Saturday, 06 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Qurratulain Shoaib
  4. Waldain Aur Rishton Mein Tafreeq

Waldain Aur Rishton Mein Tafreeq

والدین اور رشتوں میں تفریق

رشتوں میں تفریق کا آغاز بہن بھائیوں سے نہیں، والدین سے شروع ہوتا ہے۔ جب والدین ایک بچے کو زیادہ نواز دیں اور دوسرے کو مکمل طور پر محروم کر دیں۔ جب ایک بچے کی برائیاں دوسرے کے سامنے کی جائیں، تو دلوں میں فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں جو وقت کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں۔ پھر کچھ بچے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ ہمیشہ درست ہیں اور خرابی صرف دوسرے میں ہے۔

ایک دوست نے اپنی زندگی کا ایک واقعہ سنایا۔ ان کے شوہر کو ان کے والد نے اس کاروبار سے بے دخل کر دیا جسے ان کے شوہر نے اپنی محنت، وقت اور صلاحیت سے کھڑا کیا تھا۔ وہ کوئی وراثتی کاروبار نہیں تھا۔ انہوں نے والد کی فرمانبرداری میں اور اپنے مزاج کی سادگی اور محبت میں خاموشی سے سب کچھ چھوڑ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ والد کے پاس ہی تو سب کچھ ہے، ضرورت پڑے گی تو وہ ساتھ دے دیں گے اور والد کی رضا اور فرمانبرداری میں انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا۔ لیکن دوسری طرف پلان بی تھا۔ نہ صرف انہیں کاروبار سے الگ کیا گیا بلکہ بعد میں مالی مدد دینے سے بھی انکار کر دیا گیا۔ حالات یہاں تک آ گئے کہ ایک دن موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈالوانے کے لیے بھی پیسے موجود نہ تھے۔ نوکری فوری نہیں مل رہی تھی اور گھر کی ذمہ داریاں الگ تھیں۔ انہوں نے چھوٹے بھائی سے جس کے پاس اب سارا کاروبار تھا یہ کہا کہ بائیک میں پیٹرول ڈلوانا ہے، کچھ پیسے دے دو۔ اس نے جواب دینے سے پہلے رعونت سے اپنی دونوں ٹانگیں میز پر رکھیں اور پھر کہا منہ اٹھا کر پیسے مانگنے آ جاتے ہو یہاں کوئی بینک کھلا ہوا ہے کوئی پیسے نہیں ہیں میرے پاس۔

دوست کہتی ہے، مجھے وہ منظر ہانٹ کرتا ہے۔ اس نے میرا بھی لحاظ نہ کیا کہ نئی بھابھی سامنے کھڑی ہے۔ وہ یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ بھائی جان اس وقت میرے پاس نہیں ہیں، رشتے کا بھرم ہی رہ جاتا مگر اس نے تحقیر کو ترجیح دی۔ جب کہ بھائی کے پاس پیسہ بھی تو اسی کاروبار سے آتا تھا۔ کہنے لگیں کہ زندگی میں بہت سخت دن بھی آئے۔ کبھی گھر میں بچوں کے لیے کھانا تک نہ تھا، کبھی بچوں کے لیے ہفتہ میں دو دن دودھ لاتے اور پانی ڈال ڈال کر ان کو پلاتے، کبھی شوہر کا جوتا ٹوٹ گیا تو خریدنے کے پیسے تک نہ تھے اور وہ ٹوٹا جوتا پہنے دفتر جاتے رہے۔ موٹر سائکل انتہائی خراب حالت میں تھی۔ جگہ جگہ رکتی اور خراب ہوتی۔ مگر انہوں نے پھر کبھی اس دروازے کی طرف نہیں دیکھا۔

کہنے لگیں کہ آج اللہ کا دیا سب کچھ ہے مگر وہ رعونت بھرا لہجہ اور پہلے میز پر ٹانگیں رکھنے کا منظر نہیں بھولتا۔

اور میں سوچ رہی ہوں کہ یہ سب ایک دن میں تو نہیں ہوا ہوگا۔

شاید یہ اس دن شروع ہوا ہوگا جب ایک بچے کو سب کچھ دیا گیا اور دوسرے کو محروم رکھا گیا۔ جب والدین نے خود اپنے بچوں کے درمیان فرق ڈال دیا تھا۔ جب جنم دینے والے انصاف نہ کر سکیں تو پھر بہن بھائیوں سے مساوات کی امید کیسے رکھی جائے؟

کتنا عجیب ہے کہ یہ ہی بہن بھائی بچپن میں ایک دوسرے کی معمولی سی تکلیف پر بے قرار ہو جاتے ہیں اور پھر مال، جائیداد، اختیار اور دولت کی کشش بعض اوقات انہیں اس قدر بدل دیتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی عزت، احساسات اور ضرورت تک بھول جاتے ہیں۔

مجھے یاد ہے ہماری ایک پھوپھو اللہ انھیں جنت نصیب کرے ان کے حالات کچھ اچھے نہ تھے۔ تقریباً ابو کا معمول تھا دسترخواں پر جب ہم بیٹھتے تو میرے ابو کہتے پتہ نہیں انہوں نے آج کیا کھایا ہوگا اور ساری زندگی ابو نے پھوپھو کے ہر طرح سے مالی مدد کی۔ اس وقت خط ہوتے تھے پھوپھو کسی آتے جاتے کے ہاتھ خط بھجواتی

تو ابو فوری طور پر ان کی ضرورت پوری کرتے۔ ہر ماہ راشن کے لیے پیسے بھجواتے دادی اماں بھی آنے والے رشتہ دار کے ہاتھ کچھ نہ کچھ بھجواتی رہتیں۔ عیدوں پر خاص طور پر پوچھتے پھوپھو سے کیا کیا چاہیے۔ بغیر ماتھے پر بل لائے بھجواتے۔ ایک بار عید پر ابو نے ہمیں کہا کہ اس عید پر اگر تم لوگ نئے کپڑے اور جوتے نہ بنواؤ تو ہم تمھاری پھوپھو کے بچوں کے کپڑے بنالیں؟ تو ہم سب خوشی خوشی راضی ہو گئے اور ہمارے اس عمل کو ابو نے بہت پسند کیا اور انعام کے طور پر ہمیں سرپرائز عید کے نئے کپڑے ملے۔

آج بھی اتنے برس اپنے اپنے گھروں میں شادیاں کرکے الگ رہتے ہو گئے۔ مگر کسی ریسٹورنٹ میں کچھ نئی ڈش ٹرائی کریں، کسی نئی جگہ گھومنے جائیں اور کچھ بھی اچھا یا نیا ہو تو دل چاہتا ہے ہمارے بہن بھائی بھی ساتھ ہوں۔

ہم بہن بھائی ایک دوسرے سے ضرورت کے وقت پیسے لے لیتے ہیں۔ ایسا ہوتا ہے سب کو ضرورت پڑتی ہے۔ مگر کوئی بھی واپسی کا کبھی بھی تقاضا نہیں کرتا اور ہم ایک دوسرے سے اسی طرح پیسے مانگ لیتے ہیں جیسے ہمارا حق ہو اور ہمیں یہ بھی پتہ ہوتا کہ واپسی کا کوئی چکر نہیں۔ کیونکہ واپس کوئی لیتا ہی نہیں۔

آج کیا کبھی ہم نے اپنے دستر خوانوں ہر بیٹھے سوچا کہ ہمارے کمزور بہن بھائی کے گھر روٹی پکی ہوگی کہ نہیں؟ ان کے بچوں نے عید پر کیا پہنا ہوگا؟ ان کے حالات کیسے ہوں گے؟ اور کیا کبھی بہن بھائیوں کو پیسے دے کر واپس نہ مانگے ہوں؟ اوران کا حساب کتاب نہ رکھا ہو؟

یہ سب محبتیں، دلوں کو جوڑنا، بچوں کے اندر ایک دوسرے کا احساس والدین پیدا کرتے ہیں۔ والدین ہی اپنے بچوں میں حسد بھی پیدا کرتے ہیں۔ والدین بہت با اختیار ہوتے ہیں محبتیں پیدا عمل سے کی جاتی ہیں۔ کہنے سے بچوں میں محبت پیدا نہیں ہوتی۔ والدین کو عملی نمونہ بن کے دکھانا پڑتا ہے۔

Check Also

Muhabbat Ki Kahani Nahi Marti

By Syed Mehdi Bukhari