Orangi Se Oxford Tak: Kainat Ansari Aur Aik Moqa Ki Taqat
اورنگی سے آکسفورڈ تک: کائنات انصاری اور ایک موقع کی طاقت
آج میری بہن نے مجھے ایک ایسی کہانی بھیجی جس نے میرے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا۔ یہ صرف ایک لڑکی کی کامیابی کی داستان نہیں، بلکہ محنت، استقامت، امید، خود اعتمادی اور سب سے بڑھ کر موقع کی طاقت کی کہانی ہے۔ یہ ایسی کہانی ہے جو ہمیں اپنے معاشروں، اپنی ترجیحات اور اپنے اجتماعی فرائض پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
یہ کہانی ہے کائنات انصاری کی۔ کراچی کی اورنگی بستی کی بیٹی۔ اورنگی، جسے دنیا کی سب سے بڑی کچی آبادیوں میں شمار کیا جاتا ہے، ایک ایسا علاقہ جہاں لاکھوں لوگ محدود وسائل اور بے شمار مشکلات کے باوجود اپنی زندگی بہتر بنانے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں غربت صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت ہے۔ جہاں بہت سے بچوں کے خواب وسائل کی کمی کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں اور جہاں زندگی اکثر انسان کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتی ہے کہ اس کی منزل اس کے حالاتِ پیدائش نے پہلے ہی طے کر دی ہے۔ لیکن انسان کی صلاحیت کا تعلق اس کے گھر، محلے یا مالی حیثیت سے نہیں ہوتا۔
کائنات انصاری کے اندر بھی وہی ذہانت، وہی تجسس اور وہی صلاحیت موجود تھی جو دنیا کے کسی بھی خوشحال گھر میں پیدا ہونے والے بچے کے اندر ہو سکتی ہے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ دوسروں کے لیے راستے پہلے سے ہموار تھے جبکہ اس کے سامنے راستہ بنانا ابھی باقی تھا۔
ہم اکثر کامیاب لوگوں کی کہانیوں میں محنت اور لگن کا ذکر کرتے ہیں اور یقیناً یہ ضروری بھی ہے۔ مگر ایک اور حقیقت بھی ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں: محنت تبھی اپنا رنگ دکھاتی ہے جب کسی کو موقع بھی ملے۔
کائنات کی زندگی میں بھی ایک ایسا لمحہ آیا جب اسے تعلیم تک رسائی ملی۔ اسے سیکھنے، آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا موقع ملا۔ اس سفر میں اس کے والدین کی قربانیاں، اساتذہ کی رہنمائی اور ٹی سی ایف (The Citizen Foundation) جیسے ادارے کا کردار نہایت اہم تھا، جس نے نہ صرف اسے معیاری تعلیم فراہم کی بلکہ اس کے اندر موجود صلاحیت کو پہچان کر اسے پروان چڑھانے میں مدد دی۔ بعض اوقات ایک اسکول صرف تعلیم نہیں دیتا، وہ ایک بچے کو اپنی ذات پر یقین کرنا بھی سکھاتا ہے۔
اور پھر کائنات انصاری نے وہی کیا جو باصلاحیت لوگ کرتے ہیں، اس نے ثابت کر دیا کہ صلاحیت نہ غربت کی محتاج ہوتی ہے اور نہ وسائل کی۔
کائنات نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی چند سب سے ممتاز اور معتبر یونورسٹی تک پہنچی۔ آکسفورڈ اور ہارورڈ جیسی عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹیوں میں داخلہ حاصل کرنا خود ایک غیر معمولی کامیابی ہے، مگر کائنات نے صرف وہاں تک رسائی ہی حاصل نہیں کی بلکہ اپنی قابلیت، محنت اور استقامت سے وہاں کامیابی بھی حاصل کی۔ لیکن جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ صرف اس کی تعلیمی کامیابیاں نہیں تھیں۔
مجھے اس کی خود اعتمادی نے متاثر کیا۔ مجھے یہ بات متاثر کر گئی کہ کائنات نے اپنی کامیابی کی قیمت اپنی شناخت کو چھپا کر ادا نہیں کی۔ اس نے اپنے ماضی، اپنی بستی، اپنے والدین یا اپنی جڑوں سے شرمندگی محسوس نہیں کی۔ اس کے برعکس، اس نے فخر کے ساتھ بتایا کہ وہ کہاں سے آئی ہے۔ اس کی گفتگو میں اپنے والدین کے لیے محبت اور احترام تھا، اپنی برادری کے لیے اپنائیت تھی اور ان لوگوں اور اداروں کے لیے شکرگزاری تھی جنہوں نے اس کے سفر میں اس کا ساتھ دیا۔
آج کی دنیا میں، جہاں کامیابی کے بعد لوگ اکثر اپنے آغاز کو بھول جاتے ہیں، کائنات کی یہ خصوصیت غیر معمولی محسوس ہوتی ہے۔ وہ جتنا آکسفورڈ اور ہارورڈ کی طالبہ ہونے پر فخر کرتی ہے، اتنا ہی فخر اسے اس بات پر بھی ہے کہ وہ اورنگی کی بیٹی ہے۔ اس کے لہجے میں اپنی کمیونٹی کے لیے محبت ہے، اپنے والدین کے لیے عقیدت ہے اور ٹی سی ایف کے لیے ممنونیت ہے۔ اس نے اپنی منزل کو اپنی اصل سے بڑا نہیں ہونے دیا۔
