Bachon Ke Sath Jinsi Ziadti: Aik Ustani Ki Zubani (1)
بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی: ایک استانی کی زبانی

سر کیا آپ یقین کریں گے بلال (فرضی نام) کی کاپی میں اُس دن پہلی بار کوئی تصویر نہیں تھی۔ نو سال کا بچہ جو ہر صفحے پر کوئی نا کوئی ڈرائنگ بناتا تھا اُس دن اس کی کاپی صاف تھی۔ بالکل صاف اور مجھے وہ صفائی بیحد عجیب لگی۔ پھر میں نے ایک اور عجیب چیز نوٹس کی۔ کلاس میں سب آگے بیٹھنے والا بچہ اب دیوار سے لگ کر، سب سے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے شاباش کے لیے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ یوں سکڑا جیسے ہاتھ نہیں کوئی گرم استری رکھی ہو۔ چھٹی کے وقت وہ وین کی قطار میں سب سے آخر پر تھا اور ایسے لگتا تھا جیسے وہ گھر کے بجائے کہیں اور جانا چاہتا ہو مگر جا نہ سکتا ہو۔
مہینہ پہلے میں نے پوری کلاس کو ایک سبق پڑھایا تھا۔ سادہ سا۔ "تمہارا جسم تمہارا ہے۔ کچھ لمس اچھے ہوتے ہیں ماں کا، باپ کا اور کچھ بُرے۔ اگر کوئی بھی چاہے کتنا ہی اپنا ہو تمہیں بُرے طریقے سے چھوئے، تو یہ راز نہیں، یہ بتانے کی بات ہے اور میڈم تم سے ناراض نہیں ہوگی۔ " اُس دن بلال نے یہ لیکچر سب سے زیادہ غور سے سنا تھا۔ میں نے سمجھا، بچہ سیکھنا چاہتا ہے اس لئے دلچسپی لے رہا ہے۔ چند دنوں بعد وہ سہما سہما میرے پاس آیا اور ایک ہی جگہ پر رُک گیا۔ سب بچے آہستہ آہستہ گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ اُس نے فرش کو دیکھتے ہوئے کہا، "میڈم، جو آپ نے بتایا تھا نا بُرا لمس۔۔ "اور رُک گیا۔
میرا دل ایک لمحے کو رُکا۔ میں نے آہستہ سے پوچھا، "ہاں بیٹا؟ آگے؟"اُس نے سر ہلایا۔ پھر بولا، بہت دھیرے، "ساتھ والے انکل۔ جب امی گھر پر نہیں ہوتیں۔ "بس اتنا۔ اِس سے آگے وہ نہ گیا اور نہ میں نے پوچھا کیونکہ اِس سے آگے پوچھنے کی چیز نہیں تھی۔ وہ شخص انکل نکلا جو محلے میں سب کا اپنا تھا۔ جس پر ہر ماں بھروسہ کرتی تھی۔ جس کا چہرہ سب جانتے تھے۔ میں نے اُسی شام اُس کی امی کو فون کیا اور ساری بات بتادی۔ فون کی دوسری طرف ایک لمبی خاموشی رہی۔ پھر آواز آئی "میڈم، بچے باتیں بناتے ہیں۔ آپ پڑھائی پہ دھیان دیں۔ "میں نے پھر اپنی بات دہرائی اور تب اس کی ماں بولی، ایک ایسا جملہ آیا جو ہمارے ہر دروازے پر چوکیدار کی طرح کھڑا ہے "لوگ کیا کہیں گے، میڈم۔ لڑکا ہے۔ کل کو رشتہ کرنا ہے۔ عزت کا معاملہ ہے۔ گھر کی بات گھر میں رہے تو بہتر ہے۔ " پھر اُنہوں نے، ذرا دور، بلال کو آواز دی "بلال! میڈم سے کیا کہا تم نے؟"اور مجھے وہ سنائی دیا تھا۔ بچے کی آواز سہمی سی، دبی، پہلے سے سِلی ہوئی "کچھ نہیں، امی۔ " فون رکھ کر میں دیر تک بیٹھی رہی۔ اگلے دن اسکول میں بلال کی جگہ خالی تھی۔ سکول بدل گیا تھا۔ کہاں۔۔ کسی کو معلوم نہ تھا۔ وہ چلا گیا اپنی ڈرائنگ والی کاپی سمیت، اُس "بُرے لمس" سمیت جسے کسی نے راز بنا کر اُس کے اندر بند کر دیا تھا۔
