Faisla Karna Seekhein
فیصلہ کرنا سیکھیں

سالوں پہلے اوماہا نبراسکا میں ریزیڈنسی کے دوسرے سال کی چند ایک آخری روٹیشنز شروع ہو چُکی تھیں اور یہ اس لئیے بھی بہت اہم تھیں کہ اس کے بعد آپ کی عمومی براہ راست سُپروژن ختم ہو جاتی ہے۔ امریکہ میں تیسرے سال سے ذمہ داری بڑہ جاتی ہے اور ریزیڈنٹ مریضوں کو اکیلے ہی دیکھتے ہیں۔ نوجوان ڈاکٹروں سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ بروقت اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت استعمال کریں گے اور اپنی اب تک کی حاصل کردہ تعلیم اور تربیت سے جانچ کر صحیح سوجھ بُوجھ سے فیصلہ کریں گے۔
اتنا ضرور ہے کہ غلط فیصلے کی قیمت کے ذمہ دار بھی اب آپ خود ہی ہوتے ہیں۔
مشرقی معاشرے کے زیر اثر مجھے اکیلے فیصلہ کرنے میں ہچکچاہٹ ہوتی تھی جس کا سب سے پہلے ایمرجنسی روم میں کام کرتے ہوئے میرے نگران ڈائرکٹر نے کچھ اشارہ دیا۔ یہاں اچھے اور مدد گار ڈاکٹر ولسن، ڈاکٹر مارسل اور چینی نژاد ڈاکٹر چو میری مدد کو آن پہنچے۔ سمجھداری، ہم دردی اور معاملہ فہمی کے احساس کے ساتھ مجھے آہستہ آہستہ نہ صرف تحفظ کا احساس دیا بلکہ فیصلہ کرنے میں مدد دی۔ خصوصا ڈاکٹر ولسن اور ڈاکٹر مارسل مجھے کسی بھی معاملے کا دوسرا پہلو بھی دکھاتے لیکن فیصلہ میرا ہی ہوتا۔ دونوں میں نہ صرف کمال کی تحمل مزاجی تھی بلکہ وہ مجھے حقیقی طور پر کامیاب دیکھنا چاہتے تھے۔
آج اگر میں سوچ سمجھ کر معاملہ فہمی سے فیصلہ کرنے کی کچھ صلاحیت رکھتا ہوں اور شاید بہتر سوچ سکتا ہوں تو اس میں بڑھتی عمر سے وابستہ دانائی کے ساتھ ساتھ ان تینوں اساتذہ کا بہت ہاتھ ہے۔ میں ان اساتذہ کے احسان کا بدلہ کبھی نہیں چُکا سکتا۔ بہت آہستگی اور نرم دلی سے انہوں نے میری معاملہ فہمی اور بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو بہتر کیا اور اس میں ان کے اپنے نفسیات کے علم کا بھی شاید بہت بڑا ہاتھ تھا۔
مشرقی معاشرے میں عموماََ ایسے فرمانبردار نوجوان کی تعریفوں کے پُل باندہ دئیے جاتے ہیں جو کوئی کام کسی سے پوچھے بغیر نہیں کرتا حتی کہ اپنے ازدواجی رشتوں میں بھی والدین اور بہن بھائیوں کی اجازت لینے کی کوشش کرتا ہے اور ہمارے معاشرے میں اس کو قابل فخر خاندانی ہُنر سمجھا جاتا ہے لیکن امریکی معاشرے میں اس کو قطعاََ قابل برداشت نہیں سمجھا جائے گا اور آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ خود درست فیصلہ کریں اور ذمہ داری لیں۔
یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں اپنی مدد آپ کے تحت کی مشہور مصنفوں کی کتابیں بہت چھپتی اور بکتی ہیں۔ مختلف self help کے سیمینار اور کانفرنسز بہت ہوتی ہیں اور اس میں ہارورڈ یونیورسٹی سر فہرست ہے۔ مجھے بھی چیف میڈیکل آفیسر بننے کے بعد سال بھر کے لگ بھگ وقت لگا کر CPE کرنا پڑا۔ مواقع تلاش کرنا اور پھر ان مواقع سے فائدہ اٹھانا آپ کی ہی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے.
