Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Fazal Tanha Gharshin
  4. Iktisab Ki Aziyat

Iktisab Ki Aziyat

اکتساب کی اذیت

شعر و سخن کی دنیا میں الہام و اکتساب یا آمد و آورد شروع ہی دن سے متنازع مبحث رہے ہیں۔ لیکن اب تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ اچھی شاعری کا سرچشمہ کہاں سے پھوٹتا ہے یا اچھا سخن ور کس قبیل سے تعلق رکھتا ہے؟ بر خوردار راقم الحروف کا اپنا تعلق بھی اکتساب سے ہے، مگر ان کو تشفی الہام کے قبیلے میں شمار ہونے سے ہوتی ہے۔ زندگی میں اگر محنت و ریاضت کی تعریف و تحسین کو دیکھا جائے تو اکتساب کا پلڑا آمد پر بھاری ہو نا چاہیے، مگر لگتا یہ ہے کہ شعر و شاعری کی دنیا میں آمد کا سکہ ہی رائج الوقت ہے۔

الہام اور آمد وہاں جڑیں پکڑ لیتی ہیں جہاں معاشی تنگ دستی، جنسی نا آسودگی، سماجی محرومی اور ہر لحاظ سے تنہائیوں اور نارسائیوں نے اپنے ڈھیرے جمالیے ہوں۔ جب کہ اکتساب اور آورد کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ فنی لحاظ سے روانی اور سہل ممتنع آمد، جب کہ ثقالت اور تعقید آور کی علامات ہیں۔ وسیع تجربے کی بنیاد پر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آمد کا جمالیات، مسرت اور حظ سے پرانا رشتہ رہا ہے اور آورد کے اعصاب پر افادہ سوار رہا ہے۔ اس تناظر میں سخن ور کے ساتھ بحث میں پڑے بغیر اس کے سخن سے یہ اندازہ بہ آسانی لگایا جا سکتا ہے کہ سخن ور کا تعلق کس قبیل سے ہے۔ ادب کی دنیا میں تمام تر تحریکیں بنیادی طور پر انھی دو رجحانات کی پیداوار ہیں۔

اکتساب میں افادے کی فصل بکثرت ہوتی ہے، مگر جمالیات کی خوشبو اور مٹھاس کم ہوتی ہے۔ جب کہ آمد کے گلزار میں افادے کی قحط ہوتی ہے۔ سماج میں رہنے والے تمام لوگ یک ساں زندگی نہیں گزارتے اور نہ ہی ان کو یک ساں تفریح کی ضرورت ہے۔ جن کو ابھی تک منزل نہیں ملی ہو اور ہنوز سفر میں مصروف ہیں، ان کو افادی تفریح کی ضرورت ہے اور جن کو منزل ملی ہے، ان کے لیے مسرتی تفریح کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے جو افراد ہنوز سفر میں ہیں، وہ بھی مسرتی تفریح میں پناہ لے رہے ہیں۔ جو ان کے لیے افیون ثابت ہوئی ہے۔ نتیجتا، منزل مقصود پر پہنچنے والے لوگ کم اور مسرتی تفریح میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ شعر و سخن صرف مجذوبیت اور مدہوشی کے لیے نہیں، بل کہ توانائی، جوش اور جذبے کا کام بھی کرتا ہے۔

فنی و فکری لحاظ سے آمد اور آورد کو ایک دوسرے کا متضاد اور علاحدہ علاحدہ موضوعات نہیں گننا چاہیے۔ دراصل فنی لحاظ سے آورد آمد کے لیے پہلی سیڑھی، پہلا قدم اور نو آموزی کا کام کرتی ہے۔ جب کہ فکری لحاظ سے عمر کے ساتھ ساتھ ذہنی پختگی کے بعد اکتساب کے ذریعے آمد کے بے ساختہ اور برانگیختہ محاصل پر نظر ثانی کی جاتی ہے۔ الہام اکتساب کی اور آمد آورد کی معراج ہے۔