میں سوچتی ہوں، کبھی کبھی رات کو کہ وہ اب کہاں ہے۔ اُس نے یہ خاموشی کِسے دی ہوگی اور جس بند کمرے میں ہم نے اُسے چھوڑا، اُس کمرے کا دروازہ اب باہر کی طرف کھلتا ہے یا اندر کی طرف۔ ہم بچوں کو "کچھ نہیں " کہنا سکھاتے ہیں۔ وہ چپ رہتے ہیں اور نوچنے والے انھیں نوچتے رہتے ہیں۔
گوجرانوالہ شہر میں دوہزار تئیس میں، بچوں کے ساتھ زیادتیوں کے دو سو بیس کیسز رپورٹ ہوئے۔ پورے پنجاب میں سب سے زیادہ اور یہ وہ کیسز ہیں جو اخبار تک پہنچے۔ وہ بچہ جو خاموش گھر آیا وہ ان اعداد میں شامل نہیں ہے۔ وہ بچہ کہیں نہیں ہے۔ آئیں ذرا ان اعداد کو سمجھیں کیونکہ ہمیں ان سے آنکھیں چرانے کی عادت سی ہے۔
دوہزار چوبیس میں 3,350 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 56 بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔
دوہزار پچیس کے پہلے چھ مہینوں میں 1,956 کیسز جبکہ 130 گینگ ریپ کے کیسز رپورٹ ہوئے۔
پاکستان دنیا میں آن لائن بچوں کی جنسی زیادتی کے مواد کے رپورٹ کرنے میں بھارت اور فلپائن کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔
پچپن فیصد کیسز میں ملزم پڑوسی تھا، 13 فیصد میں رشتہ دار نکلے۔
اور ان سب جرائم پر سزا کی شرح صرف 2 فیصد سے بھی کم ہے۔
گوجرانوالہ وہی شہر ہے جہاں میں رہتا ہوں۔ جہاں ہمارے بچے اسکول جاتے ہیں۔ جہاں ہمارے پڑوسی رہتے ہیں۔ 220 کیسز ایک سال میں، ایک شہر میں اور یہ "کہیں اور" کا قصہ نہیں۔ یہ اس ملک کے ایک شہر کا حساب ہے۔ یہ ملک، یہ شہر بچوں اور عورتوں کے لئے اب محفوظ نہیں ہے اور ہم آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا مجرم کوئی اجنبی شکل کا انسان نہیں ہوتا۔ ساحل این جی او کے 2023 کے اعداد کے مطابق 51 فیصد کیسز میں پڑوسی، 17 میں اسکول ٹیچر، 15 میں مذہبی استاد شامل ہوتے ہیں۔ باقی میں رشتہ دار، دکاندار، ڈرائیور، گارڈ۔ یعنی وہ چہرے جسے آپ جانتے ہیں۔ جس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ جو بچے کو اسکول چھوڑتا ہے۔ جو قرآن پڑھاتا ہے۔ جو گھر میں آتا جاتا ہے۔
