Thursday, 25 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sohail Bashir Manj
  4. Corporate Ghulami Aur Awami Bebasi

Corporate Ghulami Aur Awami Bebasi

کارپوریٹ غلامی اور عوامی بے بسی

ریاستِ پاکستان کا دستور صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ہر شہری کی عزت آبرو اور اس کے وجود کا نگہبان ہے آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 14 واضح طور پر انسان کی حرمت اور "گھر کی پرائیویسی" (چادر اور چاردیواری کے تحفظ) کی ضمانت دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 24 ہر شہری کو اس کی جائیداد کے مالکانہ حقوق کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے ریاست کو پابند کرتا ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کی رضا مندی یا قانون کے جائز تقاضوں کے بغیر اس کی ملکیت سے محروم نہ کیا جائے۔

جب کوئی طاقتور پرائیویٹ کمپنی منافع کی ہوس میں کسی غریب کے آشانے اس کی محنت سے کھڑی کی گئی بلڈنگ یا جائیداد پر اس کی مرضی کے خلاف غاصبانہ قبضہ جمانے کی کوشش کرتی ہے تو یہ صرف زمین کے ایک ٹکڑے پر نہیں بلکہ پاکستان کے آئین پر شب خون ہوتا ہے۔ ظلم کی انتہا تب ہوتی ہے جب عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے حکومتی ایوان اور مقتدر ادارے ان سرمایہ داروں کے آلہ کار بن کر مظلوم کے بجائے ظالم کی پشت پناہی کرنے لگتے ہیں۔ اگر ریاست خود ہی اپنے شہریوں کو سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے تو پورا معاشرہ ایک ایسے بھیانک خلفشار لاقانونیت اور انارکی کی دلدل میں دھنس جائے گا جہاں جنگل کا قانون نافذ ہو جاتا ہے۔ جب انصاف کے دروازے بند اور قانون سرمایہ دار کی لونڈی بن جائے تو عوام کا ریاست پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے بغاوت سنگین جرائم اور معاشرتی تباہی جنم لیتی ہے ہم اقتدار کے اندھے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ عام آدمی کی چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرنے والے ان بھیڑیوں کی سرپرستی بند کریں کیونکہ جب مظلوم کی آہ اور آئین کی پامالی حد سے بڑھتی ہے تو پھر تاریخ کے فیصلے بڑے بے رحم ہوتے ہیں۔

دنیا کے پانچ بڑے جمہوری اور مہذب ممالک کے دساتیر کا مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہاں نجی جائیداد کا تحفظ شہریوں کا بنیادی اور مقدس ترین حق مانا گیا ہے۔ امریکہ کے آئین کی پانچویں ترمیم واضح طور پر کہتی ہے کہ کسی بھی شخص کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا جبکہ جرمنی کا بنیادی قانون یعنی آرٹیکل 14 جائیداد کے حق کی ضمانت دینے کے ساتھ اسے عوامی فلاح سے مشروط کرتا ہے نہ کہ کسی کارپوریٹ کمپنی کے منافع کے لیے۔ اسی طرح فرانس کا تاریخی اعلامیہ برائے انسانی حقوق اپنے آرٹیکل 17 کے تحت جائیداد کو ایک ناقابلِ خلاف ورزی اور مقدس حق قرار دیتا ہے اور جاپان کا آئین اپنے آرٹیکل 29 کے ذریعے نجی ملکیت کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، جبکہ پڑوسی ملک بھارت نے بھی اپنے آئین کے آرٹیکل 300A کے تحت ہر شہری کو یہ قانونی تحفظ دیا ہے کہ ریاست بھی اسے قانون کی سخت گرفت کے بغیر بے دخل نہیں کر سکتی۔

دنیا کے کسی بھی مہذب معاشرے کا آئین اور قانون اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ کوئی نجی کمپنی اپنے مالی مفاد یا کاروباری ہوس کی خاطر کسی عام شہری کو اس کے گھر سے بے دخل کر دے یا اس کی جائیداد پر غاصبانہ قبضہ جما لے۔ مہذب دنیا میں سرمایہ دارانہ مصلحتوں کو انسانی حقوق پر ترجیح نہیں دی جاتی اور اگر کبھی مفادِ عامہ کے تحت زمین کی ضرورت پڑے بھی تو اس کا ایک سخت قانونی طریقہ کار ہوتا ہے جس میں مالک کی رضا مندی اور مارکیٹ ریٹ سے بڑھ کر معاوضہ پہلی شرط ہوتی ہے۔ جب کوئی ریاست کارپوریٹ مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اپنے ہی عوام کو بے گھر کرنے کی سہولت کار بن جائے تو وہ تہذیب کے دائرے سے نکل کر وحشت اور بربریت کے اندھیروں میں گر جاتی ہے جس کی اجازت دنیا کا کوئی بھی مہذب قانون کبھی نہیں دیتا۔

