Thursday, 04 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Ullu Hamare Pas

Ullu Hamare Pas

اُلّو ہمارے آس پاس

شفیق الرحمن نے اپنی کتاب مزید حماقتیں میں اُلّو کا جو تعارف کرایا ہے، وہ دراصل پرندوں کی دنیا کا تعارف کم اور انسانوں کی دنیا کا تعارف زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ بظاہر گفتگو اُلّو کے بارے میں ہے لیکن نشانہ وہ لوگ ہیں جو اپنی خاموشی، سنجیدگی، بے تکی دانشوری اور خود ساختہ وقار کے سہارے معاشرے میں عقل و فہم کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ یہی بڑے ادیبوں اور مزاح نگاروں کا کمال ہوتا ہے کہ وہ جانوروں، پرندوں اور اشیا کے پردے میں انسان کی اصل تصویر دکھا دیتے ہیں۔ قاری ہنستا بھی ہے اور ساتھ ہی اپنے گرد و پیش میں موجود کئی چہروں کو پہچان بھی لیتا ہے۔

شفیق الرحمن نے لکھا کہ اُلّو بردبار اور دانش مند ہے لیکن پھر اُلّو ہے۔ اس ایک جملے میں ایسی لطیف چوٹ موجود ہے جو انسانی کردار کے کئی پردے چاک کر دیتی ہے۔ دنیا میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جنہیں اپنی دانش پر بڑا ناز ہوتا ہے، جو ہر مجلس میں اپنے آپ کو عقل کا آخری مینار سمجھتے ہیں، لیکن ان کی تمام دانش کے باوجود ان کی زندگی، ان کے فیصلے اور ان کا رویہ انہیں بار بار اُلّو ثابت کر دیتا ہے۔ علم اور عقل یقیناً عظیم نعمتیں ہیں مگر جب ان کے ساتھ فروتنی نہ ہو تو یہی نعمتیں انسان کے لیے فریب بن جاتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں خاموشی کو اکثر حکمت کا مترادف سمجھ لیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص کم بولتا ہو، چہرے پر سنجیدگی طاری رکھتا ہو اور مسکراہٹ سے پرہیز کرتا ہو تو لوگ فوراً اس کے گرد دانش کا ہالہ بنا دیتے ہیں۔ شفیق الرحمن نے اسی نفسیاتی کمزوری پر ہلکا سا طنزیہ وار کیا ہے کہ بہت سے لوگ محض اس لیے ذی فہم سمجھے جاتے ہیں کہ وہ کبھی مسکراتے نہیں۔ واقعی ہم نے کتنے ہی ایسے افراد دیکھے ہیں جو ہمیشہ تیوری چڑھائے رکھتے ہیں، جیسے دنیا کی تمام ذمہ داریاں انہی کے کندھوں پر ہوں۔ ان کے چہرے پر خوشی کا شائبہ تک نہیں ہوتا لیکن لوگ انہیں غیر معمولی سنجیدہ اور گہرا آدمی سمجھتے ہیں۔

اس کے برعکس جو شخص خوش مزاج ہو، دوسروں کے ساتھ ہنس کر بات کرے اور زندگی کو آسان انداز میں لے، اسے اکثر کم سنجیدہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔ حس مزاح دراصل ذہانت کی ایک علامت ہے۔ جو انسان خود پر ہنس سکتا ہے، اپنی غلطیوں کا اعتراف کر سکتا ہے اور دوسروں کے ساتھ مسکراہٹ بانٹ سکتا ہے، وہ اکثر ان لوگوں سے زیادہ متوازن اور سمجھ دار ہوتا ہے جو ہر وقت اپنی عظمت کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں۔

اُلّو دن بھر آرام کرتا ہے اور رات بھر ہُو ہُو کرتا ہے۔ شفیق الرحمن نے سوال اٹھایا کہ اس میں کیا مصلحت پوشیدہ ہے؟ یہ سوال بظاہر پرندے سے متعلق ہے لیکن اس کے اندر انسانی معاشرے کی ایک پوری داستان چھپی ہوئی ہے۔ ہماری زندگی میں بھی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خاموشی کے زمانے میں خاموش رہتے ہیں اور جب بولنے کا وقت آتا ہے تو ایسی آوازیں نکالتے ہیں جن سے نہ کسی مسئلے کا حل نکلتا ہے اور نہ کسی کو فائدہ پہنچتا ہے۔ بعض لوگ پورا سال کسی اجتماعی مسئلے میں شریک نہیں ہوتے لیکن جب حالات بگڑ جاتے ہیں تو سب سے زیادہ شور وہی مچاتے ہیں۔ کچھ افراد کام کم کرتے ہیں اور اپنی اہمیت کا اظہار زیادہ کرتے ہیں۔ ان کی ساری توانائی اس بات پر صرف ہوتی ہے کہ لوگ انہیں غیر معمولی سمجھیں۔ ایسے لوگ دفاتر میں بھی پائے جاتے ہیں، تنظیموں میں بھی اور ادبی حلقوں میں بھی۔ وہ اکثر اس یقین کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں کہ ان کے بغیر دنیا کا نظام رک جائے گا، حالانکہ ان کی غیر موجودگی میں بھی سورج حسب معمول طلوع ہوتا رہتا ہے اور زندگی کا قافلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

