Thursday, 11 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kasb e Kamal Kun: Waddi Maa

Kasb e Kamal Kun: Waddi Maa

کسبِ کمال کُن: "وڈی ما"

كسب كمال كُن كہ عزيزِ جہان شوے
كس بے كمال ہيچ نيرزد، عزيزِ من!

دیہات کی زندگی میں کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جو صرف انسان نہیں ہوتیں بلکہ پورے گھر، پورے خاندان اور کبھی کبھی پورے ماحول کی روح بن جاتی ہیں۔ ان کی موجودگی سے گھر میں ایک عجیب سا اطمینان رہتا ہے، جیسے کسی درخت کی گھنی چھاؤں میں بیٹھے ہوں۔ میری زندگی میں ایسی ہی ایک عظیم ہستی "وڈی ما" تھیں۔ ان کا اصل نام "سیس بانو" تھا لیکن ہمارے لیے وہ صرف "وڈی ما" تھیں۔ "ما" کے بعد اگر کسی وجود نے ہمیں سب سے زیادہ محبت، تحفظ، شفقت اور اپنائیت دی تو وہ انہی کی ذات تھی۔ ان کی آواز بلند تھی، گفتگو میں دبدبہ تھا اور گھر کے کسی فرد کو ان کے سامنے اونچی آواز میں بولنے کی جرات نہ ہوتی تھی، لیکن یہی سخت لہجہ جب ہم بچوں کے لیے نرم پڑتا تو یوں محسوس ہوتا جیسے پتھروں کے بیچ سے کوئی میٹھا چشمہ پھوٹ پڑا ہو۔ وہ ہمیں بے پناہ چاہتیں، ہر وقت ہمارا خیال رکھتیں اور ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو اپنی خوشی سمجھتی تھیں۔ میری "ما" کے ساتھ ان کا تعلق بھی بڑا خوبصورت تھا۔ دونوں دیر تک اکٹھی بیٹھتیں، باتیں کرتیں، دکھ سکھ بانٹتیں اور اگر گھر میں کوئی پریشانی آ جاتی تو "وڈی ما" بڑے حوصلے اور دانائی سے تسلی دیتیں۔ ان کے وجود میں ایک عجب اعتماد تھا، جیسے وہ ہر مشکل کا سامنا کرنا جانتی ہوں۔

"وڈی ما" محنت کی جیتی جاگتی تصویر تھیں۔ آج کی نسل شاید تصور بھی نہ کر سکے کہ اُس دور کی دیہاتی عورتیں کس قدر مشقت کرتی تھیں۔ وہ کھیتی باڑی کرتیں، جانور پالتیں، گائے، بیل اور بکریاں ان کے گھر کا حصہ تھے۔ مگر دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ بھیڑیں نہیں رکھتی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ بھیڑ زیادہ ستھرا جانور نہیں، اس کی ناک بہتی رہتی ہے اور وہ ان کی طہارت پسند طبیعت کے خلاف ہے۔ شاید اسی لیے ان کے دل اور گھر دونوں میں بھیڑوں کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ مرغیاں بھی پالتیں، ان کے انڈے بڑی احتیاط سے سنبھال کر رکھتیں، کچھ گھر میں استعمال کر لیتیں اور کچھ بیچ دیتیں تاکہ چند پیسے ہاتھ آ جائیں۔ مرغیوں کے بچے نکلواتیں اور پھر ننھے ننھے چوزوں کی ایسی حفاظت کرتیں جیسے کوئی ماں اپنے بچوں کی کرتی ہے۔ ان کی زندگی کا ہر دن مشقت سے عبارت تھا مگر حیرت یہ تھی کہ ان کے چہرے پر کبھی تھکن کی شکایت نہ دیکھی۔ وہ کام کو زندگی سمجھتی تھیں اور شاید اسی مسلسل حرکت اور محنت نے انہیں اتنی مضبوط بنا دیا تھا۔

قریب کے قصبے سے وہ کھوتی پر کھجور کے پتے لاد کر لاتیں۔ پھر انہی پتوں کا بان بنا کر اپنی پیڑھیاں اور چارپائیاں بُنتیں۔ کچھ بان قریبی منڈی مویشیاں جا کر فروخت کر آتیں اور ان پیسوں سے روزمرہ کی ضرورت کی چیزیں خریدتیں۔ مگر ان خریداریوں میں ہمیشہ ہمارے لیے بھی کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا۔ کبھی ٹافیاں، کبھی مرنڈہ، کبھی گرمیوں کے خربوزے اور تربوز۔ اُس زمانے میں دوسرے پھل ان کی قوتِ خرید سے باہر تھے۔ سیب، انگور یا آم ہمارے گھر میں شاذ و نادر ہی آتے، اس لیے "وڈی ما" کے لائے ہوئے کھکھڑی، رینڈا یعنی تربوز ہی ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھے۔ اگر وہ پھل زیادہ میٹھے نہ بھی ہوتے تو ہم خوشی سے کھا لیتے کہ کہیں "وڈی ما" کا دل نہ ٹوٹ جائے۔ ویسے بھی غربت انسان کو شکرگزاری سکھا دیتی ہے۔ ہمیں معلوم تھا کہ یہ سب چیزیں بڑی محنت اور مدت کے بعد آتی ہیں۔ آج جب بڑے شہروں کی دکانوں میں پھلوں کے انبار دیکھتا ہوں تو اکثر "وڈی ما" یاد آتی ہیں جو اپنی محدود حیثیت کے باوجود ہم بچوں کی خوشیوں کا کوئی نہ کوئی سامان ڈھونڈ ہی لیتی تھیں۔ ان کی محبت کی مٹھاس شاید ان پھلوں کی مٹھاس سے کہیں زیادہ تھی۔

