Thursday, 25 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Kiran Arzoo Nadeem
  4. Vigo Dala Culture

Vigo Dala Culture

ویگو ڈالا کلچر

کبھی کبھی وہ آواز جو آپ کے دل کی آواز ہو اور وہ کسی صاحب اقتدار کے منہ سے نکلے تو آپ کو ایسا لگتا ہے کہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آپ کے پاس سے گزرا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ملک میں عام ہونے والے "ویگو ڈالا کلچر " پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے اراکین پارلیمنٹ اور وزراء کی جانب سے بھاری سیکیورٹی قافلے اور ایسے ڈالوں کے استعمال کو غیر ضروری قرار دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ اور سڑکوں پر ویگو ڈالوں کا استعمال ایک "بہہودگی" ہے۔ ویگو ڈالوں کا استعمال طاقت کے اظہار کے لئے کیا جاتا ہے، جس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ویگو ڈالے میں بیٹھنے والے کو کچھ ہو جاتا ہے۔

یہ جملہ کہ ویگو ڈالے میں بیٹھنے والے کے دماغ کو کچھ ہو جاتا ہے، سو فی صد درست ہے۔ خواجہ آصف کے ان الفاظ پر کہ ویگو ڈالے میں بیٹھنے والے کے دماغ کو کچھ ہو جاتا ہے، مجھے حضرت عمر کا ایک واقعہ یاد آیا اور میرا دل چاہا کہ آپ کو بھی اس میں شریک کرتی چلوں۔

بائیس لاکھ مربع میل پر پھیلی ہوئی مملکت کے سربراہ عمر فاروق فاتح ایران و روم بیت المقدس کے سفر پر روانا ہوئے۔ ایک اونٹنی پر سوار ہوئے، جس پر ایک اونی کمبل پڑا تھا، یہ کمبل بحالت قیام بستر کا بھی کام دیتا تھا۔ سر پر نہ ٹوپی تھی نہ عمامہ۔ ادھر ادھر دو تھیلے لٹک رہے تھے۔ جس میں ایک میں ستو اور دوسرے میں کھجوریں تھیں، سامنے پانی کا مشکیزہ تھا۔ رفقاء کی جماعت ساتھ تھی۔ آپ ہر روز صبح اپنے رفقاء کے ساتھ بیٹھتے اور اپنا زادہ راہ دستر خوان پر رکھ دیتے جسے سب مل کر کھا لیتے۔ ایک اونٹ پر دو دو سوار تھے۔ آپ کے اونٹ پر آپ اور آپ کا زمیل (ملازم) تھا، طے یہ پایا تھا کہ ایک منزل پر آپ سوار ہوتے اور وہ غلام مہار پکڑتا اور دوسری منزل میں وہ غلام سوار ہوتا اور آپ مہار پکڑتے۔

آپ بیت المقدس سے کچھ فاصلے پر تھے تو سواروں کا وہ دستہ آ پہنچا جسے حضرت ابو عبیدہؓ نے آپ کے استقبال کے لئے بھیجا تھا۔ اس وقت کیفیت یہ تھی کہ آپ نمدے کا کرتہ پہنے ہوئے تھے جس میں چودہ پیوند لگے ہوئے تھے اور ان میں بعض پیوند چمڑے کے تھے۔ ہمرائیوں نے عرض کیا کہ آپ ایک نئے ملک میں اجنبی قوم کے ہاں، فاتح کی حیثیت سے جا رہے ہیں، بہتر ہو کہ آپ اونٹنی کے بجائے اس ترکی گھوڑے پر سوار ہو جا ئیں اور وہ لباس پہن لیں جسے ابو عبیدہؓ نے آپ کے لئے بھیجا ہے۔ آپ نے ان کا مشورہ قبول فرما لیا اور وہ لباس فاخرہ پہن کر ترکی گھوڑے پر سوار ہو گئے۔ چار قدم ہی چلے ہوں گئے تو گھوڑے سے اتر گئے، یہ وہ مقام ہے جو بتانے کے لئے میں نے اتنی لمبی تمہید باندھی ہے، گھوڑے سے اترنے کے بعد اپنے رفقاء سے کہا کہ "عزیز ان من۔ تم میری اس لغزش سے درگزر کرو، اللہ قیامت میں تمھاری لغزش سے درگزر کرے گا۔ جس تکبر نے اس وقت میرے دل میں راہ پائی وہ یقیناََ تمھارے امیر کو ہلاک کر دیتے، اس کے بعد وہ پوشاک اتار کر پھر وہی پیوند لگے کپڑے پہن لئے۔

حضرت عمر جیسی شخصیت جو کردار کی بلندیوں پر پہنچی ہوئی تھی وہ کہہ رہے ہیں کہ ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر جس تکبر نے میرے دل میں جگہ پائی وہ تمھارے امیر کو ہلاک کر دیتے۔ اگر عمر جیسی شخصیت اپنے متعلق یہ کہہ سکتی ہے کہ ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر میرے دل میں تکبر نے جگہ بنا لی تھی، تو ہم تو ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔

سفر بیت المقدس مکمل کرتی چلوں۔

آگے گئے تو حضرت ابو عبیدہؓ، حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرے یزید بن سفیانؓ، آپ کے استقبال کے لئے گئے تو انھوں نے ریشمی کرتے پہن رکھے تھے، آپ نے دیکھا تو سخت برافروختہ ہوئے اور کہا کہ تم لوگ اتنی جلدی بدل گئے۔ تم نے دو ہی برس میں اس قسم کی تن آسانی اختیار کر لی، اگر تمھارا یہی طرز عمل رہا تو خدا کی قسم، خدا تمھاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا اور تمھاری حکومت اسے دے دے گا۔

حریر و اطلس پہننے والی قومیں حکومت کی اہل نہیں رہتیں۔ انھوں نے معزرت چاہی اور عرض کیا کہ امیر المومنین ہم نے یہ کرتے اس قوم کی خاطر اوپر سے پہن رکھے ہیں، ان کے نیچے وہی ہتھیار موجود ہیں۔ اس پر آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوا۔

شاندار جلوس جب بیت المقدس میں داخل ہوا تو استقبال کے لئے اس قوم کا سردار آیا تو آپ نے اس سے کہا کہ سفر کی وجہ سے میرا کرتہ پھٹ گیا ہے اسے دھو بھی دیجئے اور سی بھی لائیے اور اتنی مدت کے لئے مجھے کوئی اور کرتہ دے دیجئے۔ اس نے وہ کرتہ دھو بھی دیا اور سی بھی دیا اور ایک اور کرتہ بھی تیار کر لیا کہ آہ اسے قبول فرمائیں۔ آپ نے اپنا کرتہ پہن لیا اور اس کا کرتہ واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا کرتہ زیادہ پسینہ جزب کرتا ہے۔ اس پر اس پادری نے کہا کہ آپ شہر میں داخل ہو رہے ہیں اچھے کپڑے پہن لیجئے اس سے آپ کی رومیوں کی نگاہ میں عظت بڑھے گئی۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا: "خدا نے ہمیں جو عزت دی ہے وہ اسلام سے ہے ان اضافی چیزوں سے نہیں۔ اس لئے ہمیں ان کی ضرورت نہیں"۔

Check Also

Dakuon Ke Mukhtalif Roop

By Muhammad Waris Dinari