Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Najeeb ur Rehman
  4. Dhamki Ki Nafsiyat

Dhamki Ki Nafsiyat

دھمکی کی نفسیات

سن بیس سو بارہ میں شہباز شریف نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہم نے الیکشن کے بعد زرداری کو لاڑکانہ، کراچی، پشاور اور لاہور کی سڑکوں پر نہ گھسیٹا تو میرا نام شہباز شریف نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو آئے روز دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر جلد امن معاہدہ نہ ہوا تو یہ ایران کے لیے بہت برا وقت ہوگا۔

اور اِدھر گزشتہ روز پاکستان فوج کے ترجمان ادارے "آئی ایس پی آر" نے بھارتی آرمی چیف کی جانب سے پاکستان کو عالمی جغرافیے سے ہٹانے کی دھمکی کے ردعمل میں کہا ہے کہ ایک خود مختار جوہری ہمسایہ ملک کو جغرافیے سے مٹانے کی دھمکی دینا ذہنی صلاحیتوں کے دیوالیہ پن اور جنگی جنون کا اظہار ہے۔

ایسے دھمکی آمیز بیانات آج کی دنیا کی اُس نفسیاتی سیاست کا حصہ ہیں جس میں جنگیں محض سرحدوں پر نہیں بلکہ ذہنوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ اب گولیاں چلانے سے پہلے الفاظ چلائے جاتے ہیں، میزائل داغنے سے پہلے خوف پھیلایا جاتا ہے۔

دھمکی آخر ہوتی کیا ہے؟ دھمکی اور وارننگ میں کیا فرق ہے؟ بظاہر تو دھمکی صرف سخت الفاظ کا مجموعہ لگتی ہے۔ مگر نفسیات اسے انسانی خوف، غصے، عدمِ تحفظ اور طاقت کے اظہار سے جوڑتی ہے۔ دھمکی دراصل وہ کوشش ہوتی ہے جس کے ذریعے کسی فرد، گروہ، جتھے، قوم یا ریاست کو ذہنی دباؤ میں لا کر مرعوب کیا جائے۔ اس کا بنیادی مقصد خوف کی فضاء پیدا کرنا ہوتا ہے۔

وارننگ میں احتیاط اور دفاع کا عنصر ہوتا ہے جبکہ دھمکی میں خوف اور جبر شامل ہوتا ہے۔ اگر کوئی ریاست یہ کہے کہ "سرحد پار کی گئی تو جواب دیا جائے گا" تو یہ دفاعی وارننگ ہو سکتی ہے لیکن اگر زبان میں مخالف کو مٹانے، تباہ کرنے، سڑکوں پر گھسیٹنے یا خوفزدہ کرنے کی خواہش نمایاں ہو تو پھر وہ دھمکی بن جاتی ہے۔

دنیا کی سیاست میں دھمکی محض طاقت کی علامت ہی نہیں بلکہ کئی بار یہ اندرونی خوف کا شور ہوتی ہے۔ بابائے نفسیات سگمنڈ فرائیڈ کا کہنا ہے کہ انسان جب اپنے اندر کسی بے بسی یا خوف کو محسوس کرتا ہے تو وہ جارحیت کا سہارا لیتا ہے۔ یہی اصول قوموں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

امریکا جب مسلسل جنگی زبان استعمال کرتا ہے تو اس کے پیچھے داخلی دباؤ، عالمی تنہائی، شرمندگی کا خوف، معاشی خوف یا سیاسی بے یقینی کا موجود ہونا زیادہ قرین قیاس ہے۔ فرائیڈ کہتا ہے کہ انسان اپنے خوف کو چھپانے کے لیے طاقت کا نقاب اوڑھ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات سب سے زیادہ دھمکیاں دینے والے اندر سے سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوتے ہیں۔

کارل ژونگ نے انسان کے اندر چھپی کمزوریوں پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ شخص یا قوم جب اپنی اندرونی الجھنوں سے خوفزدہ ہو تو وہ دوسروں پر غصہ نکالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی ملک کو داخلی بحران، سیاسی تقسیم یا عالمی دباؤ کا سامنا ہو تو بیرونی دشمن کا بیانیہ زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے دشمن کا خوف پیدا کیا جاتا ہے۔ تاریخ میں بے شمار حکومتوں نے یہ حربہ استعمال کیا۔ پاکستان اور بھارت کے سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ یہی حربہ استعمال کرتے ہیں۔ جب معیشت کمزور ہو، عوام بے چین ہوں یا سیاسی مقبولیت کم ہو رہی ہو، اداروں کی ساکھ گر رہی ہو تو سخت بیانات اچانک بڑھ جاتے ہیں۔