قومی اسمبلی کے ایوان میں عوامی امنگوں کے برعکس گزشتہ روز پاس ہونے والا ٹیلی کام بل جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے منہ پر ایک ایسا طمانچہ ہے جس نے بنیادی انسانی حقوق کو سرعام نیلام کر دیا ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 24 ہر شہری کو اس کی جائیداد کے تحفظ کی غیر مشروط ضمانت دیتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کی ملکیتی زمین سے محروم نہیں کیا جا سکتا مگر اقتدار کے اندھے ایوانوں نے کارپوریٹ کمپنیوں کو اندھی چھوٹ دے کر عوام کو اپنی ہی سر زمین پر بے بس کر دیا ہے۔

آئی ٹی کی نگران وزیر شزا فاطمہ کی مجرمانہ غفلت اور سنگدلی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے عوامی مفاد پر سرمایہ داروں کی تجوریوں کو ترجیح دی اور ایک ایسی ظالمانہ قانون سازی کی سرپرستی کی جہاں پانچ کروڑ کا بھاری جرمانہ غریب کی چیخوں پر تمغہ بنا کر سجا دیا گیا ہے۔ وزیر موصوفہ کی یہ روش اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے نام پر عوام کو جدید غلامی کی زنجیریں پہنانے پر تلی ہوئی ہیں۔ دوسری طرف اپوزیشن اراکین کا منافقانہ اور بزدلانہ کردار بھی تاریخ کے سیاہ حروف میں لکھا جائے گا جن کا مقصد ایوان میں بیٹھ کر صرف اپنے سیاسی مفادات کی جنگ لڑنا اور پوائنٹ سکورنگ کرنا ہے نہ کہ مظلوم عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا۔

ان ناعاقبت اندیش رہنماؤں کی موجودگی میں ایسا متنازع اور غاصبانہ بل پاس ہونا ان کی بدترین نااہلی اور عوامی امنگوں سے کھلی غداری کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ ان کا اصل فرض اس ظلم کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا تھا مگر وہ صرف تماشائی بنے رہے۔ یقین کریں میں پاکستان کے کروڑوں مظلوم اور بے سہارا شہریوں کے اس گہرے دکھ اور کرب میں برابر کا شریک ہوں جن کی چھتیں اور زمینیں اب ان سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی ہیں اور یہ کالم ان ظالم حکمرانوں کے خلاف عوامی غیظ و غضب کا ایک ایسا آئینہ ہے جو ان کے چہروں سے شرافت کا نقاب نوچ پھینکے گا۔

اس سنگین اور حساس نوعیت کے بحران کا سب سے دانشمندانہ اور حقیقت پسندانہ حل یہی ہے کہ حکومت تمام نجی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے تاکہ وہ الگ الگ زمینوں پر غاصبانہ قبضے کرنے کے بجائے ایک ہی موجودہ ٹاور پر اپنی جدید ترین تنصیبات اور آلات نصب کر سکیں۔ اس اشتراکِ عمل سے نہ صرف ماحولیاتی اور زمینی انتشار کا خاتمہ ممکن ہوگا بلکہ عوام کی نجی املاک کا تقدس بھی پامال ہونے سے مستقل طور پر بچ جائے گا۔ مقتدر حلقوں اور حکومتِ پاکستان کو وقت کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے فوری طور پر اس انتہائی متنازع بل پر نظرثانی کرنی چاہیے اور عوامی غیظ و غضب کا نشانہ بننے سے پہلے اسے فی الفور منسوخ کر دینا چاہیے کیونکہ اسی فیصلے میں ریاست کی بقا اور حکمرانوں کی عافیت پوشیدہ ہے۔

موجودہ نازک ترین حالات میں جب ملک معاشی دلدل میں بری طرح دھنسا ہوا ہے اور معیشت کی ناؤ تاحال سیدھی راہ پر نہیں آ سکی پاکستان کسی بھی نئے داخلی خلفشار اور عوامی احتجاج کی لہر کا سرے سے متحمل ہی نہیں ہو سکتا اگر عوامی حقوق پر شب خون مارنے کا یہ سلسلہ بند نہ کیا گیا تو مظلوم عوام کا شدید ردعمل پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری ان ناعاقبت اندیش پالیسی سازوں پر عائد ہوگی۔ اب بھی وقت ہے کہ اربابِ اختیار ہوش کے ناخن لیں اور کارپوریٹ مافیا کی سرپرستی چھوڑ کر اپنے ہی غریب عوام کے زخموں پر مرہم رکھیں تاکہ ملک کسی بڑے حادثے اور داخلی انتشار سے محفوظ رہ سکے۔

Check Also

Orangi Se Oxford Tak: Kainat Ansari Aur Aik Moqa Ki Taqat

By Aftab Alam