط کو قانونی شکل دینے کے لیے "خلیج فارس آبنائے اتھارٹی" کے نام سے ایک نیا ادارہ تشکیل دیا اور مئی میں جاری کیے گئے ایک نئے نقشے کے ذریعے خلیج کے وسطی اور مشرقی پانیوں پر اپنی مکمل حاکمیت کا اعلان کر دیا۔

اس کے جواب میں واشنگٹن نے 'پروجیکٹ فریڈم' نامی فوجی مشن شروع کیا، جس کا مقصد امریکی سینٹرل کمانڈ کی نگرانی میں تجارتی جہازوں کو ایرانی حدود سے زبردستی راستہ فراہم کرنا اور پانی میں بچھائی گئی مبینہ بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانا تھا۔ حالانکہ اپریل میں لبنان کی جنگ بندی کے تناظر میں ایران نے خیر سگالی کے طور پر کچھ پابندیاں نرم کیں اور امریکی صدر نے اس کا اعتراف بھی کیا، لیکن پسِ پردہ امریکی محاصرہ ختم نہ ہونے کی وجہ سے یہ بحران دوبارہ بھڑک اٹھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارےرائٹرزکی وسطِ 2026 کی رپورٹ کے مطابق، اس وقت خلیج کے گرم پانیوں میں تقریباً 2000 بحری جہاز اور 20 ہزار سے زائد ملازمین محصور ہیں۔ جہازوں پر موجود عملہ راتوں کو جاگ کر گزارتا ہے کہ کہیں وہ کسی میزائل یا ڈرون حملے کا شکار نہ ہو جائیں۔ ایران نے دوست ممالک کو ٹیکس کی ادائیگی پر عارضی راستہ دینے کے بعد اب تمام غیر ایرانی جہازوں کی آمد و رفت معطل کر رکھی ہے۔

مزید برآں، ایران نے مائن کلیئرنس کا ایک ایسا نیا پلان پیش کیا ہے جو بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں کے بجائے ایرانی ساحل کے بالکل قریب سے گزریں۔ اس سیکیورٹی رسک کی وجہ سے اب عالمی انشورنس کمپنیوں نے ان جہازوں کو جنگی خطرات کی انشورنس دینے سے انکار کر دیا ہے، جس نے دنیا کو 1970ء کی دہائی کے بعد کے سب سے ہلاکت خیز اور بڑے تیل کے بحران میں دھکیل دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا سمندری قانون کہتا ہے کہ بین الاقوامی آبنائے سے تجارتی جہازوں کو بلا روک ٹوک گزرنے کا حق حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ کے ترجمان اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو ایک بین الاقوامی شاہراہ پرٹول سسٹم قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ دوسری طرف، خلیجی ممالک (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور بحرین) نے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کو باقاعدہ خط لکھ کر ایرانی اقدامات کو جہاز رانی کو بلیک میل کرنے کی غیر قانونی کوشش قرار دیا ہے۔ اسی نازک موڑ پر اب امریکی صدر کی جانب سے ایک نئی اور انتہائی سخت سیاسی شرط نے منظر نامے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

امریکی انتظامیہ نے یہ واضح موقف اختیار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز پر کوئی بھی پائیدار معاشی یا بحری معاہدہ اسی صورت میں مکمل ہوگا جب پاکستان سمیت مشرقِ وسطیٰ کے دیگر کلیدی ممالک ابراہم اکارڈ کا حصہ بنتے ہوئے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کریں گے۔ واشنگٹن کا ماننا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور تجارتی راستوں کی مستقل سیکیورٹی تب ہی ممکن ہے جب اسرائیل کو خطے کے معاشی اور دفاعی ڈھانچے میں مکمل طور پر تسلیم کرکے ضم کر دیا جائے، جبکہ تہران اس شرط کو اپنے جغرافیائی اور نظریاتی مفادات پر براہِ راست حملہ تصور کر رہے ہیں۔

موجودہ نازک موڑ پر دنیا کسی نئی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس کا ایندھن صرف مشرقِ وسطیٰ نہیں بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے عوام بھی بنیں گے، جہاں پٹرول اور بجلی کی قیمتیں پہلے ہی عام آدمی کی کمر توڑ چکی ہیں۔ جب بھی ایسے عالمی بحرانوں کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوتا ہے، تو اس کا سارا نزلہ تنخواہ دار اور مزدور طبقے پر گرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، روزمرہ اشیائے خوردونوش عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہیں۔

پاکستان اس وقت سفارتی محاذ پر ایک اہم اور مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی طرف سے پیش کردہ مشترکہ کنٹرول کا خاکہ ایک متوازن حل ہے، جس پر ترکی اور جرمنی جیسے ممالک کے تعاون سے عمل درآمد کروایا جا سکتا ہے تاکہ خطے سے مائنز کی صفائی اور تجارتی بحالی ممکن ہو سکے۔ تاہم امریکہ کی طرف سے ابراہم اکارڈکی نئی شرط نے اسلام آباد کے لیے ایک بڑا سفارتی چیلنج کھڑا کر دیا ہے، جہاں اسے اپنے دیرینہ اصولی موقف اور برقرار معاشی دباؤ کے درمیان انتہائی باریک بینی سے توازن قائم کرنا ہوگا۔

عالمی برادری کو واشنگٹن پر یہ واضح کرنا ہوگا کہ بین الاقوامی تجارتی گزرگاہوں کی آزادی کو سیاسی اور نظریاتی معاہدوں، جیسے ابراہم اکارڈکی شرائط سے مشروط کرنا عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کے مترادف ہے۔ توانائی کی بلا تعطل فراہمی کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھنا سب کے مفاد میں ہے۔

اس بحران نے دنیا کو سکھایا ہے کہ کسی ایک تجارتی راستے پر حد سے زیادہ انحصار کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ روایتی سیاست سے ہٹ کر مربوط معاشی پلاننگ کو اپنائے اور سی پیک اور گوادر بندرگاہ کو فعال کرکے زمینی راستوں کے ذریعے وسطی ایشیا اور چین تک رسائی کو مزید تیز کرے تاکہ بحری ناکہ بندیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

ہمارے ملک کے عوام اور پالیسی سازوں کو اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ سستی سیاست اور جذباتی نعروں کے بجائے، جغرافیائی سیاست کے معاشی اثرات کا منطقی تجزیہ کرنا ہوگا۔ جب تک ہم بین الاقوامی بحرانوں کے داخلی معیشت پر اثرات کو نہیں سمجھیں گے، ہم پائیدار معاشی اصلاحات لانے میں ناکام رہیں گے۔

Check Also

Hasraton Ka Bojh Aur Rasm e Taziyat

By Muhammad Anwar Bhatti