Awami Action Committee, Hartal Aur Mumkina Hal
عوامی ایکشن کمیٹی، ہڑتال اور ممکنہ حل

جب مسائل مکالمے سے حل ہونے لگیں تو معاشرے آگے بڑھتے ہیں اور جب ضد، انا اور اشتعال گفتگو کی جگہ لے لیں تو پھر مسائل کے حل کے بجائے فاصلے بڑھنے اور نفرتیں پھیلنے لگتی ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر میں ابھرنے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بنیادی طور پر عوام کے معاشی مسائل کی کوکھ سے جنم لینے والی ایک تحریک تھی۔ بجلی کے بھاری بل، آٹے پر سبسڈی کا خاتمہ اور عام آدمی کی روزمرہ زندگی سے جڑے ہوئے مسائل اس تحریک کے محرکات تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اس تحریک کو عوامی پذیرائی بھی ملی اور وقت گزرنے کے ساتھ وہ سیاسی قوتیں بھی اس کے ساتھ کھڑی ہوتی چلی گئیں جو پہلے ہی حکومت یا ریاستی پالیسیوں سے نالاں تھیں۔ یہ ہونا ایک فطری عمل تھا کیونکہ سیاست خلا میں نہیں چلتی اور عوامی جذبات ہمیشہ سیاسی خلا کو جنم دیتے ہیں جس کو بھرنے یا جس سے فائدہ اٹھانے کو مخالف سیاسی قوت بیچ میں آ جاتی ہے۔
تحریک نے کئی مطالبات پیش کیے۔ ان میں سے اکثر مطالبات تسلیم بھی کر لیے گئے (ان پر عمل ہوا یا نہیں یہ الگ موضوع ہے)۔ بظاہر یہ ایک بڑی کامیابی تھی جسے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنی قابلِ ذکر پیش رفت قرار دے سکتی تھی لیکن بعض اوقات ایک غیر حل شدہ نکتہ پورے معاملے کو تنازعے میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ اختلاف کا مرکز مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص بارہ اسمبلی نشستیں بن گئیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں اپنی افادیت کھو چکی ہیں اور ان پر منتخب ہونے والے افراد آزاد کشمیر کے مقامی عوام کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ان کا خیال ہے کہ ان نشستوں کے ذریعے ایسے افراد اسمبلی میں پہنچتے ہیں جو پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں اور جن کا آزاد کشمیر کے روزمرہ مسائل سے براہِ راست تعلق نہیں۔ میرے آبائی شہر سیالکوٹ میں بھی ایک نشست موجود ہے۔ اسی طرح دیگر شہروں میں ہے۔
دوسری جانب ریاستی اور حکومتی مؤقف یہ ہے کہ یہ نشستیں آئینی ڈھانچے کا حصہ ہیں اور اگر ان کا خاتمہ مطلوب ہے تو یہ اختیار آزاد جموں و کشمیر کی منتخب اسمبلی کے پاس موجود ہے۔ آئینی طور پر دو تہائی اکثریت سے اسمبلی اپنے آئین میں ترمیم کر سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ اختیار نہ وفاق کے پاس ہے اور نہ ہی کسی انتظامی حکم کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ کشمیر اسمبلی چاہے تو ختم کر دے۔ یاد رہے کہ کشمیر میں 27 جولائی کو انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مطالبہ تھا اس سے پہلے ان نشستوں کو ختم کر دیا جائے۔ چونکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سیاست میں حصہ نہیں لیتی اس لیے ان کے کوئی امیدوار نہیں تھے۔ البتہ ان کا سارا زور اسی پر رہا کہ مہاجرین کی بارہ نشستیں فوری ختم کی جائیں۔ جبکہ اصولاً و قانوناً آزاد جموں کشمیر کی منتخب اسمبلی دو تہائی اکثریت سے اپنا آئینی ڈھانچہ بدل سکتی ہے۔ یہ مطالبہ اپنی اسمبلی اور اسمبلی ممبران یا مقامی سیاستدانوں یا سیاسی جماعتوں کے مقامی نمائندوں سے کرنے والا تھا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی مطالبے کی منظوری کا اختیار ایک اسمبلی یا آئینی ادارے کے پاس ہے تو پھر دباؤ بھی اسی ادارے پر ہونا چاہیے۔ اگر کسی دروازے کے پیچھے مطلوبہ شے رکھی ہو تو دستک بھی اسی دروازے پر دی جاتی ہے، ہمسائے کے دروازے پر نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اس سارے تنازعے کے مرکز میں موجود دکھائی دیتا ہے۔ بدقسمتی سے معاملات یہاں سے آگے بڑھنے کے بجائے ڈیڈلاک کا شکار ہو گئے۔ ہڑتالوں کے اعلانات ہوئے، سخت بیانات سامنے آئے، دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار کیا گیا اور جواب میں ریاست نے بھی سخت ردعمل دکھایا۔ نتیجتاً وہ فضا پیدا ہونے لگی جو کسی بھی معاشرے کے لیے خوش آئند نہیں ہوتی۔ جب الفاظ میں تلخی بڑھنے لگے تو پھر سڑکوں پر بھی کشیدگی جنم لینے لگتی ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے نو جون کو ہڑتال کی کال دے دی۔ بعد ازاں اپنی ٹویٹس میں لب و لہجہ دھمکی آمیز بھی اپنا لیا۔ مثلاً اگر موبائل سروسز بند کی گئیں تو قافلے جہاں سے گزریں گے وہ موبائل ٹاورز کو گراتے جائیں گے۔ علاوہ ازیں ان کی جانب سے سخت لہجہ دھمکیوں کی صورت سامنے آنے لگا۔ وفاق نے گذشتہ رات صدر آزاد کشمیر کی درخواست پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ کشمیر میں چودہ ہزار کے قریب کانسٹیبلری، پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کو طلب کر لیا گیا ہے۔ جواباً عوامی ایکشن کمیٹی نے بھی جذباتی بیانات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس صورتحال میں دونوں جانب سے اشتعال پھیل رہا ہے۔
تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ طاقت وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے لیکن مستقل اتفاق رائے نہیں۔ لاٹھی اختلاف کو ختم نہیں کرتی بلکہ اکثر اوقات اسے مزید گہرا کر دیتی ہے۔ اسی طرح اشتعال انگیز بیانات بھی کسی تحریک کی اخلاقی برتری کو کمزور کرتے ہیں۔ جذبات وقتی طور پر ہجوم کو متحرک کر سکتے ہیں لیکن پائیدار کامیابیاں ہمیشہ حکمت، صبر اور سیاسی بصیرت کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں۔
اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی واقعی مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کو اپنی جدوجہد کا بنیادی ہدف سمجھتی ہے تو اس کے لیے آئینی اور جمہوری راستہ بھی موجود ہے۔ جولائی میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ کمیٹی اگر خود انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہتی تو مختلف حلقوں میں ایسے امیدواروں کی حمایت کر سکتی ہے جو اس مؤقف سے اتفاق رکھتے ہوں۔ عوامی دباؤ کے ذریعے اسمبلی میں ایسی اکثریت پیدا کی جا سکتی ہے جو آئینی ترمیم کا راستہ ہموار کرے۔ یا بصورتِ دیگر اپنی سیاسی جماعت نئے نام سے قائم کریں۔ اگلے انتخابات میں حصہ لیں اور دو تہائی اکثریت لے سکے تو پھر جو چاہیں کر لیں۔ اس راستے کے سوا کوئی راہ نہیں ہے۔ سینگ پھنسانا، اکسانا، اشتعال دلانا نقصان دہ ہوتا ہے۔ یہی گزارش وفاق سے ہے۔ فورس کا استعمال ترک کرکے پھر سے گفتگو میں انگیج کریں اور پھر سے سمجھانے کی کوشش کریں۔ باقی سب راستے وقتی شور تو پیدا کر سکتے ہیں، مستقل حل نہیں۔