شاید یہی حقیقی کامیابی ہے۔ کیونکہ اصل عظمت صرف بلندی تک پہنچنے میں نہیں بلکہ وہاں پہنچ کر بھی اپنے والدین، اپنے لوگوں، اپنے اساتذہ، اپنی برادری اور اپنے محسنوں کو یاد رکھنے میں ہے۔
جب میں اس سفر کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں ایک سوال بار بار ابھرتا ہے: کیا کائنات غیر معمولی تھی، یا اسے وہ موقع مل گیا جو لاکھوں دوسرے بچوں کو کبھی نہیں ملتا؟
شاید اصل جواب یہی ہے کہ پاکستان میں ذہانت اور صلاحیت وافر مقدار میں موجود ہیں، لیکن مواقع نہیں۔
غربت اکثر صلاحیت کی کمی نہیں ہوتی، غربت اکثر مواقع کی کمی ہوتی ہے۔
کتنے ہی بچے ایسے ہیں جو آج کسی کچی آبادی، کسی دور دراز گاؤں، کسی پسماندہ محلے یا کسی محروم خاندان میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں سے کتنے ایسے ہوں گے جو اگر انہیں معیاری تعلیم، مناسب رہنمائی اور آگے بڑھنے کا ایک موقع مل جائے تو وہ بھی دنیا کی بہترین جامعات، اداروں اور شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں؟
یہی وہ مقام ہے جہاں یکجہتی اور اجتماعی ذمہ داری کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ کائنات کی کہانی یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ کوئی بھی انسان اکیلا کامیاب نہیں ہوتا۔ ہر کامیابی کے پیچھے والدین کی قربانیاں اور دعائیں، اساتذہ کی محنت، دوستوں کا حوصلہ، اداروں کی سرپرستی اور پورے معاشرے کی کسی نہ کسی شکل میں شراکت موجود ہوتی ہے۔ انسانوں کی ترقی دراصل باہمی ربط اور یکجہتی کی کہانی ہے۔
ایک مہذب معاشرہ صرف اپنی بلند و بالا عمارتوں، اپنی اقتصادی ترقی یا اپنے امیر لوگوں کی کامیابیوں سے نہیں پہچانا جاتا۔ ایک مہذب معاشرہ اس بات سے پہچانا جاتا ہے کہ وہ اپنے کمزور، محروم اور پس ماندہ لوگوں کے لیے کتنے دروازے کھولتا ہے۔
جب ہم کسی بچے کو تعلیم کا موقع دیتے ہیں، کسی نوجوان کو آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرتے ہیں یا کسی محروم فرد کا ہاتھ تھامتے ہیں تو ہم کوئی احسان نہیں کر رہے ہوتے، ہم انصاف کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم اس بنیادی اصول کا احترام کر رہے ہوتے ہیں کہ ہر انسان عزت، ترقی اور اپنے خوابوں کی تعبیر کا حق رکھتا ہے۔
برابری کا مطلب یہ نہیں کہ سب لوگوں کے نتائج ایک جیسے ہوں۔ برابری کا مطلب یہ ہے کہ کسی بچے کے خواب صرف اس لیے دفن نہ ہو جائیں کہ وہ غلط محلے میں پیدا ہوا تھا یا اس کے والدین کے پاس وسائل نہیں تھے۔
کائنات انصاری کی کہانی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ انسانی صلاحیت ہر جگہ موجود ہے، لیکن مواقع ہر جگہ موجود نہیں اور شاید ہمارے زمانے کا سب سے بڑا اخلاقی چیلنج یہی ہے کہ ہم یہاں ایسا معاشرہ کیسے بنائیں جہاں کسی انسان کی تقدیر اس کے حالاتِ پیدائش سے نہیں بلکہ اس کی صلاحیتوں، محنت اور کردار سے متعین ہو۔
میری بہن نے آج مجھے صرف ایک متاثر کن کہانی نہیں بھیجی، انہوں نے مجھے ایک اہم حقیقت یاد دلائی ہے۔ اگر ایک موقع کائنات انصاری کو اورنگی کی گلیوں سے اٹھا کر آکسفورڈ اور ہارورڈ تک پہنچا سکتا ہے، تو پھر کتنی اور کائناتیں آج بھی ہماری توجہ، ہماری ہمدردی اور ہمارے اجتماعی عزم کی منتظر ہیں؟
دنیا میں صلاحیتوں کی کمی نہیں۔ کمی صرف مواقع کی ہے اور جب معاشرہ یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ موقع چند خوش نصیب لوگوں کا استحقاق نہیں بلکہ ہر انسان کا حق ہے، تب نہ صرف افراد کی زندگیاں بدلتی ہیں بلکہ پوری انسانیت ایک بہتر سمت میں آگے بڑھتی ہے۔
کائنات انصاری کی کہانی دراصل امید کی کہانی ہے۔ یہ اس یقین کی کہانی ہے کہ اگر ایک بچی کو علم، اعتماد، رہنمائی اور ایک منصفانہ موقع مل جائے تو وہ اپنی قسمت ہی نہیں، اپنے خاندان، اپنی برادری اور آنے والی نسلوں کی تقدیر بھی بدل سکتی ہے اور شاید یہی وہ سبق ہے جسے ہمیں کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

