Thursday, 25 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Zafar Syed
  4. Angrezon Ne Hindustanio Ko Chaye Par Kese Lagaya?

Angrezon Ne Hindustanio Ko Chaye Par Kese Lagaya?

انگریزوں نے ہندوستانیوں کو چائے پر کیسے لگایا؟

میں نویں جماعت میں پڑھتا تھا کہ میرا ایک ہم جماعت، جو ایک دور کے گاؤں کے رہنے والا تھا، ایک دن کسی کام سے ہمارے گھر آیا۔ گرمیوں کے دن تھے، میں نے لیموں والی روح افزا بنوا کر پیش کر دی اور وہ پی کر آدھا پونا گھنٹہ بیٹھ کر چلا گیا۔ لیکن بعد میں سکول میں کچھ چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ پتہ چلا کہ موصوف نے میرے خلاف ایک مہم شروع کر رکھی ہے کہ میں اتنے دور سے اس کے گھر گیا اور اس نے مجھے چائے تک کا نہیں پوچھا!

اس وقت جو بات میں نہیں جانتا تھا وہ یہ ہے کہ چائے ہمارے روزمرہ کے معمول میں اتنی رچ بس گئی ہے کہ اس کے بغیر مہمانداری کا تصور ہی ممکن نہیں ہے۔ لیکن شاید بہت سے لوگوں کے لیے یہ بات حیرت انگیز ہو کہ سو ڈیڑھ سو سال پہلے کے ہندوستان میں عام لوگوں کے چائے پینے کا کوئی تصور موجود نہیں تھا اور لوگ صبح اٹھ کر رات کا بچا کھانا کھا کر کام کاج پر روانہ ہو جاتے تھے۔

اسی طرح اگر مہمان گھر آ جائے تو اسے لسی وغیرہ پلا کر یا کھانا کھلا کر بھیج دیا جاتا تھا۔ لیکن آج مہمان آ جائیں تو چائے پیے بغیر جانے دینا پروٹوکول کی سخت خلاف ورزی ہے اور جیسا کہ مجھ پر انکشاف ہوا، یہ بڑی توہین سمجھی جاتی ہے اس نے تو مجھے چائے تک کا نہیں پوچھا۔۔

تو پھر چائے ہمارے یہاں کیسے آئی اور کیسے کسی کرونا وائرس کی طرح معاشرے کے رگ و پے میں سرایت کر گئی؟

اس کے ذمہ دار (بھی) انگریز ہیں۔

دراصل انگریزوں نے چین سے چائے درآمد کرکے دنیا کے مختلف حصوں میں بیچنا تو شروع کر دی تھی لیکن انہیں اس بات کا رنج تھا کہ اس پر چین کی اجارہ داری کیوں ہے۔ 1870 میں انگلستان میں بکنے والی 90 فیصد چائے چین سے آتی تھی اور اس کا منافع چاندی کے سکوں کی شکل میں یورپ سے نکل نکل کر چینی تجوریاں بھر رہا تھا۔

انگریزوں نے وہ حل نکالا جسے کارپوریٹ تاریخ کی سب سے بڑی چوری کہا جاتا ہے۔ انہوں نے رابرٹ فارچیون نامی ایک جاسوس چین بھیجا جو بھیس بدل کر چین کے اندرونی علاقوں میں گھس گیا۔ چونکہ واقعہ دلچسپ ہے، اس لیے تھوڑی تفصیل سن لیجیے:

لمبے تڑنگے رابرٹ فارچیون نے قلی کے آگے سر جھکا دیا۔ اس نے ایک زنگ آلود استرا نکالا اور فارچیون کے سر کا ابتدائی حصہ مونڈنے لگا۔ یا تو استرا اتنا کند تھا یا پھر قلی ہی ایسا اناڑی تھا کہ فارچیون کو لگا کہ جیسے وہ میرا سر مونڈ نہیں رہا بلکہ کھرچ رہا ہے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو کر گالوں پر ڈھلکنے لگے۔

یہ ستمبر 1848 میں چینی شہر شنگھائی سے کچھ دور واقع ایک علاقے کا واقعہ ہے۔ فارچیون ایسٹ انڈیا کمپنی کا جاسوس ہے جو چین کے اندر ممنوعہ علاقے میں جا کر وہاں سے چائے کی پتیاں چرانے کی مہم پر آیا ہوا ہے۔ لیکن اس مقصد کے لیے اسے سب سے پہلے بھیس بدلنا ہے جس کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ چین کے رواج کے مطابق ماتھے کے اوپری حصے سے بال منڈوا دے۔ اس کربناک عمل سے گزرنے کے بعد فارچیون کے مترجم اور رہنما نے اس کے بالوں میں ایک لمبی مینڈھی گوندھ کر اسے چینی لبادہ پہنا دیا اور اسے تنبیہ کی کہ وہ اپنا منہ بند رکھے۔