اکتساب مسلسل عملی کام کے ذریعے الہام میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات پہلے سے بنے ہوئے میسر ماحول کسی کو اکتساب اور آورد سے بچا کر آمد اور الہام کے درجے پر بھی فائز کر سکتا ہے۔ یعنی وراثت کا ادب کی دنیا پر بھی اسی طرح گہرا اثر ہے جس طرح سیاست، مذہب اور کاروبار کی دنیا پر ہے۔ مگر سیاست، مذہب اور کاروبار کی دنیا کے برعکس، ادب کی دنیا میں وراثت کو خاص پزیرائی نہیں ملی ہے۔ یعنی نئے کوزے کی دریافت، روایتی فن کوزہ گری سے افضل ہے۔

فن میں دل کشی تب تک پائی جاتی ہے، جب تک برائے فروخت نہ ہو۔ فن کو سائنس یا مذہب کے مقابلے میں کھڑا کرنے سے پروپیگنڈا وجود میں آتا ہے، جس میں فکری اکتساب کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔ فن سائنس ہے اور نہ ہی مذہب۔ فن کی اپنی سائنس اور اپنا مذہب ہے اور باقی ہر سائنس اور ہر مذہب سے ماورا ہے۔ مذہب کے برعکس، فن مجموعے کے بجائے فرد سے سروکار رکھتا ہے۔ فرد کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ الہام یا اکتساب کے ذریعے اپنا رستہ خود تلاش کریں۔ اس تلاش میں فرد بیرونی دنیا سے بے خبر یا بے زار بھی ہو سکتا ہے۔ کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ادیب باقی معاشرے سے مختلف کیوں ہوتا ہے؟ الہام کے قبیل کا ادیب منفرد مگر نارمل ہوتا ہے، جب کہ اکتساب کے قبیل کا لکھاری مضحکہ خیز اور ابنارمل ہوتا ہے۔ مسلسل عملی کام سے اگر اکتساب الہام میں تبدیل نہ ہو سکے تو بندہ بروقت کوئی اور مصروفیت ڈھونڈ لیں۔ ورنہ اپنے مغز کے ساتھ ساتھ دوسروں کے مغز کا بھی دہی بنا سکتا ہے۔

ادب کی تخلیق کے دوران میں اکتساب کا عمل درد زہ سے کم اذیت ناک نہیں ہے۔ فرض کر لیں ایک مصرع یا شعر الہام ہوا تو باقی غزل کا کیا کریں؟ سب سے پہلے قافیہ اور ردیفوں کو تلاش کرنا ہے۔ اگر بندہ کہنہ مشق ہے، تو قافیہ اور ردیفوں کو فکر پر قربان کرنا آسان ہے۔ خدانخواستہ اگر ایسا نہیں ہے، تو سمجھو کہ فکر فن کی نذر ہوگئی۔ خوش قسمت ہوگا وہ لکھاری جس کو غزل یا فن پارہ پورا لکھنے کے دوران میں بازار سے سودا سلف لانے، دوستوں کے ساتھ چکر لگانے یا کوئی اور ایمرجنسی درپیش ہونے کی نوبت آئی ہو۔

اس دوران میں اگر بجلی یا گیس کا بل آئے، یا دروازے پر کوئی قرض خواہ دستک دے، تو پھر اکتساب کا عمل حالت نزع سے کم نہیں ہوگا۔ ایسے میں لکھاری کو سڑک، مکانات، دکانیں، عوام، گھر اور بال بچے سب کچھ خارج از بحر دکھائی دینے لگتا ہے۔ مترادفات، قافیہ اور ردیفوں کی مسلسل تلاش میں وہ ہر طرح کی خوب صورتی، خوشیوں اور بھول بھلیوں سے محروم و بے نیاز رہتا ہے۔ نادان لوگ اس کو موڈی، متلون مزاج، چڑچڑا، مغرور اور انا پرست قرار دیتے ہیں، مگر ایسا نہیں ہے۔ لوگوں کو کیا علم کہ بے چارہ کس اذیت سے گزر رہا ہے۔ یعنی مجذوب کو فاعلاتن اور مفاعلن ملے ہیں فعلن نہیں مل رہا یا دو مفتعلن ملے ہیں اور فاعلن نہیں مل رہا یا دو مفاعیلن اس کے پاس ہیں، مگر فعولن ساتھ نہیں دے رہا۔ دو مفاعیلن اور ایک فعولن سے نمٹنے کے لیے پہلے مصرعے میں صدر اور حشو ہے، مگر عروض نہیں ہے۔ یا دوسرے مصرعے میں ابتدا اور حشو ہے، مگر ضرب نہیں ہے تو کیا تماشا ہوگا۔

