Friday, 17 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Atiq Chaudhary
  4. Jab Mustaqbil Hijrat Kar Jaye

Jab Mustaqbil Hijrat Kar Jaye

جب مستقبل ہجرت کر جائے

شعبدہ بازوں کے اس شہر میں جب بھی حبِ الوطنی کے نعروں کی گونج تیز ہوتی ہے، مجھے جرمن فلسفی مارٹن ہائیڈیگر کا وہ جملہ یاد آ جاتا ہے کہ "بے وطنی جدید انسان کی تقدیر بنتی جا رہی ہے"۔ لیکن ہمارے ہاں یہ بے وطنی کسی مابعد الطبیعاتی المیے کا شاخسانہ نہیں، بلکہ ایک جیتے جاگتے، سفاک معاشرتی ڈھانچے کا پیدا کردہ بحران ہے۔ یہ جو ہر روز ہمارے ہوائی اڈوں پر ملکی تاریخ کا سب سے بڑا برین ڈرین ہو رہا ہے، یہ محض زیادہ تنخواہ، اچھے بنگلے یا مراعات کی مہم جوئی نہیں ہے۔

یہ دراصل ایک ایسے عمرانی معاہدے کی تلاش ہے جہاں محنت کو اس کا جائز صلہ مل سکے۔ یہ پیاس ہے اس نظام کی جس کا خواب تھامس ہابس سے لے کر جان لاک تک نے دکھایا تھا، جہاں قانون کی نظر میں شاہ و گدا برابر ہوں اور فرد کا احساسِ تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہو۔ جون ایلیا نے شاید اسی کیفیت کا نقشہ کھینچا تھا:

عجب اک شور ہے برپا، وطن کی یاد آتی ہے
ہمیں ہجرت کی اس رُت میں خدا یاد آ رہا ہے

آج کا پاکستانی نوجوان جب کسی یونیورسٹی کی مہنگی ڈگری ہاتھ میں لیے ملازمت کے بازار میں نکلتا ہے، تو اسے میرٹ کی بجائے سفارش، محدود مواقع اور سیاسی اشرافیہ کی سنگدلانہ بے حسی کی دیوارِ قہقہہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فرانسیسی ماہرِ عمرانیات پیئر بورڈیو نے ثقافتی سرمائے کا جو نظریہ پیش کیا تھا، وہ آج ہمارے نظام پر حرف بہ حرف صادق آتا ہے، جہاں طاقتور طبقے نے وسائل اور مواقع کا ایسا تانا بانا بن رکھا ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کا بچہ اعلیٰ تعلیم پا کر بھی سڑکوں پر خاک چھانتا پھرتا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور ترقیاں رات دگنی رات چوگنی رفتار سے بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ والدین اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی، اپنی بوڑھی ہڈیوں کا گودا نچوڑ کر بچوں کی فیسوں کی نذر کر دیتے ہیں، مگر بدلے میں جو ڈگری ملتی ہے وہ مستقبل کی ضمانت دینے کے بجائے نوجوانوں کے ماتھے پر بیروزگاری اور ناامیدی کا اشتہار بن جاتی ہے۔

سیاسی اشرافیہ کے محلات، ان کے بچوں کے بیرونی دورے اور ان کی خاندانی بادشاہتیں تو روز بروز مضبوط ہو رہی ہیں، لیکن عام نوجوان کے لیے مستقبل کا کینوس بالکل دھندلا اور تاریک ہو چکا ہے۔ جب ریاست کا اقتدارِ اعلیٰ صرف اپنے طبقے کی بقا کا نگران بن جائے اور عام پڑھے لکھے نوجوان کو یہ یقین ہو جائے کہ اس دیار میں قابلیت کی کوئی قیمت نہیں، تو اس کے اندر کی امید دم توڑ دیتی ہے۔ یہی وہ بند گلی ہے جہاں پہنچ کر ہجرت محض ایک انتخاب نہیں، بلکہ اس سفاک اور طبقاتی نظام سے بقا کا آخری راستہ بن جاتی ہے۔

علامہ اقبال نے اسی ذہنی و فکری موت کے بارے میں کہا تھا:

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

لیکن یہاں نوجوان کھیت جلانے کے بجائے، اپنی مٹی کو چھوڑ کر پردیس کی بے چہرہ بستیوں میں جا بسنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جب ایک ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر یا آئی ٹی کا ماہر ملک چھوڑتا ہے، تو معاشرہ صرف ایک ہڈ ماس کے انسان سے محروم نہیں ہوتا، بلکہ اس خطیر سرمائے اور برسوں کی اس محنت سے بھی محروم ہو جاتا ہے جو ریاست اور خاندان نے اس پر کی ہوتی ہے۔ معیشت دان اس پر مغلظات بکتے ہیں اور متبادل کے طور پر ترسیلاتِ زر کے اعداد و شمار دکھا کر بغلیں بجاتے ہیں۔ مگر کیا کوئی ریاست صرف ڈالروں کی بیساکھی پر مستقل ترقی کر سکتی ہے؟ امرتیا سین نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ڈویلپمنٹ ایز فریڈم میں لکھا تھا کہ حقیقی ترقی کا مطلب صرف جی ڈی پی کا بڑھنا نہیں، بلکہ انسانی صلاحیتوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دینا ہے۔ اگر ملک کے بہترین دماغ ہی باہر چلے جائیں، تو پیچھے صرف کھوکھلی عمارتیں اور بانجھ نظام رہ جاتا ہے۔

ہجرت کا ایک اور اور لرزہ خیز پہلو وہ سماجی اور نفسیاتی قیمت ہے جو ہمارے خاندان ادا کر رہے ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کی کتابوں سے ہٹ کر اگر ہم اس المیے کو دیکھیں، تو یہ ایک بوڑھی ماں کی تڑپ ہے جو ویڈیو کال کی بے حس اسکرین پر اپنے پوتوں، نواسوں کو دیکھ کر مسکراتی تو ہے، مگر اس کے لمس کی پیاس نہیں بجھتی۔ ایک باپ جو اپنے بیٹے کی کامیابیوں کی خبریں تو سنتا ہے، لیکن عید کے دن اس کا دالان خاموش رہتا ہے۔ جہاں کبھی قہقہے گونجتے تھے، وہاں اب صرف یادوں کا پہرا ہے۔ پردیس کی زندگی کوئی ریشمی خواب نہیں ہے۔ وہ مسلسل جدوجہد، ثقافتی تنہائی اور طویل اوقاتِ کار کا نام ہے جہاں انسان اپنے وطن کے پیاروں کی خاطر اپنی ذات کو روز قتل کرتا ہے۔ احمد فراز نے پردیس کے اس دکھ کو یوں سمیٹا تھا:

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

ریاست کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ نوجوانوں کو جذباتی نعروں، حبِ وطنی کے کھوکھلے راگوں یا ماضی کے قصوں سے نہیں روکا جا سکتا۔ نوجوان نعروں سے نہیں، مواقع سے رکتے ہیں۔ جب تک میرٹ، شفافیت، قانون کی بالادستی اور ایک عام ملازم یا تاجر کے لیے باعزت زندگی گزارنے کی ضمانت نہیں ملتی، یہ سسکتی ہجرت نہیں رکنے والی۔ اس سنگین بحران کو کسی سیاسی عینک سے دیکھنا یا پچھلی حکومتوں پر ملبہ ڈال کر جان چھڑانا قومی خودکشی کے مترادف ہے۔

وطن محض جغرافیائی حدود، زمین کے ٹکڑے یا نقشے کا نام نہیں ہوتا۔ وطن ان رشتوں، خوابوں اور امیدوں کا نام ہے جو انسان کو احساسِ تفاخر بخشتے ہیں۔ اگر ہم نے آج اپنی پالیسیوں کو نہ بدلا، تو آنے والے وقتوں میں ہمارے پاس پاسپورٹ تو ہوں گے مگر ان پر فخر کرنے والے بازو نہیں ہوں گے۔ دعا یہی ہے کہ وہ صبح جلد طلوع ہو جب پاکستان کا نوجوان پردیس کو مجبوری نہیں بلکہ محض ایک سیاحتی اختیار سمجھے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی ملک کے نوجوان امید کھو دیتے ہیں، تو صرف انسان ہی نہیں، اس قوم کا مستقبل بھی ہجرت کر جاتا ہے۔

Check Also

Imamat Ka Mayar

By Asif Masood