اس مہم میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا تھا۔ اگر فارچیون کامیاب ہو جاتا تو چائے پر چین کی ہزاروں سالہ اجارہ داری ختم ہو جاتی اور ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میں چائے اگا کر ساری دنیا میں فراہم کرنا شروع کر دیتی۔ لیکن دوسری طرف اگر وہ پکڑا جاتا تو اس کی صرف ایک ہی سزا تھی۔ موت!

وجہ یہ کہ چائے کی پیداوار چین کا قومی راز تھی اور اس کے حکمران صدیوں سے اس راز کی حفاظت کی سرتوڑ کوششیں کرتے آئے تھے۔

ایک تحقیق کے مطابق پانی کے بعد چائے دنیا کا مقبول ترین مشروب ہے اور دنیا میں روزانہ دو ارب لوگ اپنے دن کا آغاز چائے کی گرماگرم پیالی سے کرتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ اس دوران کم ہی لوگوں کے دماغ میں یہ خیال آتا ہوگا کہ یہ مشروب جو ان کے مزاج کو فرحت اور دماغ کو چستی بخشتا ہے، ان تک کیسے پہنچا۔

چائے کی یہ کہانی کسی سنسنی خیز ناول سے کم نہیں۔ یہ ایسی کہانی ہے جس میں حیرت انگیز اتفاقات بھی ہیں، پرفریب جاسوسی مہم جوئیاں بھی، سامراجی ریشہ دوانیاں بھی، خوش قسمتی کے لمحات بھی اور بدقسمتی کے واقعات بھی۔

چائے کا آغاز کیسے ہوا، اس کے بارے میں کئی کہانیاں مشہور ہیں۔ ایک کے مطابق قدیم چینی دیومالائی بادشاہ شینونگ کو صفائی کا اس قدر خیال تھا کہ اس نے تمام رعایا کو حکم دیا کہ وہ پانی ابال کر پیا کریں۔ ایک دن کسی جنگل میں بادشاہ کا پانی ابل رہا تھا کہ چند پتیاں ہوا سے اڑ کر دیگچی میں جا گریں۔ شینونگ نے جب یہ پانی پیا تو نہ صرف اسے ذائقہ پسند آیا بلکہ اسے پینے سے اس کے بدن میں چستی بھی آ گئی۔

یہ چائے کی پتیاں تھیں اور ان کے فوائد کے تجربے کے بعد بادشاہ نے عوام کو حکم دیا کہ وہ بھی اسے آزمائیں۔ یوں یہ مشروب چین کے کونے کونے تک پھیل گیا۔

یورپ سب سے پہلے 16ویں صدی کی ابتدا میں چائے سے آشنا ہوا جب پرتگالیوں نے اس کی پتی کی تجارت شروع کر دی۔ ایک صدی کے اندر اندر چائے دنیا کے مختلف علاقوں میں پی جانے لگی۔ لیکن خاص طور پر یہ انگریزوں کو اتنی پسند آئی کہ گھر گھر پی جانے لگی۔

ایسٹ انڈیا کمپنی مشرق سے ہر قسم کی اجناس کی تجارت کی ذمہ داری تھی۔ اسے چائے کی پتی مہنگے داموں چین سے خریدنا پڑتی تھی اور وہاں سے لمبے سمندری راستے سے دنیا کے باقی حصوں کی ترسیل چائے کی قیمت میں مزید اضافہ کر دیتی تھی (اس وقت سی پیک والا راستہ دریافت نہیں ہوا تھا!)۔ یہی وجہ تھی کہ انگریز شدت سے چاہتے تھے کہ خود اپنی نوآبادی ہندوستان میں چائے اگانا شروع کر دیں تاکہ چین کا پتہ ہی کٹ جائے۔

اس منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ چائے کا پودا کیسے اگتا ہے اور اس سے چائے کیسے حاصل ہوتی ہے، سرتوڑ کوششوں کے باوجود اس راز سے پردہ نہ اٹھ سکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اب کمپنی نے رابرٹ فارچیون کو اس پرخطر جاسوسی مہم پر بھیجا تھا۔

