Sunday, 07 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Pakistan Ka Asal Masla Qarz Nahi, Bad Intezami Hai

Pakistan Ka Asal Masla Qarz Nahi, Bad Intezami Hai

پاکستان کا اصل مسئلہ قرض نہیں، بدانتظامی ہے

پاکستان وسائل سے محروم ملک نہیں۔ پاکستان صلاحیتوں سے خالی ملک نہیں۔ پاکستان محنتی لوگوں سے بھی محروم نہیں۔ تو پھرآخر مسئلہ ہے کیا؟ میرے خیال میں پاکستان کا اصل مسئلہ مسلسل غلط منصوبہ بندی، قلیل مدتی حکمرانی اور ایسی ترجیحات ہیں جو ترقی کے بجائے وقتی سیاسی بقا کو ترجیح دیتی ہیں۔

کئی دہائیوں سے پاکستان ایک ایسے ملک کی طرح چلایا جا رہا ہے جو مستقبل تعمیر کرنے کے بجائے صرف بحرانوں کو پیدہ کرنے اور سنبھالنے میں مصروف ہے۔ کبھی ڈالر کا بحران، کبھی بجلی کا بحران، کبھی مہنگائی، کبھی قرض، کبھی گندم اور کبھی چینی کا بحران۔ لیکن جو بحران دہائیوں تک بار بار لوٹ آئیں، وہ حادثاتی نہیں رہتے، وہ پالیسیوں کا نتیجہ بن جاتے ہیں۔

پاکستان کی سب سے بڑی معاشی ناکامی صرف قرض نہیں، بلکہ قومی ترجیحات کا فقدان ہے۔

ایک ترقی پذیر ملک کو اپنے محدود وسائل تعلیم، برآمدات، توانائی کی بہتری، صنعت، بندرگاہوں، جدید انفراسٹرکچر، پانی کے نظام، ٹیکنالوجی اور انسانی ترقی پر خرچ کرنے چاہییں۔ مگر پاکستان میں وسائل اکثر کھپت consumption، سیاسی مراعات اور وقتی نمائشی منصوبوں پر خرچ کیے جاتے ہیں۔

یہاں ادارے بنانے سے پہلے اسکیمیں متعارف کرا دی جاتی ہیں۔ صنعت مضبوط کیے بغیر سڑکوں کے افتتاح کیے جاتے ہیں۔ پیداواری صلاحیت بڑھائے بغیر سبسڈیز subsidies بانٹی جاتی ہیں۔ قرض لے کر بجائے ترقی کے مواقع پیدا کرنے کے صرف اخراجات پورے کیے جاتے ہیں اور اس کا نتیجہ ہر شعبے میں نظر آتا ہے۔

پاکستان ایندھن درآمد کرتا ہے مگر بجلی ضائع کرتا ہے۔ مشینری درآمد کرتا ہے مگر ٹیکنیکل تعلیم میں سرمایہ کاری کم کرتا ہے۔ زرعی زمین ہونے کے باوجود اربوں ڈالرز کا کھانے کا تیل درآمد کرتا ہے۔ برآمدات بڑھانے کے بجائے درآمدی اشیا پر انحصار برقرار رکھتا ہے۔ رجسٹرڈ کاروباروں پر ٹیکس کا بوجھ بڑھاتے ہیں جبکہ بڑی دولت اور غیر دستاویزی معیشت Black Economy عموماََ نظام سے باہر رہتی ہے۔

یہ صرف معاشی عدم توازن نہیں، بلکہ منصوبہ بندی کی ناکامی ہے۔

ریاست آہستہ آہستہ قلیل مدتی Short Term سیاسی نمائش کی عادی ہو چکی ہے۔ ایسے منصوبے ترجیح بن جاتے ہیں جو چند مہینوں میں سرخیاں بنائیں، جبکہ وہ اصلاحات نظر انداز ہوتی ہیں جو آنے والے برسوں میں ملک کو مضبوط بنا سکتی ہیں۔ حقیقی اصلاحات اس لیے مشکل ہیں کیونکہ وہ طاقتور مفادات، غیر مؤثر بیوروکریسی اور مراعات یافتہ طبقات کو چیلنج کرتی ہیں۔

لیکن اصلاحات کے بغیر یہی چکر جاری رہتا ہے: قرض لو، وقتی استحکام لاؤ، مہنگائی بڑھاؤ، کرنسی کمزور کرو، مزید ٹیکس لگاؤ اور پھر دوبارہ قرض لو۔

پاکستان صرف ٹیکس بڑھا کر خوشحال نہیں ہو سکتا، خاص طور پر جب پیداواری صلاحیت جمود کا شکار ہو۔ ایک سادہ سی حقیقت ہے کہ ایک سکڑتا ہوا پیداواری طبقہ ہمیشہ ایک پھیلتے ہوئے غیر مؤثر نظام کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔

پاکستان کے حکمرانوں کی سب سے خطرناک غلط فہمی یہ ہے کہ معاشی خودمختاری صرف نعروں سے حاصل ہو سکتی ہے۔ کوئی انہیں یہ نا سمجھا سکا کہ معاشی آزادی پیداوار، نظم و ضبط اور مضبوط اداروں سے حاصل ہوتی ہے۔

کوئی ملک اُس وقت معاشی طور پر خودمختار بنتا ہے جب:

1) اس کی برآمدات مسلسل بڑھیں

2) توانائی کا نظام مؤثر ہو

3) ٹیکس کا نظام منصفانہ ہو

4) بیوروکریسی قابلِ اعتماد ہو

5) عدالتی نظام مستحکم ہو اور

6) سرمایہ کار پالیسیوں کے تسلسل پر اعتماد کریں۔

پاکستان کو اب Reactive حکمرانی کے بجائے ترقیاتی حکمرانی کی طرف جانا ہوگا۔

سب سے پہلی ضرورت اخراجات میں نظم و ضبط ہے۔ ہر وزارت، ہر ادارے اور ہر سرکاری ادارے کا کارکردگی کی بنیاد پر سختی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ غیر ضروری سرکاری مراعات، شاہانہ اخراجات اور سیاسی بنیادوں پر ہونے والی اسکیموں پر سخت پابندی ہونی چاہیے۔ ہم سا ایک غریب ملک امیر طرزِ حکمرانی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

دوسری بڑی اصلاح توانائی کے شعبے میں ہونی چاہیے۔ پاکستان اُس وقت تک عالمی سطح پر مقابلہ compete نہیں کر سکتا جب تک بجلی مہنگی اور نظام غیر مؤثر رہے گا۔ بجلی چوری کی روک تھام، جدید گرڈ grid سسٹم، قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) یعنی سولر اور ونڈ فارم وغیرہ اور علاقائی توانائی تعاون کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔

تیسری ضرورت برآمدات پر مبنی صنعتی پالیسی ہے۔ پاکستان صرف اندرونی کھپت اور ترسیلاتِ زر Foreign Remittance کے سہارے معاشی استحکام حاصل نہیں کر سکتا۔ صنعتوں کو مستقل پالیسی، سستی فنانسنگ، جدید لاجسٹکس اور ٹیکنالوجی کی سہولت فراہم کرنی ہوگی۔ ہمیں پیداوار کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی، محض قیاس آرائی کی نہیں۔

چوتھی اصلاح منصفانہ ٹیکس نظام ہے۔ حل یہ نہیں کہ تنخواہ دار طبقے اور عام صارفین پر مسلسل بالواسطہ ٹیکس بڑھائے جائیں۔ اصل حل ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، معیشت کو دستاویزی documented بنانا اور ٹیکس چوری کو کم کرنا ہے۔

پانچویں بڑی ضرورت مضبوط بلدیاتی نظام ہے۔ پاکستان حد سے زیادہ مرکزیت کا شکار ہے۔ شہر معیشت پیدا کرتے ہیں مگر ان کے پاس اختیارات اور وسائل محدود ہیں۔ مضبوط مقامی بلدیاتی حکومتیں بہتر ٹرانسپورٹ، صفائی، منصوبہ بندی اور کاروباری ماحول پیدا کرتی ہیں۔

چھٹی اصلاح تعلیم کو روزگار سے جوڑنا ہے۔ صرف ڈگریاں معاشی ترقی پیدا نہیں کرتیں۔ فنی تربیت، ڈیجیٹل مہارت، انجینئرنگ اور جدید صنعتی تقاضوں کے مطابق تعلیم وقت کی ضرورت ہے۔

سب سے اہم بات پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ سرمایہ کار، صنعتکار اور عام شہری اُس ملک میں طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں کر سکتے جہاں ہر حکومت کے ساتھ قومی ترجیحات بدل جائیں۔

کوئی بیرونی ادارہ پاکستان کے لیے یہ تبدیلی پیدا نہیں کر سکتا۔ نہ آئی ایم ایف، نہ دوست ممالک اور نہ ہی بیرونی سرمایہ کار۔ بیرونی امداد وقتی سہارا دے سکتی ہے، مگر ترقی نہیں۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ قومیں اُس وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ بیان سازی اور بیان بازی اور ترقی میں فرق سمجھنا شروع کر دیتی ہیں۔ پاکستان نے کافی منصوبے، کمیٹیاں، وژنزvisions اور معاشی پیکجز دیکھ لیے۔ اب ملک کو انتظامی دیانت، نظم و ضبط اور عملی کارکردگی کی ضرورت ہے۔

Check Also

Pakistan Ka Asal Masla Qarz Nahi, Bad Intezami Hai

By Aftab Alam