وقت گزرتا گیا اور ہم کچھ بڑے ہو گئے۔ اب "وڈی ما" سے ہمارا تعلق صرف ڈر اور احترام تک محدود نہ رہا بلکہ اس میں دوستانہ شرارتیں بھی شامل ہوگئیں۔ ان کی حسِ مزاح بہت اچھی تھی۔ ہم ان کے مخصوص الفاظ اور اندازِ گفتگو کو دہرا کر انہیں چھیڑتے تو وہ ناراض ہونے کے بجائے خوش ہوتیں اور ہنس دیتیں۔ ان کی عینک بھی ہمارے لیے ایک دلچسپ کھلونا تھی۔ جب کبھی وہ آنکھوں کو ہوا لگوانے کے لیے عینک اتار کر رکھتیں تو ہم اٹھا کر پہن لیتے۔ وہ فوراً فکر مند ہو جاتیں کہ کہیں بچے عینک توڑ نہ دیں، لیکن ہم بھی بڑی احتیاط سے اسے سنبھالتے۔ یہ چھوٹی چھوٹی یادیں آج بھی ذہن میں جگنوؤں کی طرح روشن ہیں۔ پھر وقت نے ہمیں مزید بڑا کر دیا۔ ہم پڑھ لکھ گئے، نوکریاں کرنے لگے اور جب کبھی گھر آتے تو "وڈی ما" کے لیے طرح طرح کی چیزیں لے کر آتے۔ وہ بہت خوش ہوتیں، دعائیں دیتیں اور سب کو بتاتیں کہ بچے ان کے لیے کیا کیا لائے ہیں۔ مگر ان کی خوبصورتی یہ تھی کہ انہوں نے کبھی کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا۔ جو مل جاتا خوشی سے قبول کر لیتیں۔ ان کی خواہشیں محدود تھیں مگر محبت بے حد وسیع تھی۔

گھر میں ان کا رعب بھی بہت تھا۔ سب ان سے دبک کر رہتے اور ان کی ناراضگی سے بچنے کی کوشش کرتے۔ مگر اسی رعب کے ساتھ ان کے اندر فراخدلی اور مہمان نوازی بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ مہمان اگر گھر آ جاتے تو کئی کئی دن قیام کرتے اور "وڈی ما" کبھی اکتاہٹ ظاہر نہ کرتیں۔ ان کے ساتھ دیر تک بیٹھ کر باتیں کرتیں، ان کی ضروریات کا خیال رکھتیں اور یوں خدمت کرتیں جیسے مہمان نہیں بلکہ اپنے گھر کے فرد ہوں۔ دیہات کی اصل تہذیب شاید یہی تھی جہاں غربت کے باوجود دل کشادہ ہوتے تھے۔ "وڈی ما" نے ایک طویل عمر پائی۔ ہم نے ان کے ساتھ زندگی کے بے شمار خوبصورت لمحے گزارے۔ پھر ایک دن وہ خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ ان دنوں میں کراچی میں تھا۔ رابطے کے ذرائع بہت محدود تھے، اس لیے ان کی وفات کی خبر وقت پر نہ مل سکی۔ یوں میں نہ ان کے آخری دیدار میں شریک ہو سکا اور نہ جنازے میں۔ جب یہ خبر ملی تو دل پر عجیب بوجھ سا آ گیا۔ ایک خلا محسوس ہوا، جیسے زندگی کے کسی مضبوط ستون کو اچانک نکال لیا گیا ہو۔ مگر شاید فاصلے انسان کے غم کو تھوڑا سہنے کے قابل بنا دیتے ہیں۔ اگر میں ان کے آخری لمحات میں موجود ہوتا تو شاید یہ صدمہ اور زیادہ گہرا ہوتا۔

گاؤں واپس پہنچا تو سب سے پہلے ان کی قبر پر حاضر ہوا۔ دیر تک خاموش کھڑا رہا۔ ان کے لیے مغفرت اور بلند درجات کی دعا کی۔ آج بھی جب کبھی گاؤں جاتا ہوں تو ان کی قبر پر ضرور حاضری دیتا ہوں۔ وہاں کھڑے ہو کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو اور بچپن کی ساری یادیں دوبارہ زندہ ہوگئی ہوں۔ "وڈی ما" اب اس دنیا میں نہیں رہیں لیکن ان کی شفقت، ان کی آواز، ان کی دعائیں، ان کی مہمان نوازی اور ان کی محبت آج بھی ہمارے وجود میں سانس لیتی ہے۔ کچھ لوگ مر کر بھی ختم نہیں ہوتے، وہ اپنی نسلوں کے حافظے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ "وڈی ما" بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مرقد کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین۔

Check Also

Aik Khatarnak Lafz Aur Ghair Mehfooz Muashra

By Saadia Bashir