اس مقصد کے لیے اسے چین کے ان علاقوں تک جانا تھا جہاں شاید مارکوپولو کے بعد کسی یورپی نے قدم نہیں رکھا تھا۔ اسے معلوم ہوا تھا کہ فوجیان صوبے کے پہاڑوں میں سب سے عمدہ کالی چائے اگتی ہے اس لیے اس نے اپنے رہبر کو وہیں کا رخ کرنے کا حکم دیا۔

سر منڈوانے، بالوں میں نقلی مینڈھی گوندھنے اور چینی تاجروں جیسا روپ دھارنے کے علاوہ فارچیون نے اپنا ایک چینی نام بھی رکھ لیا، سِنگ ہُوا۔ یعنی شوخ پھول۔۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے اسے خاص طور پر ہدایات دے رکھی تھیں کہ بہترین چائے کے پودے اور بیج ہندوستان منتقل کرنے کے علاوہ آپ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ آپ اس پودے کی کاشت اور چائے کی پتی کی تیاری کے بارے میں ہر ممکن معلومات حاصل کرکے لائیں تاکہ انہیں بروئے کار لا کر ہندوستان میں چائے کی نرسریاں قائم کرنے میں ہر ممکن مدد مل سکے۔۔

اس کام کا معاوضہ اسے پانچ سو پاؤنڈ سالانہ ادا کیا جانا تھا۔

فارچیون کا کام آسان نہیں تھا۔ اسے چین سے چائے کی پیداوار کے طریقے ہی نہیں سیکھنا تھے بلکہ وہاں سے اس نایاب جنس کے پودے چوری کرکے لانے تھے۔ فارچیون تربیت یافتہ ماہرِ نباتیات تھا اور اس کے تجربے نے اسے بتا دیا تھا کہ چند پودوں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ پودے اور ان کے بیج بڑے پیمانے پر سمگل کرکے ہندوستان لانا پڑیں گے تاکہ وہاں چائے کی پیداوار بڑے پیمانے پر شروع ہو سکے۔

یہی نہیں، اسے چینی مزدوروں کی بھی ضرورت تھی تاکہ وہ ہندوستان میں چائے کی صنعتی بنیادوں پر کاشت اور پیداوار میں مدد دے سکیں۔

اس دوران اسے خود چائے کے پودوں کی تمام اقسام، اگنے کے موسم، کاشت، پتی کی پیداوار، سکھانے کے طریقوں وغیرہ کے بارے میں تمام علم حاصل کرنا تھا، چاہے وہ سبز چائے ہو یا کالی، سفید ہو یا سرخ چائے۔

فارچیون کا مقصد عام چائے کے پودے حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ وہ عمدہ ترین چائے حاصل کرنا چاہتا تھا تاکہ ہندوستان میں بڑے پیمانے پر چائے کا بین الاقوامی کاروبار عمدہ ترین چائے سے کیا جائے۔

آخر کشتیوں، پالکیوں، گھوڑوں اور دشوار گزار راستوں پر پیدل چل کر تین ماہ کے دشوار گزار سفر کے بعد فارچیون کوہِ وویی کی ایک وادی میں قائم چائے کے ایک بڑے کارخانے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہاں چائے کی تیز مہک کے علاوہ دروازے پر لگے لکڑی کے ایک تختے نے فارچیون کا استقبال کیا۔ اس پر چائے کی تعریف میں ایک قدیم نظم کندہ تھی:

اعلیٰ چائے کی پتی میں
شکنیں ہونی چاہییں

جیسے کسی تارتار کے چمڑے کے جوتے
لہریں ہوں

جیسے کسی توانا بیل کی گردن کا لٹکتا گوشت
یہ یوں کھِلتی ہو

جیسے کسی وادی میں دھند اٹھتی ہے
یہ یوں چمکتی ہو

جیسے کسی جھیل پر صبا کا جھونکا
یہ ایسی ملائم اور نم ہو

جیسے تازہ بارش کے بعد زمین

اس سے قبل یورپ میں سمجھا جاتا تھا کہ سبز چائے اور کالی چائے کے پودے الگ الگ ہوتے ہیں۔ لیکن یہ دیکھ کر فارچیون کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ دونوں اقسام کی چائے ایک ہی پودے سے حاصل کی جاتی ہے۔ اصل فرق دونوں کے سکھانے اور پکانے کے طریقوں میں ہے۔

فارچیون یہاں چائے بننے کے ہر مرحلے کا گہرا مگر خاموش مشاہدہ کرتا رہا اور نوٹس لیتا رہا۔ اگر اسے کسی بات کی سمجھ نہیں آتی تھی تو وہ اپنے رہبر کی وساطت سے پوچھ لیتا تھا۔