ریپ کرنے والے یہ مجرم پیدائشی شیطان نہیں تھے۔ نفسیاتی تحقیق بہت واضح ہے۔ جنسی زیادتی کا شکار بچہ اگر علاج نہ پائے، اگر کوئی اس کے صدمے کو نہ پہچانے، اگر وہ سالوں تک اندر سے گندا اور ٹوٹا محسوس کرے تو ایک خاص تناسب میں وہی بچہ بڑا ہو کر دوسرے بچوں کے ساتھ وہی کرتا ہے جو اس کے ساتھ ہوا۔ قصور کے شہزاد نے خود بتایا تھا کہ اس نے بارہ سال تک زیادتی سہی تھی۔ کسی نے نہیں پوچھا۔ کوئی علاج نہ ہوا۔ پھر وہ مجرم بنا۔ یہ اس کی کمینگی نہیں تھی یہ ہماری خاموشی کا نتیجہ تھا۔ ہم نے شکار کو چھوڑ دیا اور شکار نے شکاری بن کر ہمیں جواب دیا۔ یہ ہے وہ سائیکل جو یہاں مسلسل چل رہا ہے۔ یہ نفسیات ہے اور یہ قابلِ علاج ہے اگر ہم بولیں تب، اگر ہم اسکول کالجز اور مدرسوں میں بچوں کو جنسی تعلیم دینے کے حق میں کھڑے ہوں تب۔
پاکستان نے بچوں کے ساتھ زیادتی کے قانون بنائے۔ زینب الرٹ ایکٹ 2020، کریمنل لاء امینڈمنٹ ایکٹ 2016، اینٹی ریپ ایکٹ 2021۔ سب کاغذ کی ردی ثابت ہوئے۔ جب پنجاب میں 455 جسمانی تشدد کے کیسز رجسٹر ہوں اور صرف سات کو سزا ہو تو یہ قوانین ردی ہی ہیں۔ KPK میں 208 کیسز میں ایک بھی سزا نہیں ہوئی۔ جنسی زیادتی کے کیسز میں حال اس سے بھی بدتر ہے۔ 2022 میں راولپنڈی میں سزا یافتہ ایک مجرم پشاور منتقل کیا گیا اور اس نے وہاں تین بچیوں کے ساتھ زیادتی کر ڈالی اور دو کو قتل کردیا۔ ایک سزا یافتہ مجرم جو پولیس کی تحویل میں ہے۔ صورت حال دیکھیں۔ پاکستان میں ابھی تک sex offender registry مکمل نہیں بنی۔ ہر قانون میں لوپ ہول ہیں۔ زیادہ تر کیسز میں trained investigators نہیں ہوتے۔ بچے کو پولیس اسٹیشن لے جا کر بیان دلوایا جاتا ہے جہاں پہلے سے صدمے میں بچہ مزید ٹوٹ جاتا ہے۔ یہاں جنسی زیادتی کے بیشتر کیسز عدالت سے باہر "رضامندی" سے نمٹا دیے جاتے ہیں خاندان پر سماجی، سیاسی اور معاشی دباؤ ڈال کر۔ بچے کو انصاف نہیں ملتا خاندان کو "عزت" مل جاتی ہے اور ملزم آزاد ہو جاتا ہے۔
پاکستان دنیا میں online child sexual abuse material کے حوالے سے تیسرے نمبر پر ہے۔ FIA کے cyber-crime wing کے پاس نہ مناسب افرادی قوت ہے، نہ OSINT صلاحیت۔ 2021 میں child pornography کے ہزاروں کیسز میں صرف پانچ فیصلے ہوئے۔ اوپر سے رہی سہی کسر مدارس نکال رہے ہیں۔ مدرسوں میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی documented ہے۔ مانسہرہ 2020، رانی پور پیر کیس 2023، سینکڑوں وائرل ویڈیوز مگر ان اداروں پر نہ باقاعدہ نگرانی ہے، نہ بچوں کی شکایت کا کوئی محفوظ نظام۔ نہ کوئی مفتی بات کرتا ہے۔ نہ کسی جانب سے فتوی جاری ہوتا ہے۔ یہاں شہیدوں کے بچوں کی بات ہوتی ہے۔ یہاں کرپٹو کرنسی، یو ایس ٹی ڈی پر فتوٰی لگتا ہے۔ نہیں پوچھتا تو کوئی ان معصوم بچوں کو نہیں پوچھتا۔
جاری ہے۔۔