مجھے عمومی طور پر کچھ پسند ہی کیا جاتا اور بظاہر اس کی وجہ میرا سخت محنت سے کام کرنا اور مسکراتے چہرے کے ساتھ مدد دینے کی خواہش رکھنا تھا۔ ایک موقع پر ہمارے ساتھ تین یا چار میڈیکل اسٹوڈنٹ اکٹھے ہی آ گئے جو عموما کبھی نہیں ہوتا۔ ایک بہت خوبرو اور وجیہہ نوجوان بھی اُن چار نوجوان طلباء میں شامل تھا جو میرے ساتھ کام کر رہے تھے۔ وہ خوبصورت نوجوان محنت سے بھی کچھ جان چُراتا تھا اور کچھ اس کو اپنے حسین و جمیل ہونے کا بھی بہت زعم تھا۔ عموما ان وقتوں میں نوجوان طلباء اپنی زندگی کے ساتھی کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔
ایک خاتون طالب علم اس نوجوان کو بہت پسند کرتی تھیں لیکن یہ صاحب مختلف خواتین سے تعلق میں تھے اور وہ اس سے واقف تھیں لیکن یہ بھی عروسی تعلق کی لاٹری کی ٹکٹ خرید چُکی تھیں اور بمپر جیک پاٹ لگنے کی امید بھی رکھتی تھیں۔ جانے ان خاتون کے دل میں کیا آئی اپنی زندگی کا اہم ترین فیصلہ لینے اور مشورہ لینے کیلئے مجھے پسند کیا۔ آن بیٹھیں اور سارا قصہ گوش گزار کیا۔ جب ساری رام کتھا معلوم ہوئی تو اتنا تو سمجھ آ گیا کہ کچھ پسندیدگی تو بھلے دو طرفہ ہوگی لیکن یہ نوجوان ابھی اس رشتے کیلئے مکمل تیار نہیں تھا۔ اس رشتے کے عروسی بندھن تک بڑھ جانے کے مکمل فیصلے کے لئیے یہ خواہش ابھی کچھ یک طرفہ ہی تھی۔
علم نفسیات کی حاصل کردہ تربیت استعمال کرنے کا وقت آن پہنچا تھا۔ کچھ حقیقت بتائی اور کچھ اس نوجوان کی نفسیات سمجھائی، کچھ امیدوں کی نوحہ گری کی اور کچھ رشتے کو جانچا، سمجھایا۔ فیصلہ تو اسی نوجوان لڑکی کا ہی تھا لیکن خوابوں کی امید سے زندگی کی حقیقت سمجھنے میں مدد کی۔
انسانی محبت بھی بڑی ہی عجیب چیز ہے۔ ھفتوں دنوں میں بنجر زمین پر رنگ رنگ کے بسنتی نیلے اور سُرخ پھول لگا دیتی ہے۔ شور زدہ زمین پر ہرے بھرے سے سر سبز باغات اُگ آتے ہیں۔ کچے گھڑے پر منہ زور چناب نہ بھی پار ہو تو بھی بپھرے دریا میں اتر جانا ہی کامیابی لگتی ہے۔ مسز سمپسن کیلئے برطانوی تخت و تاج کو ٹھوکر مار دینا اور فیض صاحب کی
تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں
اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے
تجھ پہ برسا ہے اسی بام سے مہتاب کا نور
جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے
تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے
یہ تو مشہور مثالیں ہیں لیکن نوجوانی کے روپہلے دنوں کی بہت سی ان کہی داستانیں کبھی کسی صفحہ قرطاس پر لکھی نہیں جاتیں۔ معاشی اور معاشرتی ذمہ داریاں، والدین کی امیدوں کے بوجھ، بہن بھائیوں کی توقعات اور ان سب پر پورا نہ اترنے کا خوف کسی بھی حسن آرا یا شہزادہ گلفام کی یادیں بھلا دینے کو بہت ہے۔ اگر کہیں دلوں پر ان کہی، ان جانی، بے نام اور ناکام محبتوں کے کتبے لگا کرتے تو گورستان صرف زمینوں پر ہی نہ ہوتے۔
جب آنگن سے دھوپ سمٹنے لگے، چوبارہ تاریک، راہگزر سُنسان، گلیاں سُونی اور محلہ خاموش ہونے لگے، جب ریل اپنی آخری سیٹی دے چُکے اور ہوائی جہاز کا دروازہ آخری مرتبہ بند ہونے لگے تو یہ دیکھ لینا چاہییے کہ یہ وقت آگے بڑہ جانے کا ہے اور سورج ڈوبنے کو ہے۔ چاہے ان کہی ان جانی محبتوں کا خورشید ہو یا رشتوں کی خواہشں کا سورج۔ آغاز کا اختتام ہے اور روشنی سے تاریکی کا سفر ہے۔ بس حوصلہ شرط ہے۔ درست وقت پر ناکام رشتوں کو سمیٹ دینا بھی کامیابی ہی ہے بس یہ کامیابی سب کے نصیب میں نہیں آتی۔
فیصلہ کرنا سیکھئیے۔ بروقت اور درست فیصلہ سب کے نصیب میں نہیں لکھا جاتا اور غلط فیصلے کی بھی قیمت ہوتی ہے۔