اس اذیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے نوآموز کو افعال اور افعال ناقصہ میں حروف علت پر تازیانے برسانے کا قانونی حق حاصل ہے، مگر بعد میں بات اسماء کے حروف علت پر قیامت ڈھانے تک پہنچ جاتی ہے۔ سہل ممتنع جائے بھاڑ میں، تعقید سے بہت جلد اس کا عقد ہوجاتا ہے۔ خدا نخواستہ اگر نوآموز اکتسابی کو اساتذہ کی بد دعا لگے تو زحافات کے دریا میں بھی غرق ہوسکتا ہے۔ غزل تیار ہونے کے بعد اس کے اوپر غزل کے ارکان اور اس کے مشکل اور ثقیل نام لکھنے کا الگ ہی مزا ہے۔ اگر اکتسابی مفرد اور سالم بحروں کے بجائے دو رکنی بحروں یا مرکب بحروں کا دھڑا دھڑ استعمال کریں تو سمجھو کہ مبتدی نے بہت کم وقت میں خود کو کلاسیکی شعرا میں شمار کرنے کا تحیہ کرلیا ہے: دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا۔

لکھاری اگر مبتدی ہو تو سبب، وتد اور فاصلہ سے برسر پیکار رہتا ہے اور باقی سماج پر بھی خفیف، ثقیل، مجموع، مفروق اور صغریٰ و کبریٰ کا قیاس کرتارہتا ہے۔ سماج میں اگر تھوڑا سا احساس اور شعر و سخن کا ذوق ہوتا، تو دوسرے مصرعے یا پوری غزل لکھنے میں لکھاری کی مدد کرتا یا کم سے کم کسی نکڑ پر بیٹھ کر قافیہ، ردیف اور مترادفات کی تلاش میں بے چارے کی مدد کرتا۔ قدم قدم پر جیب سے قلم کاغذ نکال کر کچھ نہ کچھ لکھنا بہت رسوا کن ہوتا ہے اور بدقسمتی سے آہستہ آہستہ یہ احساس زیاں بھی جاتا رہتا ہے۔

سماج اگر کسی کا خیال نہ رکھے تو کم سے کم گھر والے اپنے ادیب فرد کو گھر سے باہر بھیجنے کا خطرہ نہ مول لیں۔ آج کل حادثات بھی عروج پر ہیں۔ خواہ کچھ بھی ہوجائے، لکھاری کو قلم کاغذ سے محروم نہ رکھیں۔ کیا معلوم گھر سے باہر کچرے میں قلم کاغذ ڈھونڈ رہا ہو اور دیواروں پر اشعار لکھ رہا ہو۔ گھر والوں کی ذمہ داری ہے کہ ان کا تازہ کلام مسلسل سن لیا کریں، ورنہ محلے کے لوگ اکتسابی ادیب کو سننے سے تنگ آکر آپ کو بہت کچھ سنا سکتے ہیں!

بس دعا یہ ہے کہ اکتسابی کو ابتدا ہی سے کوئی مخلص استاد ملے تاکہ اس ساری جھنجھٹ سے چھٹکارا نصیب ہو اور کلام خود بخود مخیل اور موزوں ہو۔

Check Also

Sindh Tas Ki Tazvirati Jang

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi