Thursday, 11 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Ardeshir Cowasjee Ki Baat Hum Ne Nasuni

Ardeshir Cowasjee Ki Baat Hum Ne Nasuni

اردشیر کاؤس جی کی بات ہم نے نہ سنی

کچھ قومیں ایک ہی بڑے سانحے میں بکھر کر تاریخ کے صفحے سے مٹ جاتی ہیں اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر قائم رہتی ہیں مگر اندر سے مسلسل کھوکھلی ہوتی چلی جاتی ہیں۔ وہ گرنے کے بعد دفعتاً ختم نہیں ہوتیں، بلکہ روزانہ، مہینوں اور برسوں کے حساب سے خود کو کھو دیتی ہیں۔ پاکستان بدقسمتی سے دوسری قسم کی ریاستوں میں شمار ہوتا ہے، ایک ایسا ملک جو بقا کے سانس تو لیتا رہتا ہے مگر اصلاح کے اُس بنیادی لمحے سے ہمیشہ فرار اختیار کرتا ہے جس کے بغیر کوئی معاشرہ سنبھل نہیں سکتا۔

یہ وہ ریاست ہے جو ہر نئے بحران کے بعد خود کو "نئے عہد" کے قریب قرار دیتی ہے، مگر ہر بار وہی پرانا چکر نئے چہرے کے ساتھ دہرا دیتی ہے۔ یہاں تاریخ سیکھنے کے لیے نہیں، صرف دہرانے کے لیے پڑھی جاتی ہے اور جو قوم تاریخ کو دہراتی ہے، وہ دراصل اپنے زوال کو معمول بنا لیتی ہے۔

برسوں پہلے مؤرخ Philip Oldenburg نے اپنی کتاب "India, Pakistan, and Democracy: Solving the Puzzle of Divergent Paths" میں اس بنیادی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی تھی کہ ایک ہی تاریخی بطن سے جنم لینے والی دو ریاستیں اتنے مختلف راستوں پر کیوں چل پڑیں۔ ان کا نتیجہ پیچیدہ نہیں تھا بلکہ نہایت بے رحمانہ حد تک سادہ تھا: ریاستیں نعروں سے نہیں چلتیں، وہ اس سے چلتی ہیں کہ اصل طاقت کس کے پاس ہے اور وہ طاقت خود کو جواب دہ سمجھتی بھی ہے یا نہیں۔

ہندوستان میں، اپنی تمام کمزوریوں اور تضادات کے باوجود، سیاسی اقتدار بتدریج سول ڈھانچے کے تابع رہا۔ وہاں منتخب ادارے، کمزور سہی مگر موجود رہے اور کوئی ایک غیر منتخب مرکز مسلسل اور مکمل غلبہ قائم نہ کر سکا۔ پاکستان میں معاملہ اس کے برعکس رہا۔ یہاں ریاست کی تشکیل ہی اس ذہنیت کے ساتھ ہوئی کہ اصل اختیار ہمیشہ پسِ پردہ اداروں کے پاس رہے گا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جمہوریت کبھی مکمل طور پر جمہوریت بن ہی نہ سکی، وہ ایک ایسی مشروط مشق بن گئی جس کی سانسیں بھی اجازت کی محتاج رہیں۔

مگر یہ محض ایک تاریخی تجزیہ نہیں۔ یہ ایک مسلسل ناکامی کی داستان ہے جسے ہم ہر دہائی میں نئے الفاظ کے ساتھ دہراتے ہیں اور یہاں اردشیر کاؤس جی کی یاد ناگزیر ہو جاتی ہے۔

وہ کوئی نرم گفتار مبصر نہیں تھے۔ وہ ایک ایسے کاتبِ زوال تھے جو اپنے ہی گھر کی دیواروں کو گرتے دیکھ کر خاموش رہنے پر آمادہ نہیں تھا۔ ان کی تحریر میں مایوسی نہیں تھی، بلکہ وہ سخت تیزاب تھا جو شاید کسی مردہ ضمیر کو جھنجھوڑ دے۔ وہ جرنیلوں کو یاد دلاتے رہے کہ ریاست ان کی ذاتی جاگیر نہیں، سیاست دانوں کو آئینہ دکھاتے رہے کہ اقتدار وراثت نہیں، ججوں کو شرمندہ کرتے رہے کہ انصاف موسموں کے ساتھ نہیں بدلتا اور عوام کو بھی معاف نہیں کرتے تھے جو بدعنوانی پر چیختے ضرور ہیں مگر روزمرہ زندگی میں اسی نظام کو سہارا دیتے رہتے ہیں جس پر وہ گلہ کرتے ہیں۔