فارچیون کی محنت رنگ لائی اور بالآخر وہ حکام کی آنکھ بچا کر چائے کے پودے، بیج اور چند مزدور بھی ہندوستان سمگل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس کی نگرانی میں آسام کے علاقے میں یہ پودے اگانا شروع کر دیے۔ لیکن انہوں نے اس معاملے میں ایک سنگین غلطی کر دی تھی۔

فارچیون جو پودے لے کر آیا تھا وہ چین کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے ٹھنڈے موسموں کے عادی تھے۔ آسام کی گرم موطوب ہوا انہیں راس نہیں آئی اور وہ ایک کے بعد ایک کرکے سوکھتے چلے گئے۔

اس سے قبل کہ یہ تمام مشقت بےسود چلی جاتی، اسی دوران ایک عجیب و غریب اتفاق ہوا۔

اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کی خوش قسمتی کہیے یا چین کی بدقسمتی کہ اسی دوران اس کے سامنے آسام میں اگنے والے ایک پودے کا معاملہ سامنے آیا۔

اس پودے کو ایک سکاٹش سیاح رابرٹ بروس نے 1823 میں دریافت کیا تھا۔ چائے سے ملتا جلتا مقامی پودا آسام کے پہاڑی علاقوں میں جنگلی جھاڑی کی حیثیت سے اگتا تھا۔ تاہم زیادہ تر ماہرین کے مطابق اس سے بننے والا مشروب چائے سے کمتر تھا۔

فارچیون کے پودوں کی ناکامی کے بعد کمپنی نے اپنی توجہ آسام کے اس پودے پر مرکوز کر دی۔ فارچیون نے جب اس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ چینی چائے کے پودے سے بےحد قریب ہے، بلکہ ان کی نسل ایک ہی ہے۔

چین سے سمگل شدہ چائے کی پیداوار اور پتی کی تیاری کی ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ کارکن بے حد کارآمد ثابت ہوئے۔ جب ان طریقوں کے مطابق پتی تیار کی گئی تو تجربات کے دوران لوگوں نے اسے خاصا پسند کرنا شروع کر دیا اور یوں کارپوریٹ دنیا کی تاریخ میں انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی سب سے بڑی چوری ناکام ہوتے ہوتے بھی کامیاب ہوگئی۔

دیسی چائے کی کامیابی کے بعد کمپنی نے آسام کا بڑا علاقہ اس ہندوستانی پودے کی کاشت کے لیے مختص کرکے اس کی تجارت کا آغاز کر دیا اور ایک عشرے کے اندر یہاں کی پیداوار نے چین کو مقدار، معیار اور قیمت تینوں معاملات میں پیچھے چھوڑ دیا۔

برآمد میں کمی کے باعث چین کے چائے کے باغات خشک ہونے لگے اور وہ ملک جو چائے کے لیے مشہور تھا، ایک کونے میں سمٹ کر رہ گیا۔ لیکن انگریزوں کو ایک مسئلہ درپیش تھا۔ چائے چند عشروں کے اندر اندر انگلستان کا تو قومی مشروب بن گئی اور دنیا کے کئی دوسرے حصوں میں بھی ہاتھوں ہاتھ لی گئی، مگر چائے کے بیوپاریوں کو قلق تھا کہ ہندوستان کی اتنی بڑی مارکیٹ چراغ تلے اندھیرا کے مصداق ان کے قابو میں نہیں آ رہی اور روایت کے مارے ہندوستانی اس نئے مشروب کو کوئی زیادہ لفٹ نہیں کراتے اور اپنی وہی لسی چھاچھ اور شربت وغیرہ بدستور پیتے رہتے ہیں۔

یہ بتا دوں کہ ہندوستانی چائے (جسے ہمارے ہاں چاء اور چاہ بھی کہا گیا ہے) سے یکسر ناآشنا نہیں تھے۔ یہ مشروب حکیم بطور دوا استعمال کرتے تھے، یا کبھی کبھار اشرافیہ کے شوقین وغیرہ اس سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ مسئلہ عوام الناس کا تھا، جن تک رسائی حاصل کرنے کے لیے انگریز تاجروں نے وہ منصوبہ شروع کیا جسے برصغیر کی تاریخ کی منظم ترین مارکٹنگ مہموں میں سے ایک سمجھا جا سکتا ہے۔

