Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Insani Rishton Ke Ehteram Ki Alamat Altaf Hassan Qureshi

Insani Rishton Ke Ehteram Ki Alamat Altaf Hassan Qureshi

انسانی رشتوں کے احترام کی علامت الطاف حسن قریشی

تاریخ یاد نہیں رہی مگر 2022ء کے مارچ کا پہلا ہفتہ تھا۔ ایک ٹیلی فون نمبر سے جو میرے لئے نامعلوم تھا کوئی رابطہ کرنا چاہ رہا تھا۔ بالآخر قبولیت کا بٹن دبا کر ہیلو کیا تو دوسری جانب سے نہایت شائستگی سے تصدیق چاہی گئی کہ میں نصرت جاوید ہوں۔ جی ہاں کہا تو "میں الطاف حسن قریشی بول رہا ہوں " کی صدا آئی۔ مزید تعارف کی انہیں ضرورت نہیں تھی۔ ان کے نام اور کام سے سکول کے دنوں سے واقف تھا۔ ان کے متعارف کردہ "اردو ڈائجسٹ" کا باقاعدہ قاری تھا۔

انگریزی کے معروف ماہنامے "ریڈرڈائجسٹ" کی طرح وہ اردو اور عالمی ادب سے ایسی کہانیاں اور مضامین چن کر چھاپتا جو (Reading Light)تفریحی یا وقت گزارنے میں مددگار ثابت ہوتی تھیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمنی یا اٹلی کی قید سے فرار ہوئے جنگی قیدیوں کی داستانیں اور غالباََ جم کاربٹ نامی ایک شکاری کی لکھی کہانیاں میری پسندیدہ تھیں۔ شکار کی کہانیوں میں ایک آدم خور شیر کو کئی دنوں کی محنت کے بعد ہانکے سے گھیر کر بالآخر مچان پر بیٹھا شکاری ٹھکانے لگادیتا تھا۔ بعدازاں 1965ء کی پاک-بھارت جنگ ہوگئی اور اس جنگ کے ختم ہوجانے کے کم از کم تین برس بعد بھی "اردو ڈائجسٹ" میں مختلف محاذوں پر ہوئے معرکوں کی تفصیلی داستانیں شائع ہوتی رہیں۔

الطاف حسن قریشی صاحب مذکورہ جریدے کے مدیر تھے۔ اردو جرائد کے باقاعدہ قارئین میں مقبول ترین۔ بتدریج انہوں نے اہم ترین ملکی سیاستدانوں کے علاوہ غیر ملکی سربراہان کے طویل انٹرویو کا سلسلہ بھی شروع کردیا۔ میٹرک کا امتحان دینے کے بعد لیکن میں "انقلابی " ہوگیا۔ ان کا شائع کردہ رسالہ مجھے امریکی سامراج کی سرپرستی میں انقلابی نظریات کے خلاف پراپیگنڈہ مہم کا "مہلک ہتھیار" محسوس ہونے لگا۔ 1969ء میں فیلڈمارشل ایوب خان کے خلاف احتجاجی تحریک کے انجام پر یحییٰ خان کا مارشل لاء لگ گیا۔ مارشل لاء کے باوجود یحییٰ خان نے نئے انتخابات کا وعدہ کیا۔

ملکی تاریخ میں پہلی بار بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہوئے انتخاب کی تیاریوں نے ہمارے عوام کو دائیں اور بائیں بازو میں تقسیم کردیا۔ دائیں بازو کے نظریا ت کو تواناتربنانے کے لئے الطاف صاحب کے ادارے نے ایک ہفت روزہ بھی شروع کردیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی بے دریغ کردار کشی کا آغاز اس رسالے سے ہوا اور الطاف صاحب مجھ جیسے "انقلابیوں " کے لئے سامراجی ایجنٹ اور رجعت پسندی کی قابل مذمت علامت بن گئے۔

کافی وقت گزرجانے کے بعد کل وقتی صحافت اختیار کرنے کے بعد میں انگریزی میں سیاسی تبصرے لکھنا شروع ہوگیا تو بارہا الطاف صاحب کا نام لے کر انہیں ان صحافیوں اور دانشوروں کی صف میں نمایاں انداز میں شامل بتاتا رہا جنہوں نے مجھ "عقل کل" کی دانست میں پاکستانیوں کو "فرسودہ" نظریات اور آمرانہ سوچ کے فروغ سے گمراہ رکھا۔ مذکورہ تناظر میں 1970ء کے انتخابات کا ذکر لازمی تھا۔

ان دنوں کے مشرقی پاکستان نے تقریباََ یکسوہوکر شیخ مجیب اور اس کی عوامی لیگ کو بھاری بھرکم اکثریت فراہم کی تھی۔ جنرل یحییٰ نے مگر اقتدار ان کے سپرد کرنے سے انکار کردیا۔ پاکستان بچانے کے نام پر فوجی آپریشن شروع کردیا گیا۔ جب یہ آپریشن نہایت شدت سے مشرقی پاکستان میں باغیوں کی سرکوبی میں مصروف تھا تو الطاف صاحب نے وہاں کا طویل دورہ کیا۔ اس کے اختتام پر ایک طویل مضمون لکھا۔

"محبت کا زمزم بہہ رہا ہے" مذکورہ مضمون کا عنوان تھا۔ اس کا خلاصہ مصر تھا کہ بنگالیوں کی اکثریت پاکستان سے الگ ہونا نہیں چاہتی۔ اس سے قبل ان کی ادارت میں شائع ہوئے جرائد مسلسل مضامین کے ذریعے خبردار کرتے رہے تھے کہ مشرقی پاکستان میں آباد ہندوئوں نے نہایت مکاری سے وہاں کے تدریسی نظام پر قبضہ جمالیا ہے۔ پرائمری سکولز کے اساتذہ کی اکثریت ہندواستادوں پر مشتمل ہے۔ وہ معصوم بچوں کو اسلام کی چھتری سے نکال کر "بنگالی قومیت" کو طویل المدت سازشی منصوبے کے تحت بڑھاوا دے رہے ہیں۔

مجھے یقین تھا کہ کئی برسوں سے میری مستقل ملامت اور طنز کا نشانہ رہے الطاف حسن قریشی صاحب مجھ سے ہاتھ بھی ملانا نہیں چاہیں گے۔ میرا نمبر لیکن انہوں نے کہیں سے ڈھونڈ کر ازخود رابطہ کیا۔ مجھ سے گفتگو ہوئی تو نہایت فکر مندی سے میرے ان دنوں لکھے کالموں میں ہوئی اس فریاد سے اتفاق کیا کہ عمران حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیجنے سے گریز ہی میں عافیت ہے۔ میری سوچ کو سراہتے اور اس سے اتفاق کے اظہار کے بعد انہوں نے نہایت تاسف سے یاد دلایا کہ 1960ء کی دہائی سے وہ پاکستانی سیاست کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ "یہاں سیاست نہیں سازشیں ہوتی ہیں اور وہ پاکستان کو مستحکم اور خوش حال ہونے نہیں دیتیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ آپ کی رائے عمران حکومت کو سازش سے گرانے کی سوچ رکھنے والے سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔ آپ مگر ہمت نہ ہاریں جو درست سمجھتے ہیں تواتر سے دہراتے رہیں"۔