ان کا غصہ محض غصہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسی محبت تھی جو مسلسل ذلت دیکھ کر سخت ہو چکی تھی اور افسوس یہ ہے کہ جس ملک کو وہ بار بار متنبہ کرتے رہے، وہی ملک ان کی پیش گوئیوں کو سچ ثابت کرتا چلا گیا۔

یہاں حکومتیں بدلتی رہیں مگر طرزِ حکمرانی نہیں بدلا۔ چہروں کی تبدیلی نے نظام کی بیماری کو نہیں چھیڑا۔ ہر نیا دور اپنے آپ کو "نقطۂ آغاز" کہتا رہا، مگر درحقیقت وہی پرانی کہانی کا نیا باب ثابت ہوا۔ سیاسی انجینئرنگ کی مذمت وہ لوگ بھی کرتے رہے جو کل اسی انجینئرنگ کے فائدہ اٹھانے والے تھے۔ آئین موجود رہا، مگر محض ایک دستاویز کے طور پر، ایک ایسا متن جسے ضرورت پڑنے پر پڑھا جاتا ہے اور باقی وقت میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

جمہوریت یہاں ایک مکمل نظام نہیں بن سکی، وہ ایک وقفے وقفے سے ہونے والا عمل بن کر رہ گئی۔ عوامی غصہ ہر چند سال بعد ابھرتا ہے، پھر تھک جاتا ہے، پھر کسی نئے وعدے کے نیچے دفن ہو جاتا ہے اور ریاستی ادارے؟ وہ آہستہ آہستہ اپنی ساکھ اور اپنی مرکزیت دونوں کھوتے جاتے ہیں، مگر کسی بحران کے بغیر نہیں، بلکہ مسلسل بحرانوں کے ساتھ جینے کے عادی ہو چکے ہیں۔

اصل المیہ غلطیوں کا ہونا نہیں۔ غلطی ہر قوم کرتی ہے۔ اصل تباہی یہ ہے کہ یہاں غلطی سے سبق کبھی نہیں سیکھتے، صرف ایک نیا بہانہ جنم لیتا ہے۔

کاؤس جی نے اسی رویے کو بار بار بے نقاب کیا، مگر ان کی تحریر کو سنجیدہ لینے کے بجائے اسے تلخ "رائے" کہہ کر کنارے لگا دیا گیا۔ حالانکہ وہ رائے نہیں تھی، وہ تشخیص تھی، ایک ایسی تشخیص جس کے بعد علاج نہیں کیا گیا اور اس سب کے باوجود یہ ملک قائم ہے۔ مگر سوال یہ ہے: یہ بقا ہے یا محض تاخیر؟

یہاں معاشرہ ریاست کی جگہ لے لیتا ہے۔ خاندان وہ ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں جو اداروں کو اٹھانی چاہئیں۔ لوگ ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں جہاں ریاست غائب ہو۔ نوجوان امید رکھتے ہیں، مگر ان امیدوں کا رخ اکثر باہر کی طرف ہوتا ہے۔ نظام چل رہا ہوتا ہے، مگر اس طرح جیسے کوئی مشین ہو جس کے پرزے بدلنے کے بجائے مسلسل مرمت پر چلایا جا رہا ہو۔

یہی پاکستان کی سب سے بڑی سچائی بھی ہے اور سب سے بڑی سزا بھی: یہ ملک اتنا کمزور نہیں کہ گر جائے اور اتنا سنجیدہ نہیں کہ خود کو بدل لے۔

آج کاؤس جی کو پڑھنا اس لیے زیادہ تکلیف دہ ہے کہ ان کی تحریریں ماضی کی نہیں لگتیں۔ وہ آج کا آئینہ معلوم ہوتی ہیں۔ الفاظ بدل گئے ہیں، مگر کردار نہیں بدلے۔ طاقت کا ارتکاز وہی ہے، جواب دہی کی غیر موجودگی وہی ہے اور اصولوں کو حالات کے مطابق موڑ دینے کی روایت وہی ہے۔

اولڈنبرگ نے صرف ڈھانچہ دکھایا تھا۔ کاؤس جی نے اس ڈھانچے کے نیچے سسکتی ہوئی حقیقت کو بیان کیا تھا اور ہم نے دونوں کو پڑھ کر بھی وہی کیا جو ہمیشہ کیا جاتا ہے: سمجھا، سراہا اور پھر نظر انداز کر دیا۔ یہی اصل المیہ ہے۔

پاکستان کو تنبیہوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ کمی ہمیشہ اس جرات کی رہی ہے جو تنبیہ کو عمل میں بدل سکے۔ تنبہیں دی جا چکی ہیں۔ تشخیص مکمل ہو چکی ہے۔ انجام بار بار لکھا جا چکا ہے اور پھر بھی، یہ سلسلہ جاری ہے۔

Check Also

Aik Khatarnak Lafz Aur Ghair Mehfooz Muashra

By Saadia Bashir