Hindustan Ka Khatarnak Bayaniya: Riyasti Dhamki
ہندوستان کا خطرناک بیانیہ: ریاستی دھمکی
پاکستان اور ہندوستان کے نازک جوہری توازن میں الفاظ کبھی محض الفاظ نہیں رہتے، یہ اشارے ہوتے ہیں اور بعض اوقات خطرناک حد تک واضح دھمکیاں بھی بن جاتے ہیں۔ ایک ایسے خطے میں جہاں اعتماد پہلے ہی کمزور ہے اور بحران بار بار جنم لیتے ہیں، ریاستی بیانیہ خود ایک اسٹریٹجک ہتھیار کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
بھارتی آرمی چیف سے منسوب حالیہ بیانات، جن میں پاکستان کے بارے میں مبینہ طور پر یہ کہا گیا کہ اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ "جغرافیہ کا حصہ رہے گا یا تاریخ کا"، محض سخت زبان نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو خطے میں اشتعال کو معمول بنانے کے خطرناک رجحان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اگرچہ ایسے بیانات کو عموماً ڈیٹرنس Detterence کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے، لیکن ان کی شدت اور نوعیت اسے روایتی سیکیورٹی پیغام رسانی سے آگے لے جاتی ہے۔
بھارت کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے خدشات یقیناً اس کی قومی سلامتی پالیسی کا ایک اہم اور دیرینہ حصہ ہیں۔ ہر ریاست کو اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کا حق حاصل ہے اور اس پر کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان خدشات کا اظہار اس انداز میں ضروری ہے جو دوسرے فریق کے وجود کو ہی علامتی طور پر چیلنج کر دے؟
یہی وہ نکتہ ہے جہاں ڈیٹرنس اور اشتعال کے درمیان لکیر دھندلا جاتی ہے۔ ڈیٹرنس کا مقصد روکنا ہوتا ہے، نہ کہ تصادم کے امکانات کو بڑھانا۔ لیکن جب بیانیہ وجودی رنگ اختیار کر لے تو وہ دفاعی حکمت عملی کے بجائے جارحانہ اشارہ بن جاتا ہے، جس کے اثرات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہتے۔
جنوبی ایشیا کا تجربہ اس بات کی مسلسل یاد دہانی ہے کہ یہاں بحران صرف فیصلوں سے نہیں بلکہ بیانیوں سے بھی جنم لیتے ہیں۔ 1999 کی کارگل جنگ سے لے کر بعد کے متعدد بحرانوں تک، یہ واضح رہا ہے کہ غلط فہمیاں اور سخت بیانیہ اکثر صورتحال کو قابو سے باہر لے جاتے ہیں۔ جوہری ماحول میں یہ خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، جہاں وقت کم اور ردعمل تیز ہو سکتا ہے۔
ڈیٹرنس نظریہ اپنی بنیاد میں وضاحت اور پیش بینی پر انحصار کرتا ہے۔ لیکن جب ریاستی سطح پر زبان مبہم، انتہائی یا مطلق ہو جائے تو وہی وضاحت کمزور پڑ جاتی ہے۔ مخالف فریق نہ صرف پیغام کو مختلف انداز میں سمجھ سکتا ہے بلکہ غلط اندازے بھی بحران کو بڑھا سکتے ہیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ اس تنقید کا مطلب کسی ایک فریق کو مکمل طور پر مورد الزام ٹھہرانا نہیں۔ سرحد پار عسکریت پسندی، سیکیورٹی خدشات اور علاقائی تنازعات دونوں طرف موجود ہیں۔ لیکن ان مسائل کا حل بیانیے کی شدت بڑھانے سے نہیں بلکہ اسے قابو میں رکھنے سے ممکن ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں ریاستی بیانیہ بتدریج سخت سے سخت تر ہوتا جا رہا ہے۔ فوجی اور سیاسی قیادت کی سطح پر ایسے الفاظ کا استعمال، جو پہلے غیر معمولی سمجھے جاتے تھے، اب تیزی سے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ یہی "نارملائزیشن آف ایسکلیشن" سب سے بڑا خطرہ ہے۔
اس کے برعکس، مؤثر ڈیٹرنس ہمیشہ کنٹرولڈ اور مستقل پیغام رسانی سے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ جذباتی یا وجودی زبان سے۔ ایک مضبوط ریاست کو اپنی پوزیشن ثابت کرنے کے لیے مخالف کے وجود کو علامتی طور پر چیلنج کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
علاقائی استحکام کا انحصار صرف عسکری طاقت پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ ریاستیں ایک دوسرے کے بارے میں کیسے بات کرتی ہیں۔ جب زبان ہی تصادم کے امکانات بڑھا دے تو پھر سفارت کاری کے لیے گنجائش کم رہ جاتی ہے۔
آخرکار، جنوبی ایشیا کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ مزید سخت الفاظ نہیں بلکہ زیادہ ذمہ دار ابلاغ ہے۔ کیونکہ جوہری ماحول میں اصل طاقت الفاظ کی شدت نہیں بلکہ ان پر کنٹرول ہے اور اگر خطہ واقعی کسی بڑے بحران سے بچنا چاہتا ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بعض اوقات سب سے خطرناک ہتھیار گولی نہیں بلکہ وہ زبان ہوتی ہے جو گولی چلنے سے پہلے فضا کو گرم کر دیتی ہے۔