مجھ سے رابطہ کرنے میں پہل اور شفقت بھری گفتگو نے مجھے شرمسار کردیا۔ صحافت کا دھندا اختیار کرنے کے پہلے دن سے ان کا نام لے کر تمسخر کا نشانہ بناتا رہا تھا۔ وہ مگر 2022ء میں لگائی ایک سیاسی گیم پر لکھے میرے خیالات کی تائید کرتے ہوئے مجھے ڈٹے رہنے کا حوصلہ فراہم کررہے تھے۔ ان کی تھپکی نے حوصلہ بخشا۔ ساتھ ہی یہ احساس بھی دلایا کہ "ظرف" نام کی شے درحقیقت کیا ہے۔ مذکورہ فون کے بعد الطاف صاحب نے تین سے چار مرتبہ ازخود فون کرکے میرا ایڈریس لیا اور اپنی لکھی کتابیں میرے مطالعے کو بھجوائیں۔ ایک بار یہ کالم لکھنے میں خرابی صحت کی بنا پر ایک ہفتے کا وقفہ لیا تھا۔ تین دن کالم نہ چھپا تو فون کرکے میری اخبار سے عدم موجودگی کی وجوہات جانیں۔ ان کی اپنی طبیعت بھی ان دنوں بہتر نہیں تھی۔ "ہمارا وقت مگر اب ختم ہوا" کہنے کے بعد انہوں نے حکم دیا کہ مجھے اپنی صحت پر توجہ دیتے ہوئے خود کو مزید لکھنے کے قابل بنائے رکھنا چاہیے۔

ٹھوس ذاتی تجربے کے حوالے سے لہٰذا یہ لکھنے کو مجبور ہوں کہ الطاف حسن قریشی کی رحلت فقط ایک قدآور اور تخلیقی صحافی کی موت نہیں ہے۔ ایک دور کی رخصت کے علاوہ یہ ان اقدار کے معدوم ہوجانے کا اعلان بھی ہے جہاں شدید ترین نظریاتی اختلافات کے باوجود آپ بنیادی انسانی رشتوں کا احترام کرتے ہیں۔ ہر حوالے سے کامیاب ترین رہے الطاف حسن قریشی کو اپنے سے کہیں جونیئر اور کئی اعتبار سے ناکام اور بے اثر نصرت جاوید کا فون ڈھونڈ کر اس سے رابطے کی ہرگز ضرورت نہیں تھی۔ انہیں مجھ سے کوئی کام بھی نہیں تھا (ہوتا بھی تو اس میں مددگار ثابت نہ ہوسکتا)۔ رابطہ انہوں نے محض اس لئے کیا کہ میری تحریروں میں شاید انہیں ایک صحافی کے لئے لازم تجسس کی جھلک نظر آئی ہوگی۔ بزرگانہ تھپکی سے مجھے اس راہ پر ٹکے رہنے کا حوصلہ فراہم کیا۔

یہ لکھا تو جان کی امان پاتے ہوئے ذاتی تجربات کی بدولت اصرار کرنا چاہوں گا کہ ہمارے ہاں کے نام نہاد "روشن خیال اور ترقی پسند" مشہور ہوئے صحافیوں سے ایسی "شاباش" شاذہی میسر ہوئی۔ فیض احمد فیض کے علاوہ منّو بھائی اور آئی اے رحمان صاحب ہی نوجوان صحافیوں سے ازخود رابطے کے بعد انہیں حوصلہ اور تسلی فراہم کیا کرتے تھے۔ ان کے سوا "روشن خیال اور ترقی پسند" دانشوروں کی اکثریت آپ کی تحریروں میں اکثر "بکری" ہوجانے کی مثالیں ڈھونڈتی ہے۔ آپ کو "نظریاتی اعتبار" سے ناقص شمار کرنے کے "ثبوت" نشان زد کئے جاتے ہیں۔ ان کے برعکس "دائیں بازو" سے منسلک رہے الطاف حسن صاحب جیسے کئی افراد نے مشکل کے بے تحاشہ لمحات میں ازخود رابطے کئے اور ربّ کریم سے دُعا کی کہ وہ مجھے اپنی سوچ پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

میری سخت تنقید اور پھکڑپن کا کثرت سے نشانہ رہنے کے باوجود الطاف حسن قریشی صاحب نے اپنی وفات کے چند برس قبل سے میرے ساتھ جو رابطہ استوار رکھا اس کی حوصلہ بخش شفقت میرے لئے مرتے دم تک بھلانا ناممکن ہے۔ دُکھ یہ بھی ہے کہ ہم ایسے بزرگوں سے مسلسل محروم ہورہے ہیں اور ان کی جگہ لینے والے آفتوں کے اس دور میں دور دور تک نظر نہیں آرہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Sindh Tas Ki Tazvirati Jang

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi