Thursday, 11 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aamir Mehmood
  4. Hum Jo Tareek Rahon Mein Maare Gaye

Hum Jo Tareek Rahon Mein Maare Gaye

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

لاکھوں کروڑوں درود و سلام آپ سرکار ﷺ کی ذاتِ اقدس پر۔

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے اور وحی کے ذریعے نبی آخر الزماں سرکار ﷺ پر نازل ہوا ہے۔ قرآنِ کریم کی تعظیم و تقلید ہر مسلمان پر فرض ہے۔ جتنا محترم اور پاک یہ کلام ہے اتنی ہی محترم اور پاک یہ کائنات بھی ہے جو کہ اللہ تبارک و تعالی نے میرے اور آپ کے لیے سجائی ہے۔

ایک ظاہری کائنات ہے اور ایک باطنی کائنات ہے جو ہر انسان کے اندر ہے، حضرتِ انسان بھی اتنا ہی محترم و معتبر ٹھہرا جتنا کہ کلام پاک یا اللہ تبارک و تعالی کی بنائی ہوئی کائنات ہے۔

تاریخ میں کئی ایک حیرت انگیز واقعات ایسے ہوئے ہیں کہ، جن انسانوں نے اِس کائنات اور اس کے مظاہر سے محبت کی ہے اُن کو ایک نئی طرح کا مشاہدہ اور ظہور عطا ہوا ہے۔ یہ چرند پرند یہ پہاڑ یہ درخت یہ سب اللہ تعالی کی ثنا کر رہے ہیں۔ حضرت واصف علی واصفؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ مرنے سے پہلے اتنا تو کرکے جاؤ کہ یہ ثنا سنتے جاؤ۔ تو عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اِس کائنات سے محبت بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہونی چاہیے۔ جن لوگوں نے کائنات کے مظاہر سے محبت کی ہے قدرت نے اُن کا نام تاریخ میں امر رکھا ہے۔

یہ بات سال 1730 کی ہے کہ جودھ پور کے راجہ ابہے سنگ نے یہ حکم صادر فرمایا کہ ایک محل تعمیر کیا جائے جو کہ مضبوطی اور خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہو اور اِس کے لیے جھنڈ (سمی) کی لکڑی کا استعمال کیا جائے۔ سپاہیوں کو حکم ہوا اور وہ اِس لکڑی کی تلاش میں ارد گرد کے سرسبز علاقوں میں نکل پڑے۔ یہ خاص قسم کی لکڑی ڈھونڈتے ہوئے راجہ کی فوج کھجرلی گاؤں پہنچی جہاں سر سبز درختوں کی بہتات تھی، اِس گاؤں کے باسیوں کا یہ ایمان اور عقیدہ تھا کہ کسی بھی درخت پودے یا جانور کو نقصان نہیں پہنچانا، شاید اِسی لیے یہ علاقہ اتنا سرسبز تھا، جب سپاہی درختوں کو کاٹنے لگے تو گاؤں کی ایک خاتون امریتا دیوی اُن کے سامنے کھڑی ہوئی اور انہیں بتایا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ ہم درخت نہیں کاٹتے۔ لیکن سپاہی حکمِ شاہی کے پابند تھے انہوں نے کہا تمہارے عقیدے کی کیا حیثیت ہے شاہی احکامات کے آگے۔

امریتا دیوی بولی کہ اگر درخت کاٹنے ہیں تو سب سے پہلے مجھے کاٹنا ہوگا اور وہ درخت کے ساتھ لپٹ گئی۔ سپاہیوں نے بے رحمی سے وار کرکے امریتا دیوی کو قتل کیا، امریتا دیوی کے خون بہنے کی دیر تھی کے، کہ اُس کی تین بیٹیاں اُن کے نام تاریخ میں بھاگو، آنسو اور رتنی ملتے ہیں وہ بھی آ گئیں اور وہ بھی درختوں کے ساتھ لپٹ گئیں، سپاہیوں نے اُن کو بھی شہید کیا، یہ قتل عام اور شہادتوں کی خبر جب ارد گرد اور گاؤں کے لوگوں تک پہنچی تو وہ بھی جوک در جوک درختوں کے ساتھ لپٹنے لگے اور قتل ہوتے رہے، وہ درختوں کے ساتھ لپٹتے جاتے ہیں اور یہ جملہ پڑھتے جاتے، (سمی میری وار میں واری) یعنی اے سمی کے درخت میں قربان اب میری باری ہے قربان ہونے کی۔

قتل عام جاری رہا جو کہ راجہ کی مداخلت سے رک تو گیا لیکن 363 لوگوں نے شہادت قبول کی لیکن اپنے عقیدے یا ایمان پر آنچ نہیں آنے دی۔ شاید اسی لیے قدرت نے اُن کا وہ جملہ (سمی میری وار میں واری) تاریخ میں امر کر دیا جو کہ آج بھی پنجاب اور راجستان کا لوگ گیت ہے اور اکثر بیاہ شادیوں میں گایا جاتا ہے۔

اگر آپ غور کریں اور اللہ تبارک و تعالی آپ کو وہ مقام عطا کریں تو یہ جملہ صرف ایک جملہ نہیں ہے یہ روحانیت کا وظیفہ ہے۔ قدرت نے اُس نسبت کو اُس محبت کو اُس تعلق کو امر کر دیا ہے جو امریتا دیوی اور اُس کے ساتھیوں نے مظاہرِ قدرت کے ساتھ نبھائی۔ اِس سانحے کا بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جذبہ محبت اللہ تبارک و تعالی کی کسی بھی تحلیق سے ہو قدرت اُس کو امر کرسکتی، ذریعہ فیض بنا سکتی ہے، اِس کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کا نام تاریخ میں زندہ رہتا ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالی کی ہر تخلیق معتبر و معظم ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ کتنی سچائی اور نسبت سے منسلک ہوتے ہیں۔ شاید اسی لیے آج تقریباََ 300 سال گزرنے کے بعد بھی ہم امریتا دیوی اور اُن کے ساتھیوں کی شہادت کا ذکر کر رہے ہیں۔

اللہ پاک آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

Check Also

8 Bajay Tak

By Javed Chaudhry