Talaq (2)
طلاق (2)

6: اسلام کی نگاہ میں رشتہ ازدواج ایک اہم رشتہ ہے اس لئے اسے بے پروائی سے اس پر ضرب نہیں لگائی جا سکتی۔ میاں بیوی کے درمیان کشیدگی اور اختلافات پیدا ہونے کی صورت میں ہرگز یہ نہ ہونا چاہیے کہ طلاقم طلاق ہو جائے یا ایسی ہی شدید کاروائی کی نوبت آجائے بلکہ یہاں تک ممکن ہو فریقین میں باہمی صلح کرانے کی کوشش کرنی چاہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہےکر لے خطرے کو کم سے کم کیا جا سکے۔
8: طلاق کے بے دریغ استعمال کو روکنے کے لئے ایک ہدایت یہ بھی دی گئی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو جو مال ایک بار دے چکا ہے طلاق کی صورت میں وہ اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں لے سکتا۔ چونکہ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے جب انسان غصے کی حالت میں دیتا ہے تو یہ بھی کر گزر تا ہے کہ اب تک جو کچھ اس نے بیوی کو دیا ہوتا ہے واپس چھین لیتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کے ہاں یہ دستور عام تھا۔ اسلام نے اس ظالمانہ دستور کی ممانعت ان الفاظ کے ساتھ کی ہے: "اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ جو مال تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ بھی واپس لو"۔
یہ مالی نقصان ایسا ہے جسے کوئی انسان مالدارہی کیوں نہ ہو بے سوچے سمجھے برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہوگا۔
9: طلاق میں اتنی رکاوٹیں ڈالنے کے بعد آخری اور سخت رکاوٹ یہ ڈالی گئی کہ جو شخص کسی عورت کو تین طلاقیں دے چکا ہو وہ اس عورت سے دوبارہ نکاح نہیں کر سکتا تا دقیکہ وہ عورت ایک دوسرے شخص سے نکاح نہ کر لے اور وہ دوسرا مرد اس سے مباشرت کرنے کے بعد بررضا و رغبت اسے طلاق نہ دے دے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "پھر اگر وہ اس تیسری بار طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ ایک دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے"۔ (البقرہ 032)
یہ ایک ایسی کڑی شرط ہے جس کی وجہ سے ایک شخص اپنی بیوی کو تیسری بار طلاق دینے سے پہلے سو مرتبہ سوچے گا اور اس وقت تک طلاق نہ دے گا جب تک وہ اس امر کاقطعی فیصلہ نہ کر لے کہ ا س عور ت کے ساتھ نباہ کرناہی نہیں ہے۔
طلاق کی اقسام (صریح و کنایا کے لحاظ سے)
1: طلاق رجعی: اس سے مراد وہ طلاق ہے جو صریح لفظ طلاق سے دی گئی ہو مثلاً خاوند اپنی بیوی سے یوں کہے تجھے طلاق ہے اس میں نیت شرط نہیں۔ عدت کے کے دوران بیوی خاوند کے نکاح میں رہے گی اور خاوند کو اختیار ہوگا کہ جب چاہے رجوع بیوی کی رضامندی ضروری نہیں۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے: "اور ان کے خاوند اگر اصلاح حال کا ارادہ رکھتے ہو تو عدت کے دوران ان کو واپس لینے کے زیادہ حقدار ہیں"۔ (البقرہ 822)
عدت کے اختتام پر میاں بیوی میں جدائی ہو جائے گی بیوی اگر چاہے توکسی دوسرے مرد سے نکاح کر سکے گی لیکن اگر فریقیں رضامند ہو تو عدت کے بعد بھی تجدید نکاح کر سکتے ہیں۔ طلاق رجعی کی حد صر ف دو طلاق تک ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "طلاق دو بار ہی کی ہے اس کے بعد یا تو پسندیدہ طور پر اپنے پاس رکھنا ہے اور یا احسن طریقے سے چھوڑ دینا ہے"۔ (البقرہ 922)

