Thursday, 25 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kabeera Gunah: Insan Ki Ruhani Tabahi Ka Rasta

Kabeera Gunah: Insan Ki Ruhani Tabahi Ka Rasta

کبیرہ گناہ: انسان کی روحانی تباہی کا راستہ

انسان سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اور یہی اس کی بشری کمزوری ہے، لیکن اسلام نے گناہوں کو ایک ہی درجے میں نہیں رکھا۔ بعض گناہ ایسے ہیں جن کے اثرات محدود ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو انسان کے ایمان، کردار، خاندان، معاشرے اور آخرت کو تباہ کر دیتے ہیں۔ ایسے ہی گناہوں کو شریعت کی اصطلاح میں "کبیرہ گناہ" کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں گناہِ کبیرہ کی کوئی اصطلاحی تعریف مذکور نہیں، لیکن قرآن و سنت کی روشنی میں علماء نے اس کی وضاحت کی ہے۔ ان کے نزدیک ہر وہ گناہ جس پر دنیا میں کوئی شرعی حد مقرر ہو، یا جس پر لعنت آئی ہو، یا جس کے بارے میں جہنم اور عذاب کی وعید سنائی گئی ہو، وہ کبیرہ گناہ ہے۔ اسی طرح وہ گناہ بھی کبیرہ شمار ہوتے ہیں جن کے مفاسد کسی معروف کبیرہ گناہ کے برابر یا اس سے زیادہ ہوں۔ مزید برآں اگر کوئی شخص کسی صغیرہ گناہ پر مسلسل اصرار کرے اور بے باکی کے ساتھ اسے بار بار انجام دیتا رہے تو وہ بھی کبیرہ گناہ کے حکم میں داخل ہو جاتا ہے۔

قرآن مجید نے کبیرہ گناہوں کی تعداد متعین نہیں کی، البتہ رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر متعدد گناہوں کو کبیرہ قرار دیا۔ بعد ازاں علماء نے قرآن و حدیث کی روشنی میں ان گناہوں کو جمع کیا۔ اس موضوع پر امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ کی مشہور کتاب "الکبائر" ایک اہم مرجع سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے تقریباً ستتر کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا ہے، جو درج ذیل ہیں:

