Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Nawaz Sharif Ka Karkun Mayoos Hai

Nawaz Sharif Ka Karkun Mayoos Hai

نواز شریف کا کارکن مایوس ہے

مسلم لیگ ن ملک کی ایک بڑی جماعت ہے لیکن اس کی بناوٹ میں ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ اس جماعت کا رویہ اقتدار اور اپوزیشن کے دور میں مختلف ہوتا ہے۔ اپوزیشن کے دنوں میں یہ کارکنان کی جماعت ہوتی ہے اور جماعت کے کارکنان ماریں کھاتے ہیں اور احتجاجی جلسوں جلوسوں میں رسوا ہوتے ہیں جبکہ اقتدار کے دنوں میں وہی مخصوص لیڈران سامنے آجاتے ہیں جن میں سے کچھ تو دہائیوں سے جماعت کے سدا بہار وزیر ہیں اور کچھ چہرے اقتدار کا سورج طلوع ہوتے ہی خلا سے نازل ہوتے ہیں اور جماعت کی فرنٹ لائن میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔

اس وقت جبکہ کہ مسلم لیگ ن کی حکومت ہے اور مرکز اور پنجاب میں اقتدار کا بڑا حصہ اسی جماعت کے پاس ہے اور پچھلے دو سال میں کسی بھی سطح پر کارکنان سے رابطہ کرنے اور جماعت کی تنظیم نو کے لیے کوئی ایک بھی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ اب تو حالت یہ ہے کہ جماعت میں بنیادی کارکن کو اچھوت سمجھا جاتا ہے اور پورا نظام ابن الوقت اور موقع پرست لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ آجکل بھی جب حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی اور بیروزگاری عروج پر ہے اور میڈیا سمیت مختلف فورموں پر حکومت پر تنقید ہو رہی ہے تو اپنا قبلہ درست کرنے کی بجائے رونا دھونا شروع کردیا گیا ہے۔

اب وہ تقریریں جو پی ٹی آئی کی پالیسیوں کے خلاف تھیں ان کا رخ پھر مظلومیت کے بیانیہ کی طرف موڑا جارہا ہے اور عمران خان حکومت کے جبر اور جیلوں کے قصے سنا کر ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عجب بات ہے کہ یہ سارے لوگ وہ ہیں جنہوں نے اگر چند دن وی آئی پی جیل دیکھ بھی لی ہے تو بھی اس کا پھل وزارتوں اور مراعات کی صورت میں پالیا ہے اور یہی نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی دہائیوں سے یہی افراد پارلیمنٹ کا حصہ رہے ہیں اور وزارتوں کے مزے بھی لوٹتے رہے ہیں اور ان کی اولادیں ارب پتی ہوگئیں۔ جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ ن کا ورکر اپوزیشن کے دنوں کی سختیوں اور اب اقتدار کی بے حسی کا شکار ہے۔

آج مسلم لیگی ورکر تین سمت سے پس رہا ہے۔ ایک طرف لوگ گلی محلوں میں کارکنان کو مہنگائی اور بے جا ٹیکسوں کے کوسنے دیتے ہیں، دوسرا ان کارکنان کی کسی بھی سطح پر بات نہیں سنی جاتی ہے اور سب سے اہم مسئلہ یہ کہ کارکنان کے اپنے مسائل بھی مہنگائی نے اس قدر بڑھادئیے ہیں کہ ان کے لئے اپنی زندگی کے معاملات چلانا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں کارکن مایوسی کا شکار ہیں۔ حکومت مسلسل چار سال سے ایک ہی بیانیہ بنارہی ہے کہ ان کی پالیسیوں نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے جبکہ حقیقت ہے کہ ان چار سال میں اس قدر مہنگائی نے تباہی مچائی ہے کہ اب ایک عام آدمی خود دیوالیہ ہو چکا ہے۔

چھوٹے کاروبار مہنگی بجلی، مہنگے پٹرول اور بے تحاشا ٹیکسوں کے ہاتھوں مفلوج ہو چکے ہیں جبکہ نوکری کرنا اور نوکری دینا دونوں معاملات میں زندگی مشکل ہوگئی ہے۔ دوسری طرف آئی ایم ایف کا نام استعمال کرکے حکومت مسلسل عوام کو نچوڑنے میں مصروف ہے اور طرز حکمرانی یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے ممبران سے لے کر بیوروکریسی تک سب کی تنخواہوں اور مراعات میں بے تحاشا اضافہ کرکے گلی میں کھڑے ریڑھی بان کو اٹھا کر جیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔ پھر بڑے لگژری جہازوں کو خرید کر موٹرسائیکل چلانے والوں سے ہیلمٹ کے نام پر اربوں روپے چالان کے اکٹھے کئے جاتے ہیں۔

حکومت نے ہر شخص کی زندگی اور کاروبار کے اندر محکموں کی اتنی مداخلت شامل کردی کہ اگر تین ماہ میں تیرہ ارب روپے چالان سے حاصل ہوئے تو اس سے زیادہ رقم رشوت کے نام پر کرپٹ اہلکاروں کی جیبوں میں چلی گئی یعنی عوام کو ہر طرف سے لوٹا گیا اور پھر چلتے پھرتے پھل بیچنے والے افراد کے کروڑوں مالیت کے موٹر سائیکل ٹھیلے چھین کر ان کو سکریپ بنادیا اور من پسند افراد کے ٹھیلے پورے شہر کے انھیں فٹ پاتھوں پر مستقل سجادئیے جنہیں خالی کرنے کے لئے اتنا بڑا آپریشن کیا گیا تھا اور ایسے حالات میں وزرا تو عوام سے ملتے نہیں ہیں لیکن گلی محلوں کی ساری جنگ ایک عام کارکن لڑ رہا ہے۔

2018 کے الیکشن میں نواز شریف نے مریم نواز کا ہاتھ پکڑ کر الیکشن کمپين کا حصہ بنایا تھا اور مریم نواز کو مسلم لیگ ن کے دیرینہ کارکنان سے ملاقات کروائی تھی اور پھر اگلے پانچ سالوں میں مریم نواز نے ان ہی کارکنان کے کندھوں پر احتجاجی تحریک بھی چلائی تھی اور بڑے بڑے جلسے بھی کئے تھے۔ لگتا یہی تھا کہ مریم نواز اقتدار میں آکر نواز شریف کے ان ورکروں کے سر پر ہاتھ رکھیں گی جبکہ مریم نواز نے وزیر اعلٰی بننے کے بعد چن چن کر اپنے باپ کے دیرینہ کارکنان کو کچلنے کا کام شروع کردیا ہے۔ اکثر بڑے کاروباری گروپوں اور کمپنیوں میں دیکھا یہی گیا ہے کہ جب کمپنی کے انتظامی معاملات نئی نسل کے پاس آتے ہیں تو وہ پہلے مرحلہ میں اپنے والدین کے رکھے گئے وفادار ملازمین کو فارغ کرتی ہے تاکہ کسی کی عزت کا بوجھ انھیں نہ اٹھانا پڑے۔ مریم نواز بھی شاید انھیں کاروباری سطور پر سیاست کررہی ہے۔

نواز شریف کے دیرینہ ساتھیوں اور بڑے سپوٹران میں سب سے بڑا حصہ تاجروں نے ڈالا تھا اور آج سارے تاجر حکومت کی بدترين بد انتظامی اور انتقام کا سامنا کررہے ہیں جب لاہور کی بڑی مارکیٹوں میں کاروبار کرنا مشکل بنادیا گیا ہے۔ ایک طرف مہنگائی، بیروزگاری، بے جا ٹیکس اور جرمانوں نے عوام کو پریشان کیا ہوا ہے اوپر سے پیرا فورس اور پولیس فورس تاجروں کے لئے ڈراؤنا خواب بن چکی ہیں۔ نواز شریف کے دوسرے بڑے سپورٹران میں ریڑھی والا اور رکشہ چلانے والے غریب لوگ تھے جو محنت کرکے اپنا گھر چلاتے تھے اور ملکی معیشت میں بھی حصہ ڈالتے تھے۔ اس حکومت نے ریڑھی والے شخص کی تذلیل کرکے اسے جیل بھیج دیا جبکہ رکشہ چلا کر روزی کمانے کی راہ میں مہنگا پٹرول اور بے جا چالان آڑے آگئے۔

میں نے کئی بائیک رائڈرز سے بات کی تو ان کا کہنا ہے کہ دن بھر کام کرکے پہلے تو ہزار دو ہزار روپے بچ جایا کرتے تھے لیکن اب جب سے پٹرول مہنگا ہوا ہے تو وہ بھی ختم ہوگئے اور اگر کوئی چالان ہو جائے تو جیب سے پیسے دے کر واپس گھر جانے کے لئے بڑا دل گردہ چاہیئے ہوتا ہے۔ چند دن ہوئے کہ عید پر صفائی کی کمپين کا حصہ بنے لیگی ورکروں سے بات ہوئی اور یہ وہ ورکر ہیں جنہوں سے گزشتہ بیس سالوں میں ہر دھوپ چھاؤں میں قیادت کا ساتھ دیا اور کئی بار جماعت کو اقتدار دلانے کے لئے قربانیاں دی ہیں اور آج بھی وہ محنت مزدوری کرکے مشکل زندگی کا پہیہ چلا رہے ہیں یعنی زندگیاں جماعت کے ساتھ وقف کرکے بھی ان کی اپنی زندگی نہ بن سکی۔

ایسے بے لوث لوگ بھی کہہ رہے تھے کہ مریم بی بی نے ان کو اور ان کی عزت کو زندہ درگور کردیا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ جتنا نقصان کارکنان کی عزت کو اس حکومت نے پہنچایا ہے اتنا تو پی ٹی آئی اور مشرف نے نہیں پہنچایا تھا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ جماعت کی حکومت ہوتے ہوئے بھی سارے اختیارات بیوروکریسی کو دئیے گئے ہیں اور ایسے ایسے بیوروکریٹ موجود ہیں جو مسلم لیگی کارکنان سے بلاوجہ بدتمیزی کرتے ہیں اور ایک بڑی تعداد میں یہ افراد عمران خان کے وفادار ہیں یہی وجہ ہے کہ کسی ہسپتال چلے جائیں یا کسی کی دادرسی کے لئے پولیس اسٹیشن تشریف لے جائیں تو ان سرکاری افسران کا مسلم لیگ کا نام سن کر خون کھولنے لگتا ہے جیسے ان کو ہدایات دی گئی ہوں کہ مسلم لیگی کارکنان کی تضحیک کرنی ہے۔

اکثر ورکروں کی شکایت تھی کہ بازاروں اور گلیوں سے ان افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے جن کا تعلق مسلم لیگ سے ہے اور نواز شریف کو نکڑے لگانے کے بعد نئی قیادت نواز شریف کے ورکر کو بھی فارغ کرنے پر مامور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت کے وہ ڈیرے جو کبھی اپوزیشن میں بھی بے آباد نہیں ہوئے تھے وہ بھی اب ویران نظر آتے ہیں۔ جماعت کے وفادار ممبران اسمبلی جنہوں نے بطور کارکن جماعت میں جگہ بنائی تھی وہ بھی پریشان ہیں کہ وہ نہ تو ورکروں کے کام کرواسکتے ہیں اور نہ ہی ووٹروں سپوٹروں کے جائز معاملات کو حل کرواسکتے ہیں۔ کیونکہ بیوروکریسی ٹارگٹ کرکے ان کے لئے مسائل پیدا کرنے میں مصروف ہے۔

مسلم لیگ ن کے لیڈران کا ہمیشہ سے یہی سوچ رہی ہے کہ سیاسی لوگ کرپشن کرتے ہیں اور میرٹ پر عملدرآمد نہیں کراتے ہیں اسی لئے یہ جماعت ہمیشہ بیوروکریسی کو اپنے ورکروں پر فوقیت دیتی ہے جبکہ بیوروکریسی کی ہر بات مان کر آج ملک مسائل کی دلدل میں پھنس چکا ہے اور بجلی و پٹرول کی بدترين پالیسیوں نے ملکی سالمیت بھی داؤ پر لگادی ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں جو حکمران کرپشن میں ہاتھ رنگتے ہیں وہی بیوروکریسی کو آلہ کار بناتے ہیں اور پھر مل جل کر کھاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عورت کی حکمرانی میں ہمیشہ انتقام کو فروغ ملتا ہے اور پنجاب کی حالت یہ ہے کہ خواتین کا ایک ٹولہ ہے جو مریم نواز کو گھیرے ہوئے ہے اور ان کی سوچ کارکنان کی طرف آنے ہی نہیں دیتی ہیں۔ جب عورت کی ساری مشیران بھی خواتین ہوں تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔ مریم نواز نے جو اپنے سجادی مشیربنا رکھے ہیں وہ کارکنان کے فون تک نہیں سنتے ہیں۔

Check Also

Dunya Ki Khufiya Tareekh

By Asif Masood