شفیق الرحمن کا ایک اور جملہ خاص طور پر توجہ کھینچتا ہے کہ اُلّو یہ انتظار نہیں کرتے کہ کوئی ان کا تعارف کرائے، دیکھتے ہی دیکھتے یوں بے تکلف ہو جاتے ہیں جیسے ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہوں۔ اگر غور کیا جائے تو یہ انسانی معاشرت کا بھی ایک دلچسپ منظر ہے۔ بعض لوگ جہاں بھی جائیں، چند لمحوں میں ماحول پر قابض ہو جاتے ہیں۔ انہیں تعارف، تکلف اور فاصلے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ فوراً اپنی رائے دینا شروع کر دیتے ہیں، دوسروں کی زندگی کے معاملات پر تبصرے کرنے لگتے ہیں اور اس طرح گھل مل جاتے ہیں جیسے صدیوں کا تعلق ہو۔ کبھی کبھی یہ بے تکلفی خوشگوار بھی ہوتی ہے اور کبھی حد سے بڑھ جائے تو ناگوار محسوس ہونے لگتی ہے۔ اصل دانش شاید اس میں ہے کہ انسان تعلقات میں قربت بھی پیدا کرے اور دوسروں کی حدود کا احترام بھی برقرار رکھے۔ بے تکلفی اگر شائستگی کے ساتھ ہو تو دلوں کو قریب کرتی ہے، لیکن اگر اس میں خود نمائی شامل ہو جائے تو وہ محض ایک شور بن کر رہ جاتی ہے۔

سب سے گہرا طنز شاید اس آخری جملے میں پوشیدہ ہے کہ اُلّو کی تلاش میں آپ کو زیادہ دور نہیں جانا پڑے گا، اُلّو تو آپ کے قیاس سے بھی کہیں قریب ہیں۔ مزاح نگاری کی خوبی یہی ہے کہ وہ قاری کو دوسروں پر ہنساتے ہنساتے اچانک اس کا سامنا خود اس کی ذات سے کرا دیتی ہے۔ ہم جب یہ جملہ پڑھتے ہیں تو فوراً اپنے جاننے والوں میں سے کسی نہ کسی کا چہرہ ذہن میں آ جاتا ہے، لیکن چند لمحوں بعد احساس ہوتا ہے کہ شاید اس فہرست میں ہمارا اپنا نام بھی شامل ہو سکتا ہے۔ زندگی میں ہم سب کبھی نہ کبھی اپنی دانائی کے زعم میں حماقتیں کرتے ہیں، کبھی اپنی سنجیدگی کے خول میں قید ہو جاتے ہیں، کبھی اپنی رائے کو حرف آخر سمجھنے لگتے ہیں اور کبھی دوسروں کو کم تر سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب ہمارے اندر کا اُلّو سر اٹھاتا ہے۔ انسان کی اصل عظمت اپنی کمزوریوں کو پہچاننے میں ہے، نہ کہ انہیں چھپانے میں۔

شفیق الرحمن کے مزاح کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ قہقہے کے شور میں بھی زندگی کی سچائیاں بیان کر جاتے ہیں۔ ان کا مزاح کسی کی تذلیل نہیں کرتا بلکہ انسان کو آئینہ دکھاتا ہے۔ اُلّو کے بارے میں چند مختصر جملے دراصل انسانی کردار کا ایک مکمل خاکہ بن جاتے ہیں۔ ہم جتنا زیادہ اس تحریر پر غور کرتے ہیں، اتنا ہی محسوس ہوتا ہے کہ دنیا صرف پرندوں سے آباد نہیں بلکہ ایسے انسانوں سے بھی بھری ہوئی ہے جو خاموشی کو حکمت، سنجیدگی کو دانش، شور کو اہمیت اور خود پسندی کو وقار سمجھ بیٹھے ہیں۔ شاید اسی لیے شفیق الرحمن کا یہ مزاح آج بھی تازہ محسوس ہوتا ہے۔ اُلّو واقعی ہمارے بہت قریب ہیں، اتنے قریب کہ کبھی کبھی آئینے میں نظر آنے والے چہرے میں بھی ان کی ہلکی سی جھلک دکھائی دینے لگتی ہے۔

Check Also

Coba Mayan

By Javed Chaudhry