Home Delivery Walay Mehnat Kash
ہوم ڈیلیوری والے محنت کش

دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ سہولیات انسانوں کیلئے میسر ہور ہے ہیں۔ لیکن یہ ترقی یہ سہولیات بھی کسی کے محنت اور مشقت کے زریعے مل رہے ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی کام بغیر محنت اور لگن کے نہیں ہوتی۔ ہر کام کیلئے محنت کرنی پڑتی ہے۔ جب موبائل فون نہیں تھے، تو لوگوں کو دوسرے علاقوں میں لوگوں سے بات کرنے کیلئے جانا پڑتا تھا۔ ان سے ملاقات کرنے کیلئے دن رات محنت کرکے جایا کرتے تھے۔ وہ دور اب نہیں رہا۔ انسان کیلئے آسانیاں پیدا ہوئی ہیں۔ اسانی سے مختلف کام منٹوں میں ہوتے ہیں۔
بازار سے گزر رہا تھا۔ بازار میں ہوم ڈیلیوری والے نوجوانوں کو دیکھا جو کہ مختلف ہوٹلز کے سامنے بائک کھڑے کرکے کھڑے تھے۔ میری نظر جب ان پر پڑی تو ان نوجوانوں نے اس ہوٹل کا ڈریس پہن رکھا تھا اور اس شدید گرمی میں کھڑے تھے کہ کوئی ہوم ڈیلیوری کیلئے آرڈر دے گا اور ہم آرڈر لے کر ان کو ان کے گھر تک پہنچائے گے۔ جب ان کو آرڈر ملتا ہے۔ تو یہ نوجوان موٹر سائیکل پر سوار ہوکر خوراک کے چیزیں ان تک پہنچاتے ہیں جو آرڈر دیتے ہیں۔
یہ نوجوان جب بائک پر جاتے ہیں، راستے میں بھی ان کو کافی مشکلات ہوتی ہے۔ کبھی بارش ہوتی ہے کبھی اندھی ہوتی ہے کبھی سورج سر سے نکلتا ہے لیکن یہ جوان یہی ڈیلیوری ان افراد تک پہنچاتے ہیں۔ یہ نوجوان اس اندھی، بارش، گرمی کا مقابلہ کرتے ہیں اور اپنے منزل تک جاتے ہیں۔ اس ڈیلیوری میں اس نوجوان کو بس تھوڑی بہت پیسے مل جاتے ہیں اور اس محنت کے زریعے یہ آپنے گھر کے چولھے جلاتے ہیں۔
ہوم ڈیلیوری والے جب منزل تک پہنچ جاتے ہیں، تو ان میں زیادہ تر آرڈر والے اوپر چھت سے نیچے چھت تک نہیں آتے کہ ان سے یہ آرڈر وصول کرسکے۔ یعنی ان لوگوں میں اتنی انسانیت نہیں ہوتی کہ اس بیچارے نوجوان سے گھر کے دروازے پر آرڈر وصول کرے۔ ویسے تو ہوم ڈیلیوری آرڈر والے امیر ہوتے ہیں اور زیادہ تر امیر زادے کسی کا پرواہ ہی نہیں کرتے۔ ان امیروں کے بچوں کو کیا پتہ کہ یہ آرڈر لانے والا یہ آرڈر کیسے لایا ہے کس ازیت سے یہ گزر رہا ہے۔ یہ بھی کسی کا بیٹا ہے۔ اس کا بھی دل ہے، یہ بھی انسان ہے۔ ان کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن نہیں امیر زادے کو گھر کے کمرے میں ڈیلیوری چاہیئے۔
ہمارے ملک میں تو ویسے بھی روزگار نہیں ہے۔ زیادہ تر نوجوان بے روزگار بیٹھے ہیں۔ جو نوجوان ہوم ڈیلیوری کی مزدوری کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آنا چاہئیے۔ تاکہ ان کو یہ احساس نہ ہوجائے، کہ یہ کسی غریب کا بچہ ہے۔ ہوم ڈیلیوری والوں کی موٹر سائیکل کی حالت کو اگر آپ دیکھیں تو آپ کو ان پر ترس اجائے گا۔ ان نوجوانوں کے پیچھے بڑے غریب گھرانے ہوتے ہیں۔ کافی سارے گھرانوں میں تو گھر میں ایک جوان مزدوری کیلئے ہوتے ہیں، کوئی ہوتا بھی نہیں ہے۔ بس اکیلے پورے گھرانےکی ذمہ داری لیتے ہوئے محنت مزدوری کرتے ہیں۔

