Hum Sab Jaldi Mein Hain
ہم سب جلدی میں ہیں

ہائیکورٹ کے بعد سول کورٹ سے کیس نپٹا کر نکل رہا تھا کہ ایک شناسا سے ملاقات ہوئی جو ایک کیس کے سلسلے میں کورٹ آیا تھا۔ بہت پریشان حال لگ رہے تھے۔ حال احوال پوچھا تو مختصراً بات کرنے کے بعد کہنے لگے کہ مجھے اس مسئلے کے حل کیلئے مشورہ دو میں بہت جلدی میں ہوں۔
میں نے عرض کیا کہ ایسے راہ چلتے مشورے تھوڑی دئیے جاتے ہیں۔ آپ آفس تشریف لائیں۔ چائے پیتے ہیں اور بیٹھ کر پوری صورت حال سن کر مشورہ دے دوں گا اور کوئی فیس بھی چارج نہیں کروں گا کیونکہ ابا جی کے اچھے دوست تھے تو میری کیا مجال کہ انھیں فیس کا بولوں۔ انھوں نے کہا "اچھا ٹھیک ہے پھر کسی دن آؤں گا" اور یہ کہہ کر میرے گلے ملے، سر پر ہاتھ پھیرا اور چلے گئے۔
عجیب زمانہ آ گیا ہے۔ سڑک پر چلنے والا جلدی میں ہے، دفتر جانے والا جلدی میں ہے، طالب علم جلدی میں ہے، کاروباری شخص جلدی میں ہے، حتیٰ کہ گھر میں بیٹھا ہوا ویہلا انسان بھی جلدی میں نظر آتا ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس بے پناہ دوڑ دھوپ کے باوجود سکون، اطمینان اور خوشی مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔
ہم نے زندگی کو ایک ایسی دوڑ بنا دیا ہے جس کی منزل کسی کو معلوم نہیں۔ ہم زیادہ کمانا چاہتے ہیں تاکہ بہتر زندگی گزار سکیں مگر بہتر زندگی کی تلاش میں زندگی ہی گزارنا بھول گئے ہیں۔ والدین اولاد کے لیے محنت کر رہے ہیں مگر اولاد کو وقت نہیں دے پا رہے۔ بچے جدید تعلیم حاصل کر رہے ہیں مگر آداب، برداشت اور انسانیت کے اسباق سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا نے ہمیں ایک دوسرے سے جوڑا بھی ہے اور جدا بھی کر دیا ہے۔ ہم سینکڑوں لوگوں کی تصویریں دیکھ لیتے ہیں مگر اپنے گھر کے کسی فرد کی آنکھوں میں جھانک کر اس کا دکھ نہیں پڑھ پاتے۔ ہم دوسروں کی کامیابیوں پر نظر رکھتے ہیں مگر اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنا بھول جاتے ہیں۔
معاشرے کے بیشتر مسائل کی جڑ شاید یہی بے سکونی ہے۔ انسان جب اندر سے مطمئن نہ ہو تو وہ حسد، نفرت، غصے اور بے رحمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ پھر رشتے کمزور پڑتے ہیں، خاندان بکھرتے ہیں اور معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم زندگی کی رفتار کو تھوڑا سا کم کریں۔ اپنے والدین کے ساتھ چند لمحے گزاریں، بچوں کی بات سنیں، دوستوں کا حال پوچھیں اور اپنے رب کا شکر ادا کریں۔ کامیابی صرف آگے بڑھنے کا نام نہیں بلکہ اپنے ساتھ چلنے والوں کو ساتھ لے کر چلنے کا نام بھی ہے۔
یاد رکھیے، انسان کو ہمیشہ وقت کی کمی نہیں مارتی بلکہ کبھی کبھی احساس کی کمی بھی اسے اندر سے خالی کر دیتی ہے۔