1۔ شرک باللہ

2۔ قتل کرنا

3۔ جادو ٹونا کرنا

4۔ نماز نہ پڑھنا

5۔ زکوٰۃ نہ دینا

6۔ بلا عذر رمضان کے روزے نہ رکھنا

7۔ استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا

8۔ والدین کی نافرمانی کرنا

9۔ اہل و اقارب سے قطع تعلقی

10۔ لواطت اور عورت کے دبر میں مباشرت کرنا

11۔ سود کھانا

12۔ اللہ اور رسول کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا

13۔ یتیم کا مال کھانا

14۔ میدان جہاد سے فرار اختیار کرنا

15۔ حکمران کا رعایا کے ساتھ دھوکہ کرنا

16۔ فخر و تکبر اور خود پسندی

17۔ شراب نوشی

18۔ جوا بازی

19۔ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا

20۔ مالِ غنیمت میں خیانت کرنا

21۔ چوری کرنا

22۔ راہ زنی کرنا

23۔ جھوٹی قسم کھانا

24۔ ظلم و ستم کرنا

25۔ ظالمانہ ٹیکس لگانا

26۔ حرام خوری کرنا

27۔ خود کشی کرنا

28۔ دروغ گوئی کا عادی ہونا

29۔ اسلامی قوانین کے خلاف فیصلہ کرنا

30۔ فیصلہ کرنے پر رشوت لینا

31۔ عورتوں اور مردوں کا باہمی مشابہت اختیار کرنا

32۔ دیوث صفت ہونا

33۔ پیشاب سے طہارت نہ حاصل کرنا

34۔ جانور کے چہرے کو داغنا

35۔ دنیا کے لیے علمِ دین حاصل کرنا

36۔ خیانت کرنا

37۔ احسان جتلانا

38۔ قضا و قدر کا انکار

39۔ تجسس کرنا

40۔ چغل خوری کرنا

41۔ لعن و طعن کرنا

42۔ غداری کرنا

43۔ تصویریں بنانا

44۔ نوحہ گری و سینہ کوبی کرنا

45۔ سرکشی کرنا

46۔ کمزوروں اور عورتوں پر زیادتی کرنا

47۔ پڑوسی کو ایذا دینا

48۔ مسلمانوں کو ایذا دینا

49۔ ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا

50۔ سونے کے برتن استعمال کرنا

51۔ مردوں کا ریشمی اور سونے کے ملبوسات استعمال کرنا

52۔ غلام کا مالک کے پاس سے بھاگ جانا

53۔ غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا

54۔ جان بوجھ کر اپنے آپ کو باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرنا

55۔ فضول بحث و مباحثہ کرنا

56۔ ناپ تول میں کمی کرنا

57۔ تدبیرِ الٰہی سے بے خوف ہو جانا

58۔ مردار جانور اور سور کا گوشت کھانا

59۔ نمازِ جمعہ اور جماعت کو چھوڑنا

60۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا

61۔ مسلمان کی تکفیر کرنا

62۔ شوہر کی نافرمانی کرنا

63۔ مکر و فریب اور دھوکہ بازی

64۔ مسلمانوں کی پردہ دری کرنا

65۔ صحابۂ کرام ؓم کو برا کہنا

66۔ ناحق فیصلہ کرنا

67۔ فحش کلامی کرنا

68۔ نسب میں عیب جوئی کرنا

69۔ مردوں پر نوحہ گری کرنا

70۔ راستے کی علامت کو مٹا دینا

71۔ کسی بری عادت کا ایجاد کرنا

72۔ زنا کاری

73۔ جھوٹی گواہی دینا

74۔ بال میں بال ملانا اور جسم گودنا اور گدوانا

75۔ مسلمان کو لوہا دکھا کر دھمکی دینا

76۔ حرم میں ملحدانہ کام کرنا

77۔ کاہنوں اور نجومیوں کی تصدیق کرنا

اس فہرست پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف عبادات کی حفاظت نہیں چاہتا بلکہ عقیدے، اخلاق، معاملات، معاشرت، معیشت اور انسانی حقوق کے ہر پہلو کی اصلاح کا خواہاں ہے۔ ان ستتر گناہوں میں کچھ کا تعلق براہِ راست اللہ تعالیٰ کے حقوق سے ہے، کچھ انسانوں کے حقوق سے اور کچھ انسان کے اپنے نفس اور کردار سے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں نیکی کا مفہوم صرف نماز، روزہ اور حج تک محدود نہیں بلکہ سچائی، دیانت، عدل، رحم، امانت اور حسنِ سلوک کو بھی دین کا بنیادی حصہ قرار دیا گیا ہے۔

آج اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ان میں سے بہت سے گناہ مختلف صورتوں میں ہمارے درمیان موجود نظر آتے ہیں۔ جھوٹ، رشوت، دھوکہ، سود، ظلم، تہمت، قطع رحمی، والدین کی نافرمانی، چغل خوری اور فحش گوئی جیسے گناہ معمولی برائیاں سمجھ لیے گئے ہیں، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں انسان کی دنیا و آخرت برباد کرنے والے اعمال قرار دیا ہے۔ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ صرف دوسروں کے اعمال کا محاسبہ نہ کرے بلکہ سب سے پہلے اپنی ذات کا جائزہ لے، اپنے عیوب پہچانے اور اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرے۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے۔ کوئی گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اگر بندہ اخلاص کے ساتھ توبہ کرے، اپنی اصلاح کی کوشش کرے اور دوبارہ اس گناہ کی طرف نہ لوٹنے کا عزم کرے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے۔ کبیرہ گناہوں کا مطالعہ دراصل دوسروں کو مجرم ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی اصلاح، اپنے احتساب اور اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ہونا چاہیے۔ یہی وہ شعور ہے جو انسان کو گناہوں کے اندھیروں سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی رضا، سکونِ قلب اور دائمی کامیابی کیف لے جاتا ہے۔

Check Also

Waqia e Karbala: Haq o Batil Ki Azeem Dastan

By Noorul Ain Muhammad