Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayesha Batool
  4. Hamein Jurm Se Larna Hai, Kirdar Kashi Se Nahi

Hamein Jurm Se Larna Hai, Kirdar Kashi Se Nahi

ہمیں جرم سے لڑنا ہے، کردار کشی سے نہیں

آج کے دور میں سوشل میڈیا نے ہر انسان کو رائے دینے کا حق تو دے دیا ہے، مگر افسوس یہ حق اکثر انصاف کے بجائے تماشہ بن جاتا ہے۔ جیسے ہی کسی شخص کا نام کسی خبر، اسکینڈل یا جرم کے ساتھ سامنے آتا ہے، لوگ بغیر تحقیق، بغیر حقیقت جانے، چند لمحوں میں اُس کے کردار، عزت اور پوری زندگی کا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ منشیات ایک خطرناک لعنت ہیں۔ یہ نہ صرف انسان کی صحت بلکہ اُس کی سوچ، خاندان، عزت اور مستقبل کو بھی تباہ کر دیتی ہیں۔ معاشرے میں بڑھتا ہوا ڈرگ کلچر نوجوان نسل کو آہستہ آہستہ اندھیروں کی طرف لے جا رہا ہے۔ ایسے جرائم کے خلاف قانون کو سختی سے کام کرنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں محفوظ رہ سکیں۔

لیکن افسوس اُس وقت ہوتا ہے جب لوگ جرم سے زیادہ کسی انسان کی بے عزتی میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔ خاص طور پر اگر معاملہ کسی عورت کا ہو تو ہمارا معاشرہ اُس کے عمل سے زیادہ اُس کے کردار پر حملہ کرتا ہے۔ لوگ بغیر حقیقت جانے اُس کی زندگی، تربیت، لباس اور عزت تک پر تبصرے شروع کر دیتے ہیں۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ عدالت کا کام عدالت کو کرنے دینا چاہیے۔ ہر خبر کی ایک حقیقت ہوتی ہے، ہر انسان کی ایک کہانی ہوتی ہے اور ہر گناہگار کے پیچھے کوئی نہ کوئی کمزوری، غلطی یا اندھیرا ضرور ہوتا ہے۔ اسلام ہمیں انصاف، پردہ پوشی اور نرم دلی کا درس دیتا ہے، نہ کہ کسی کو ذلیل کرنے کا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے، اللہ قیامت کے دن اُس کے عیبوں پر پردہ ڈالے گا"۔

یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ انسانوں کی تذلیل نہیں بلکہ اصلاح کرنی چاہیے۔ اگر کوئی غلط راستے پر چلا جائے تو اُس کے لیے ہدایت کی دعا کرنی چاہیے، نہ کہ اُس کی بے عزتی کو تفریح بنا لینا چاہیے۔

بدقسمتی سے آج ہم دوسروں کی زندگیوں پر تبصرے کرتے کرتے اپنی اصلاح بھول چکے ہیں۔ سوشل میڈیا کی عدالت میں ثبوت کم اور فیصلے زیادہ سنائے جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک مہذب معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں برائی کو روکا جائے، مگر انسانیت کو زندہ رکھا جائے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو نشے کے تباہ کن نتائج سے کیسے بچا سکیں؟ ، گھروں میں اعتماد کا ماحول کیسے پیدا کریں؟ اور اپنے بچوں کو دین، شعور اور اچھے ماحول سے کیسے جوڑیں؟ کیونکہ منشیات صرف ایک فرد کو نہیں، پورے معاشرے کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ مگر ہم ان سارے سوالات پہ جواب ڈھونڈنے کے بجائے دوسروں کی کردار کشی کرنے میں مصروف ہیں۔ ہم اپنے ماحول کو درست کرنے کی بجائے دوسروں کے ماحول میں غلطیاں نکالنے میں ماہر ہیں۔

ہمیں جرم سے ضرور نفرت کرنی چاہیے، لیکن کسی انسان کی کردار کشی کرکے خود ظلم کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ کیونکہ الفاظ بھی زخم دیتے ہیں اور بعض اوقات یہ زخم عمر بھر نہیں بھرتے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کو ہر قسم کے نشے، برائی اور اخلاقی زوال سے محفوظ فرمائے، ہماری نوجوان نسل کو صحیح راستہ عطا کرے، ہمیں انصاف، رحم دلی اور سچائی کے ساتھ جینے کی توفیق دے اور ہمارے دلوں کو دوسروں کی عزت کرنے والا بنائے۔

Check Also

Hindustan Ka Khatarnak Bayaniya: Riyasti Dhamki

By Aftab Alam