معروف ماہرِ نفسیات الفریڈ ایڈلر، احساسِ کمتری کو انسانی رویوں کی بنیاد قرار دیتے تھے۔ ان کے مطابق جو فرد یا قوم خود کو کمزور محسوس کرے، وہ اپنی طاقت ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو دبانے کی کوشش کرتی ہے۔ عالمی سیاست میں بھی یہی نفسیات دیکھی جا سکتی ہے۔ بڑی طاقتیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ زبان سے بھی اپنا رعب قائم رکھنا چاہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دھمکی کئی بار سفارتی ہتھیار بن جاتی ہے۔ اس کا مقصد جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ مخالف کے ذہن میں خوف بٹھانا ہوتا ہے۔

بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں بھی نفسیاتی جنگ کوئی نئی بات نہیں۔ برصغیر کی تاریخ خوف، طاقت، قومی بیانیوں اور جنگی یادداشتوں سے بھری پڑی ہے۔ لیکن انمٹ حقیقت یہ ہے کہ ہر بلند آواز طاقتور نہیں ہوتی۔ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔ بعض اوقات خاموش اور پُراعتماد لہجہ زیادہ اثر رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی دھمکی کا جواب جذباتی نعرے بازی کے بجائے سنجیدہ الفاظ میں دیا گیا۔ ذہنی صلاحیتوں کا دیوالیہ پن اور جنگی جنون جیسے الفاظ دراصل اس سوچ کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایٹمی خطے میں جنگی جنون انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ خاموشی یا تحمل مزاجی کو کمزوری نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ کھڑا پانی زیادہ گہرا ہوتا ہے۔

بغور دیکھا جائے تو سیاست میں دھمکی صرف دشمن کے لیے نہیں ہوتی بلکہ اپنے عوام کے لیے بھی ہوتی ہے۔ ایک تیر سے دو شکار کیے جاتے ہیں۔ سخت بیانات دینے والے رہنما اپنے حامیوں کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ طاقتور، بے خوف اور فیصلہ کن ہیں۔ سیاسی نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ قوم پرستی اور خوف ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ جب عوام کو خطرہ محسوس ہو تو وہ سخت زبان استعمال کرنے والے رہنماؤں کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں انتخابی سیاست میں جنگی جملے اور جارحانہ بیانات اکثر مقبولیت بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

لیکن مہذب معاشروں کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ کتنی زور سے دھمکی دیتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنے توازن سے جواب دیتے ہیں اور اسکی مثال پاکستان کا بھارتی دھمکی کا جواب ہے۔

نفسیات یہ کہتی ہے کہ جو شخص یا قوم اپنے اعصاب پر قابو رکھے، وہی اصل طاقتور ہوتی ہے۔ چیخنا ہمیشہ بہادری نہیں ہوتا، کئی بار خوف کی بلند آواز بھی ہوتا ہے۔ جبکہ تحمل، وقار اور اعتماد خاموش طاقت کی علامت ہوتے ہیں۔ آج کی دنیا کو شاید سب سے زیادہ اسی شعور کی ضرورت ہے۔۔

ایٹمی ہتھیاروں کے دور میں دھمکیوں کی سیاست صرف سرحدوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے خطرناک بن چکی ہے۔ عالمی رہنماؤں کو سمجھنا ہوگا کہ جنگی جنون وقتی تالیاں، عارضی بلے بلے تو حاصل کی جا سکتی ہے لیہن پائیدار امن نہیں۔ طاقت کا اصل امتحان دشمن کو خوفزدہ کرنے میں نہیں بلکہ بحران کے وقت عقل، تحمل اور ذہنی پختگی دکھانے میں ہوتا ہے۔ بقول عبد الحمید عدم:

طبیعت آدمی کی اس کی اصل ذات ہوتی ہے
اسی سے جیت ہوتی ہے اسی سے مات ہوتی ہے

ہے وابستہ مرا آرام میری بے قراری سے
جہاں گرمی زیادہ ہو وہاں برسات ہوتی ہے

Check Also

Khwab Liye Phirta Hoon

By Rao Manzar Hayat