Sunday, 07 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Kashif Zia
  4. Nadir Shahi Alfaz o Muhavrat

Nadir Shahi Alfaz o Muhavrat

نادر شاہی الفاظ و محاورات

نادر شاہ افشار یتیم بچہ تھا، خون میں جنگ کی گرمی تھی، شباب میں فوجی کمانڈر بن گیا، لڑائی سے کئی علاقوں کو ماتحت کیا، پھر ایران کے تخت پہ قبضہ کر لیا، پہلا کام یہ کیا کہ افغانیوں کو فارسی علاقوں سے بے دخل کیا بلکہ دھکیلتا دھکیلتا کابل و قندھار تک لے آیا، اس دوران کچھ افغانی دہلی دربار میں جا چھپے جہاں محمد شاہ (رنگیلا) کی حکومت تھی، نادر نے بازیابی کے لیے خط لکھا، محمد شاہ رنگ رنگیلیوں میں مست رہا کہ سفارتی آداب کی بھی پرواہ نہ کی، (کشتی میں سیر کر رہا تھا، جام ہاتھ میں تھا، خط پانی میں ڈبو دیا)، نادر کو برا لگا، اس نے سبق چکھانے کی ٹھانی، کابل و قندھار فتح کرکے دہلی کی طرف بڑھا۔ خیبر، پشاور اور پنجاب کے علاقے فتح ہوگئے، مغلوں اور قزلباشوں کی فیصلہ کن جنگ کرنال کے میدان میں ہوئی، (جو دہلی سے دور نہیں)، جنگ میں مغل افواج قزلباشوں سے دو گنا تھیں لیکن فیصلہ برعکس ہوا، مغل بری طرح پٹے اور بڑے سپاہی کام آئے، نادر فاتحانہ دہلی میں داخل ہوا، محمد شاہ ساتھ تھا لیکن غمگین و پریشان و افسردہ و حیران۔

نادر کا قیام دہلی میں دو ماہ رہا، اول اول امن تھا، پھر کڑوا واقعہ ہوا جس سے ندیاں خون کی بہ گئیں، عید کا دن تھا، نادر حریف (رنگیلے شاہ) کو مبارک باد دینے قلعہ گیا، افواہ پھیل گئی اسے قتل کر دیا گیا ہے، دہلی والوں کو اسی کا انتظار تھا، بلوہ کرکے ایرانیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا، فساد ساری رات جاری رہا، سات سو سے زائد ایرانی قتل ہوئے۔

صبح شاہ نادر حالات دیکھنے نکلا، گھوڑے پہ سوار تھا، سردار ہم راہ تھے، کہیں سے گولی آئی اور ایک شاہ سوار کو رنگین کر گئی، گولی پہ درحقیقت اس کا نام لکھا تھا، وہ یہ دیکھ آتش بہ جاں ہوگیا اور دہلی کی کسی بلند عمارت (بعض کے نزدیک جامع مسجد) پر چڑھ کے تلوار نکال لہرائی، فوجیوں کو اشارہ تھا کہ قتل عام شروع کریں، فوجیوں نے تلوار میان سے نکال لہرائی اور جس کا جدھر کو منھ تھا گھمانی شروع کی، عورت مرد بچہ بوڑھا جو سامنے آیا موت کے گھاٹ اتر گیا، پالتو غیر پالتو جانور تک نہ بچے، مکانات کو آگ دکھائی گئی، کشتوں کے پشتے لگ گئے، کہتے ہیں گلیوں میں لہو ایسے بہ رہا تھا جیسے بارش میں پانی، اندازہ ہے تیس ہزار سے تین لاکھ لوگ قتل ہوئے، اخیر محمد شاہ امراء کو ساتھ لے کر معافی مانگنے آیا، نادر پھر عمارت پہ چڑھا، تلوار میان میں ڈالی، فوجیوں نے بھی تلواریں میان میں ڈالیں، بہ ہر صورت شہر میں پڑی لاشوں کو ٹھکانے لگانے میں چنگے کشٹ اٹھانے پڑے ہوں گے۔

قتال کے بعد خزائن پہ متوجہ ہوا، خدا معلوم نیت پہلے سے بد تھی یا گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھائی، اربوں کا مال و زر لوٹا۔ کوہ نور ہیرا، تخت طاوس (مالیت: سات کروڑ) اور تخت رواں کے سمیت جواہرات (پندرہ کروڑ)، سونے چاندی کے برتن (ڈیڑھ کروڑ)، سلح خانہ، فراش خانہ، آب دارخانہ، خوش بو خانہ اور زین خانہ (سے تخمینا پندرہ کروڑ کے علاوہ) پانچ صد شاہی ہاتھی، دو ہزار گھوڑوں کے سوا پتا نہیں کتنا جنگ کا لوٹا ہوا مال اور اسباب تھا، مورخین تفصیلات میں آگے تک گئے ہیں، ہر زمان و مکان میں آستین کے سانپ تو ہوتے ہیں، حاسدوں نے چغلی کھائی کے فلاں سوداگر یا صاحب ثروت کے پاس اتنا مال ہے، چناں چہ ایسوں سے بہ جبر نقدی وصول کی گئی۔ جو نہ دے سکے اپنے ہی خنجر سے گلا کاٹ مرے یا زہریلا پانی پی لیا، ان میں ہندو مسلم کی تخصیص نہ تھی۔

کسی بھی زبان میں ان الفاظ و محاورات کی اہمیت ہوتی ہے جو گہرے تاریخی واقعات سے ظہور پائیں، ہندی والوں نے ایک عجیب عادت لی ہے کہ قدیم سنسکرت کے الفاظ اختیار کرتے ہیں اور ذرائع سے استعمال کرکے رواں کر دیتے ہیں، اردو میں نادر شاہ کے واقعہ سے "نادر شاہی حکم" کی ترکیب نے رواج پایا، ایسے موقع پر بولتے جب کوئی بڑا انجام سوچے بغیر بے تکا حکم دے دے۔

اسی طرح اس زمان میں مرزا مظہر جان جاناں (پانی پتی) کے ایک جملہ نے صوفیوں میں بڑی شہرت پائی:

شامت اعمال ما صورت نادر گرفت

(ہماری بد اعمالیاں اب نادر شاہ کی صورت ظاہر ہو رہی ہیں)

Check Also

Nadir Shahi Alfaz o Muhavrat

By Kashif Zia