20ویں صدی کے آغاز میں چائے کے تاجر ہندوستان کے طول و عرض میں چائے کی پتی، چولھا اور پیالیاں لے کر پھیل گئے۔ گلی گلی، محلہ محلہ، کوچہ کوچہ جا کر لوگوں کو چائے بنا کر مفت پلانے لگے۔

اگر اس پر کسی کو افیم کے بیوپاریوں کا طریقۂ کار یاد آ جائے تو بےجا نہیں ہے کیوں کہ چائے کا اہم جزو کیفین ہے اور کیفین اس حد تک نشہ آور مرکب ہے کہ اگر کوئی اس کا عادی ہو جائے تو پھر بغیر چائے پیے اس کا گزارا نہیں ہوتا بلکہ سر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔

خیر، افیم کا ذکر چل پڑا ہے تو یہ بھی سن لیجیے کہ اسی افیم کو بیچنے کا طریقہ انگریزوں سے بہتر کون جانتا ہوگا کہ انہوں نے چینیوں کو زبردستی افیم خریدوانے کی خاطر ان سے دو جنگیں لڑیں۔

یہی نہیں، بلکہ چائے کے بیوپاریوں نے کپڑے کی ملوں، کوئلے کی کانوں اور دوسرے عوامی مقامات پر چائے کے کھوکھے قائم کر لیے اور وہاں سے چائے بیچنے لگے۔

اس دوران ہندوستان کے طول و عرض میں ریلوے کا جال بچھ چکا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ریلوے سٹیشنوں پر ہندو پانی، مسلم پانی کی آوازوں کے ساتھ ساتھ گرم چائے، کی آوازیں لگنا شروع ہوگئیں۔

اس مہم کا خاطر خواہ اثر ہوا اور 1940 کے آتے آتے چائے اتنی عام ہوگئی کہ مولانا ابوالکلام آزاد کو 1944 میں اپنی کتاب غبارِ خاطر، لکھتے وقت اس پر خاصے صفحے کالے کرنا پڑے۔

مولانا کا ذکر آیا ہے تو ایک بدعت، کی وضاحت ناگزیر ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہندوستان کے لوگ چائے نہیں پیتے، چائے کے نام پر سیال حلوہ کھاتے ہیں۔

یہ بات بڑی حد تک درست ہے، اس کا اندازہ مجھے یونیورسٹی کے زمانے میں ہوا، جب ایک چینی سے میری دوستی ہوگئی جن کا نام چو ژوان جا تھا اور وہ ریڈیو چائنا کی پشتو سروس سے وابستہ تھے اور اس زبان میں مہارت حاصل کرنے کی غرض سے پاکستان آئے ہوئے تھے۔

وہ چائے کی پتیاں ساتھ لے کر آئے تھے اور بار بار کیتلی ابال کر پیتے رہتے تھے۔ ایک بار وہ میرے کمرے میں تشریف لائے۔ مجھے چونکہ چائے سے منسلک مہمان داری کا تجربہ ہو چکا تھا، اس لیے اس کے ازالے کے لیے انہیں الائچی والی دودھ پتی خوب چینی ڈال کر اس توقع پر پیش کی کہ وہ داد دیے بغیر نہ رہ سکیں گے۔

چینی بےحد وضع دار ہوتے ہیں۔ چو صاحب نے بھی ایک گھونٹ لیا، پھر کچھ سوچ کر مارے مروت کے دو تین اور چسکیاں بھی لیتے گئے، لیکن پھر پوچھے بغیر نہ رہ سکے کہ یہ کون سا شربت ہے؟

میں نے کہا، چائے ہے اور کیا؟

یہ سن کر چو نے میری طرح دیکھا، پھر چائے کی پیالی میں جھانکا اور مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے پیالی میز پر رکھ دی۔ کچھ دیر چپ رہ کر بڑی سنجیدگی سے گویا ہوئے، ہم لوگ پانچ ہزار سال سے چائے پی رہے ہیں، ہمیں کبھی اس کے اندر دودھ اور چینی ڈالنے اور یہ دوسری چیزیں ڈالنے کا خیال نہیں آیا۔ اگر میں چین واپس جا کر لوگوں کو بتاؤں کہ یہاں چائے کے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے تو وہ کیا سوچیں گے؟

اور میں سوچتا رہ گیا کہ اگر کسی کو چائے نہ دو تو مسئلہ، دو تو مسئلہ۔ بندہ آخر کرے تو کیا کرے؟

Check Also

Orangi Se Oxford Tak: Kainat Ansari Aur Aik Moqa Ki Taqat

By Aftab Alam