Muash e Nabvi (2)
معاش نبوی ﷺ (2)

مدنی زندگی میں آپ کے پاس ایک سو بکریاں تھیں اور حافظ ابن القیم نے دلچسپ بات لکھی ہے کہ آپؑ بکریوں کی گنتی ایک سو تک پوری رکھتے، اگر کوئی بکری بچہ جنتی تو اس کی جگہ دوسری ذبح فرما دیتے۔
احادیث، سیرت اور تاریخ کی کتب سے شواہد ملتے ہیں کہ مدنی زندگی کی ابتدا ہی سے آپ نے دودھ دینے والی اونٹنیوں کو پالنا شروع کر دیا تھا، انہیں کئی مقامات پر باڑوں میں رکھا جاتا، ان کی دیکھ بھال کے لیے باقاعدہ چرواہے رکھے جاتے (اگرچہ وہ مختصر وقت کے لیے ہوتے) اور ان اونٹنیوں کے چارے کے لیے چراگاہیں مخصوص تھیں، آپ نے ہر اہلیہ کو اونٹنی عطا کر رکھی تھی، ہر سال عید الاضحی کے موقع پر اپنی اور ازواج کی طرف سے قربانی کیا کرتے، چاروں عمروں اور اکلوتے حج میں بھی قربانی کی، بعض مواقع ایک سے زائد جانور ذبح کیا، ایک مرتبہ ذوالجدر نامی چراگاہ میں آپ کی پندرہ اونٹنیاں چر پھر رہی تھیں، غارت گر آئے اور بھگا لے گئے، صحابہ کرام نے بروقت تعاقب کرکے سب کو آزاد کروا لیا، اس نوع کے ایک دو واقعات اور بھی ہوئے۔
آپ کی ملکیت میں ایک یا دو خچر تھے، کئی گھوڑے بھی تھے جن کی نگرانی سعد بن مالک ساعدیؓ کیا کرتے، کئی غلام اور باندیاں تھیں، بسا اوقات کسی صاحب سے جانور خرید کر انہی کو ہدیہ کر دیتے یا کسی غلام باندی وغیرہ کو خرید کر آزاد کر دیتے، اس ضمن میں تفصیل طویل ہے۔
پیارے نبی ﷺ کی حیات مبارکہ میں پہننے اور اوڑھنے کے کچھ پارچہ جات رہے ہیں مثال کے طور پر بردہ (اون کی سیاہ چادر)، سرخ حلہ، نجرانی حلہ، ردا، شامی جبہ، رومی جبہ، ملحفہ (ورس سے رنگا ہوا لپیٹنے کا کپڑا)، موزے، چمڑے کے بڑے موزے، خمیصہ (پہننے کی چادر)، عبا، مختلف رنگوں کے عمامے، قطیفہ (چھور دار چادر)، قلنسوہ (ایک مخصوص ٹوپی)، قمیص اور قمیص کی بعض قسمیں وغیرہ۔ آپؑ کی مستورات کے پاس بھی مختلف ملبوسات تھے مثلاََ قمیص، درع (مستورات کی گھریلو قمیص)، اوڑھنی، دوپٹہ، چادر، ازار، ریشمی چادر، ریشمی حلہ اور جلباب وغیرہ۔
اسی طرح آپ کے مبارک گھر میں سریر (چارپائی)، لحاف، چمڑے کے بچھونے، کھجور کی پتیوں بھرے تکیے، حجرے کے سامنے لٹکانے کا کمبل، دسترخوان کی چٹائیاں، داڑھی تراشنے کی قینچی، پیالہ، لگن، طباق (ٹرے)، رکابی (پلیٹ)، دیگچی، ہانڈی، طشت (تھال)، مٹکا، مشکیزہ، بڑا پیالہ، قلم دوات اور کاغذ، رسی، خیمہ، چولہا، وزن کرنے کا باٹ، ماپنے کا برتن، چکی، کلہاڑی، کجاوہ، حودج، کرسی، چھری، چاقو، دھونکنی، استراء، خوش بو اور مستورات کے بعض زیورات و سامان سنگھار موجود تھا۔
اوپر ہم نے جتنا سامان لکھا ہے اس کی تفصیل کسی ایک حدیث یا ایک روایت میں نہیں آئی بلکہ مختلف احادیث، مختلف روایات، سیرت نگاروں کے بیانات، جنگوں کے احوال اور مورخین کی تصریحات سے ان اشیاء کی موجودگی ثابت ہوتی ہے۔ قلم دوات کاغذ ہی کو لیجئے، ہجرت کے سفر میں لکھنے کا یہ سامان ساتھ تھا، جب سراقہ تعاقب میں آیا اور قابو پانے میں ناکام رھا، پھر معافی مانگی تو آپؑ نے وہیں ایک امان نامہ لکھوا کر اس کے حوالے کیا جو بعد کو ان کے بڑے کام آیا۔
سوال یہ کہ یہ سب اسباب آیا کہاں سے! جواب یہ کہ کچھ آپ نے خرید فرمایا باقی ترکے، ہدیے، نذرانے اور مال غنیمت کے طور پہ ملا۔ آپؑ کے پاس کچھ جاگیر، قطعہ زمین، باغ اور بنے بنائے مکانات بھی تھے۔ ان سب کے بھی یہی ذرائع تھے، ازواج مطہرات کی خورد و نوش کے لیے اسی وسق (کھجوریں) اور بیس وسق (جو) سالانہ مقرر تھا، حجتہ الوداع کے موقع پر آپ نے ایک سو اونٹ ذبح کیے جن میں سے تریسٹھ مبارک ہاتھوں سے باقی دیگر اصحاب کے ذریعہ ذبح کروائے، یہ سب حضرت علیؓ کے ذریعہ یمن سے منگوائے تھے اور ان کی قیمت جیب سے ادا کی تھی، ایک سو اونٹوں کی قیمت آج کل کے اعتبار سے کئی کروڑ روپے بنتی ہے۔
یہاں تک ہم نے جتنی تفصیل کی ہے اس سے واضح ہوگیا کہ خوش حالی اور آسودگی نے بارہا حضرت ﷺ کے قدم چومے، اگرچہ وہ روایات بھی جن میں آپ کا فقر و فاقہ بیان ہوا ہے صحیح ہیں غلط نہیں ہیں۔
درحقیقت روٹی، کپڑا، مکان ہر شخص کی بنیادی ضروریات ہیں اور جو شخص نکاح کرتا ہے بیوی بچوں کی کفالت اسی کے ذمہ ہوتی ہے، خود حضرت ﷺ نے ایسے فقر و فاقہ سے (جو دین کو خراب کر دے) پناہ مانگی ہے تو ایسی حالت میں ضروری تھا آپؑ اپنے اور متعلقین کے لیے روزی کا انتظام کرتے تاکہ امت کے لیے مثال بن پاتے، غیر مسلموں کے نزدیک عملی انسان ثابت ہوتے، اللہ تعالی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے، لطف اندوز ہو کر شکر گزار بنتے اور ہمہ تن متوجہ ہو کر اپنا تبلیغی کام کر پاتے۔

