Friday, 17 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Atif Kazmi
  4. Azmaish, Saza Aur Imtihan Ka Ilm Sirf Khuda Ko Hai

Azmaish, Saza Aur Imtihan Ka Ilm Sirf Khuda Ko Hai

آزمائش، سزا اور امتحان کا علم صرف خدا کو ہے

ایک بار شاہ جی (ابا جی) کے زخم میں کیڑے پڑ گئے۔ یہ زخم ان کی کٹی ہوئی ٹانگ کے آخری سرے پہ تھا اور شوگر کی وجہ سے بھرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ ڈاکٹر سے علاج بھی جاری تھا اور ساتھ ہی ہم اپنے گاؤں کے ایک بزرگ چاچا صوفی پان والے (غضنفر خان) صاحب سے دم بھی کروا رہے تھے۔ چاچا صوفی پان والے کی دکان سہگل آباد نچلے اڈے پہ تھی۔ وہ پکوڑے سموسے بناتے تھے اور ہم گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول سہگل آباد دوران تعلیم ان کی دکان پہ بہت جاتے تھے۔ وہ ہر تین ماہ بعد گاؤں میں ہر گلی محلے جاتے اور مرغیوں کو حفاظتی ٹیکے لگاتے تھے۔ نہایت با اخلاق، ہنس مکھ، ملنسار اور شریف النفس انسان تھے۔ شریف بھی ایسے کہ وہ کسی کے گھر بھی آزادی سے چلے جاتے اور خواتین ان سے خال خال پردہ کرتی تھیں۔ جب وہ ہمارے گھر شاہ جی کی پائنتی بیٹھے زخم دیکھ رہے تھے عین اسی دوران گاؤں کی ایک خاتون عیادت کے لیے آئیں۔ زخم دیکھا تو بار بار "توبہ توبہ" کرنے لگیں۔ پھر صحن میں دھریک کے درخت تلے بچھی چارپائی پہ بیٹھی ایک دوسری عورت سے دھیمی آواز میں بولیں۔

"انسان جو دنیا میں کرتا ہے، وہی بھرتا ہے۔ زمین، زمین کا ادھار نہیں چھوڑتی۔ کسی زمانے میں یہ بھی بڑے عاشق مزاج اور بگڑے ہوئے تھے"۔

میں یہ جملہ سنتے ہوئے ان کے قریب سے گزرا۔ ایک لمحے کے لیے میرا خون کھول اٹھا۔ میرا دل چاہا اس خاتون سے کہوں کہ عاشقی تو آپ نے بھی فرمائی تھی، ایک بار گھر سے بھاگ کر نکاح کی کوشش کی مگر بدقسمتی کہ وہی بندہ دوبارہ سے گلی میں چھوڑ گیا تھا مگر یہ بات کہہ نہ سکا کہ ایسا کہنا شدید بدتمیزی اور جہالت کے زمرے میں آتا تھا۔ میرے پاس تب یہ سوالات بھی نہ تھے کہ بیماری گناہوں کی رسید ہے تو پھر انبیاء علیہم السلام نے سب سے سخت بیماریاں کیوں برداشت کیں؟ حضرت ایوبؑ برسوں آزمائش میں کیوں رہے؟ چھوٹے معصوم بچے کس جرم کی سزا بھگتتے ہیں؟ بس میں خاموش رہا اور جب امی نے چائے بنا کر میرے ہاتھ میں رکھی کہ اُسے دے آؤں تو میں نے غصے میں انکار کر دیا کہ خود ہی دیں۔

ہماری یہ عادت ہے۔ کسی کی بیماری یا زوال کو اس کے کردار کا فیصلہ سمجھ لیتے ہیں۔ کسی کا حادثہ ہو جائے، روزگار ختم ہو جائے یا جسم جواب دے جائے تو فوراً ایک فلسفہ گھڑ لیا جاتا ہے کہ "حرامی نے کچھ نہ کچھ کیا ہوگا"۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آزمائش، سزا اور امتحان کا علم صرف خدا کو ہے۔ انسان کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ کسی کے زخم دیکھ کر اس کے اعمال کا حساب بھی سنانا شروع کر دے۔

تیمارداری کا مقصد مرہم رکھنا ہوتا ہے، نمک چھڑکنا نہیں۔ بیمار انسان پہلے ہی جسمانی تکلیف، خوف اور بے بسی سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اس کے گھر والے بھی ذہنی اذیت میں ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر ہم اس کے دکھ کو اس کے گناہوں کا نتیجہ قرار دے دیں تو ہم صرف اس کے جسم کو نہیں اس کی روح کو بھی زخمی کر دیتے ہیں۔ کاش ہم یہ سمجھ سکیں کہ ہر زخم کسی گناہ کی دلیل نہیں ہوتا اور ہر آزمائش کسی سزا کا اعلان نہیں ہوتی۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب خبر ملتی ہے فلاں رشتہ دار شدید بیمار ہے، کسی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے یا ڈاکٹر نے حالات نازک بتائے ہیں تو بہت سے لوگ گھر سے ہی خیالی منظر بنا کر نکلتے ہیں۔ تمام راستے ان کے دل میں یہی خیال گردش کرتا رہتا ہے کہ شاید اب اس ماسی پھپھو چاچے سے آخری ملاقات ہوگی لیکن جب ہسپتال یا مریض کے گھر پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ مریض بات کر رہا ہے، مسکرا بھی رہا ہے یا ڈاکٹر نے خطرہ وقتی طور پر ٹل جانے کی اُمید دلائی ہے تو بعض چہروں پر وہ اطمینان دکھائی نہیں دیتا جس کی توقع ہوتی ہے۔ بلکہ اُلٹا دل کے کسی کونے سے ایک بے ساختہ خیال ابھرتا ہے۔

"ارے ایویں افواہیں ہی تھیں، یہ تو ابھی ٹھیک ٹھاک ہٹا کٹا ہے"۔

یہ جملہ اکثر زبان پر نہیں آتا مگر تیماردار کے چہرے کے تاثرات، گفتگو کا انداز اور چند لمحوں بعد بدلتا ہوا موضوع اس کا پتا دے دیتا ہے۔ گو کہ یہ رویہ ہر انسان کا نہیں مگر اتنے کم لوگوں کا بھی نہیں ہے کہ اسے نظر انداز کر دیا جائے۔

انسانی نفسیات عجیب ہے۔ بعض لوگ بیماری کو انسان کے دُکھ کے بجائے ایک خبر کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں۔ اُنہیں مریض سے زیادہ اُس واقعے کی شدت میں دلچسپی ہوتی ہے۔ اگر واقعہ اُن کی توقع کے مطابق سنسنی خیز نہ نکلے تو جیسے اندر ہی اندر مایوسی سی محسوس کرتے ہیں۔ یہی لوگ مریض کے سرہانے کھڑے ہو کر بڑے خلوص سے کہتے ہیں، "اللہ شفا دے"۔ لیکن باہر نکلتے ہی لہجہ بدل جاتا ہے۔ کبھی کہتے ہیں۔

"بس ماسی دا ٹیم نیڑے لگ گیا"۔

اور کبھی اس سے بھی زیادہ بے حس جملہ سننے کو مل جاتا ہے۔

"کوئی نہیں کھا پی چکا ہے، عیاشی مار چکا اب مر بھی جائے تو کیا؟"

موت کا ذائقہ تو ہر ذی روح نے چکھنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی دوسرے انسان کی سانسوں کو یوں بے حسی سے گننا ہمارے دلوں کی سختی کی علامت نہیں ہے؟

تیمارداری صرف مریض کو دیکھ آنے کا نام نہیں۔ یہ اُس کے دل میں اُمید ڈالنے، اس کے اہلِ خانہ کا بوجھ ہلکا کرنے اور اپنی موجودگی سے انہیں یہ احساس دلانے کا نام ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔ بدقسمتی سے ہم میں سے بعض لوگ بیمار کے کمرے میں بھی انسان نہیں بلکہ ایک ممکنہ خبر دیکھنے جاتے ہیں۔

جب معاشرے میں دکھ بھی محض موضوع گفتگو بن جائے، جب کسی کی بیماری بھی دلچسپی کا سامان بن جائے اور جب کسی کی زندگی سے زیادہ اس کی موت کے امکانات زیرِ بحث آنے لگیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ بیماری صرف جسموں میں نہیں رہی کچھ دل بھی بیمار ہو چکے ہیں اور کٹھور دلوں کی اس بیماری کا کوئی نسخہ کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں سوائے اس کے کہ وہ انسان اپنے اندر جھانک کر خود سے پوچھے۔

"اگر آج بستر پر لیٹا ہوا شخص میں ہوتا تو کیا میں بھی لوگوں کی آنکھوں میں اپنی موت کا انتظار دیکھنا پسند کرتا؟"

آج شاہ جی کی برسی ہے، خدا ان کی مغفرت فرمائے۔

Check Also

Azmaish, Saza Aur Imtihan Ka Ilm Sirf Khuda Ko Hai

By Syed Atif Kazmi