Thursday, 11 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Attiya Zahra
  4. Khawateen Par Barhte Juraim: Muashre Ki Khamosh Shikast

Khawateen Par Barhte Juraim: Muashre Ki Khamosh Shikast

خواتین پر بڑھتے جرائم: معاشرے کی خاموش شکست

کسی بھی معاشرے کی تہذیب، شعور اور اخلاقی معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہاں خواتین کو کتنی عزت، تحفظ اور آزادی میسر ہے۔ جب ایک معاشرہ اپنی عورتوں کے لیے غیر محفوظ ہو جائے، وہاں خوف معمول بن جائے اور انصاف کمزور دکھائی دینے لگے تو یہ صرف ایک طبقے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پوری سماجی ساخت کے بحران کی علامت بن جاتا ہے۔ پاکستان میں خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم ایک ایسا ہی تلخ سوال بن چکے ہیں، جس سے نظریں چرانا اب ممکن نہیں رہا۔

خواتین کے خلاف جرائم کی نوعیت وقت کے ساتھ تبدیل ضرور ہوئی ہے، مگر ان کی شدت میں کمی دکھائی نہیں دیتی۔ گھریلو تشدد، ہراسانی، جنسی استحصال، غیرت کے نام پر قتل، تیزاب گردی، بلیک میلنگ، سائبر ہراسمنٹ اور جبری شادی جیسے جرائم اب صرف اخبارات کی سرخیاں نہیں بلکہ روزمرہ حقیقت بنتے جا رہے ہیں۔ ہر چند روز بعد کسی نہ کسی شہر سے ایک ایسا واقعہ سامنے آتا ہے جو انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے، مگر افسوس کہ کچھ دن شور مچنے کے بعد سب کچھ معمول کا حصہ بن جاتا ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ سماجی رویوں میں موجود وہ خاموش قبولیت ہے جس نے عورت کو اکثر کمزور، تابع اور کم تر سمجھنے کی سوچ کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ بہت سے گھروں میں لڑکی کو بچپن ہی سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ برداشت کرنا ہی اس کی خوبی ہے، خاموش رہنا ہی اس کی عزت ہے اور ظلم سہنا ہی اس کی تقدیر۔ یہی سوچ بعد میں مجرم کو طاقت دیتی ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ متاثرہ خاتون یا اس کا خاندان بدنامی کے خوف سے خاموش رہ سکتا ہے۔

قانونی نظام بھی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں خواتین کے تحفظ کے لیے متعدد قوانین موجود ہیں، لیکن اصل مسئلہ ان قوانین پر مؤثر عملدرآمد کا ہے۔ اکثر متاثرہ خواتین تھانے جانے سے گھبراتی ہیں، عدالتی کارروائی طویل اور پیچیدہ محسوس ہوتی ہے اور سماجی دباؤ الگ سے موجود ہوتا ہے۔ کئی کیسز میں خاندان ہی متاثرہ خاتون کو صلح یا خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ نتیجتاً مجرم سزا سے بچ نکلتا ہے اور معاشرے کو ایک خطرناک پیغام ملتا ہے کہ جرم کے باوجود بچا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی نے بھی جرائم کی ایک نئی شکل کو جنم دیا ہے۔ پہلے ظلم صرف جسمانی حدود تک محدود تھا، اب کردار کشی، جعلی تصاویر، آن لائن بلیک میلنگ اور ہراسمنٹ نے خواتین کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ایک کلک کے ذریعے کسی کی عزت کو داؤ پر لگا دینا آج کے دور کا سب سے خطرناک سماجی المیہ بنتا جا رہا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات متاثرہ خاتون ہی کو سوالات اور الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ اصل مجرم پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ خواتین کے خلاف جرائم صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی سماجی بحران ہے۔ اگر ایک لڑکا بچپن سے عورت کی عزت، برابری اور انسانی وقار کا سبق نہ سیکھے تو صرف سخت سزائیں بھی مسئلے کا مکمل حل نہیں بن سکتیں۔ تعلیم، خاندانی تربیت اور سماجی شعور اس مسئلے کے مستقل حل کے بنیادی ستون ہیں۔ اسکولوں میں اخلاقی تعلیم کو مضبوط بنانے، گھروں میں احترامِ انسانیت کی تربیت دینے اور میڈیا پر مثبت رویوں کو فروغ دینے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ہم اکثر کسی بڑے واقعے کے بعد وقتی غصے کا اظہار تو کرتے ہیں، مگر بطور معاشرہ مستقل تبدیلی کے لیے سنجیدہ کوشش کم دکھائی دیتی ہے۔ کسی خاتون کے ساتھ ظلم ہو تو چند دن مذمت ہوتی ہے، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز چلتے ہیں، بیانات دیے جاتے ہیں، پھر سب کچھ خاموش ہو جاتا ہے۔ یہ خاموشی ہی دراصل مجرموں کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

پاکستانی معاشرے میں خواتین کی حفاظت کو محض عورتوں کا مسئلہ سمجھنا ایک خطرناک غلطی ہوگی۔ یہ خاندان، سماج، معیشت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ ایک خوف زدہ عورت صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتی، اس کا خوف پورے خاندان اور سماجی فضا کو متاثر کرتا ہے۔ جب خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو معاشرے میں اعتماد، ترقی اور ذہنی سکون بھی کمزور پڑنے لگتا ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اس مسئلے کو محض خبروں کی حد تک محدود رکھنے کے بجائے ایک قومی ترجیح سمجھیں۔ سخت قوانین کے ساتھ ان پر فوری عملدرآمد، متاثرین کے لیے آسان قانونی مدد، تعلیمی اصلاحات، اخلاقی تربیت اور سماجی رویوں میں تبدیلی ہی وہ راستہ ہے جو اس بحران کو کم کر سکتا ہے۔ عورت کو تحفظ دینا کوئی احسان نہیں، یہ ایک مہذب معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

اگر آج بھی ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب عورت خوف میں جی رہی تھی تو معاشرہ خاموش کیوں تھا؟

Check Also

Muash e Nabvi (2)

By Kashif Zia