Khaleej e Hormuz Ki Aatish Fishan Lehrain, America Iran Tasadam (1)
خلیجِ ہرمز کی آتش فشاں لہریں، امریکہ ایران تصادم (1)
بندن میاں آج کل اپنی لکڑی کی پرانی کرسی پر بیٹھے گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ان کے سامنے رکھا ہوا اخبار جس کی شہ سرخیاں امریکہ اور ایران کے درمیان 2026 کے اس ہولناک تصادم کی نوید دے رہی ہیں۔ ان کے چہرے پر جھریوں کی لکیروں کو مزید گہرا کر رہی ہیں وہ اپنے کانپتے ہاتھوں سے عینک درست کرتے ہوئے اس منظرنامے کو دیکھ رہے ہیں جہاں آبنائے ہرمز کی لہریں بارود کی بو سے بوجھل ہو چکی ہیں اور خلیج فارس کا نیلا پانی انسانی لہو اور تیل کی سیاہی سے مٹیالا ہو رہا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ یہ کیسی تہذیب ہے جو ترقی کے دعوے کرتے کرتے بالآخر اسی غار کے دہانے پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں طاقت ہی حق کی پہچان ٹھہری ہے۔
بندن میاں کی نظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کا آپریشن ایپک فیوری محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ اس انسانی تکبر کا اظہار ہے جو کسی دوسرے کی خود مختاری کو تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔ وہ اپنی یادوں کے جھروکوں میں جھانکتے ہیں تو انہیں وہ پرانا وقت یاد آتا ہے جب جنگیں سرحدوں پر لڑی جاتی تھیں توپوں کی آوازیں دور میدانوں سے سنائی دیتی تھیں اور سپاہیوں کے چہروں پر دشمن کا عکس واضح دکھائی دیتا تھا مگر آج تو ٹیکنالوجی نے موت کو ایک کلک کی دوری پر لا کھڑا کیا ہے جہاں تہران کی گلیوں میں گرنے والے میزائل اور واشنگٹن کے ایوانوں میں ہونے والے فیصلے ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ درمیان میں سسکتی انسانیت کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔
بندن میاں کو دکھ اس بات کا ہے کہ پاکستان جس کی زمینیں اور جس کے لوگ ہمیشہ امن کے خواہاں رہے آج اس آگ کے درمیان ایک ایسے پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو خود تاریخ کےایک اہم موڑ کے قریب ہے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور شہباز شریف کی دوڑ دھوپ انہیں ایک ایسی کوشش معلوم ہوتی ہے جیسے کوئی تپتے صحرا میں ننگے پاؤں چلتے ہوئے بادلوں کو پکار رہا ہو وہ اپنی حقے کی نالی منہ سے لگاتے ہوئے ایک لمبا کش کھینچتے ہیں اور دھوئیں کے مرغولوں میں انہیں وہ ڈرون اڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جو وعدہ صادق کے نام پر آسمان کو تاریک کر دیتے ہیں۔
ان کے نزدیک یہ صرف دو ملکوں کی جنگ نہیں بلکہ یہ بقا کی وہ جنگ ہے جس نے عالمی معیشت کو اپاہج کر دیا ہے تیل کی قیمتوں کا بڑھنا بندن میاں کے باورچی خانے سے لے کر دنیا کے بڑے صنعتی مراکز تک ایک ایسا زلزلہ ہے جس کی شدت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے وہ سوچتے ہیں کہ کیا تہران کی نئی قیادت جو اپنے سپریم لیڈر کے سائے کے بغیر ابھری ہے اس طوفان کا رخ موڑ پائے گی یا پھر تاریخ کے صفحات میں ایک اور المیہ درج ہو جائے گا۔
بندن میاں کی بصیرت کہتی ہے کہ جب تک عالمی طاقتیں انصاف کے ترازو کو برابر نہیں رکھیں گی تب تک یہ بارود کے ڈھیر اسی طرح سلگتے رہیں گے اور معصوم بچوں کی آنکھوں میں خوابوں کی جگہ خوف بستا رہے گا وہ اخبار کو تہہ کرکے سائیڈ پر رکھتے ہیں اور ایک گہرا سانس لے کر آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جہاں بادلوں کی اوٹ سے شاید امن کا کوئی ستارہ نکلنے کا منتظر ہے مگر فی الحال تو ہر طرف جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور انسانیت ایک ایسے مقام پر کھڑی ہے جہاں واپسی کا راستہ تیزی سے مٹتا جا رہا ہے۔
بندن میاں جب اپنے کچے صحن میں بچھی ہوئی پرانی چارپائی پر نیم دراز ہوتے ہیں تو انہیں اپنے بچپن کے وہ دن یاد آنے لگتے ہیں جب ریڈیو پاکستان کی خبروں میں جنگ کا لفظ سنتے ہی پورے محلے پر ایک عجیب خاموشی طاری ہو جایا کرتی تھی۔ لوگ چھتوں پر کھڑے ہو کر آسمان کو دیکھا کرتے تھے اور مائیں اپنے بچوں کو سینے سے لگا کر دعائیں مانگا کرتی تھیں مگر آج کی دنیا میں جنگ اتنی عام ہو چکی ہے کہ خبریں بھی تھک گئی ہیں اور انسان بھی بے حس ہوتا جا رہا ہے۔
بندن میاں سوچتے ہیں کہ جب بغداد جل رہا تھا تب بھی دنیا نے یہی کہا تھا کہ یہ امن کے لیے ضروری ہے جب کابل کے پہاڑ دھماکوں سے گونج رہے تھے تب بھی یہی دعویٰ کیا گیا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے اور اب تہران کے آسمان پر اڑتے ہوئے ڈرون بھی شاید اسی فلسفے کی نئی شکل ہیں۔ وہ حیران ہوتے ہیں کہ انسان نے علم تو حاصل کر لیا مگر حکمت کھو دی ترقی تو کر لی مگر برداشت کھو دی عمارتیں تو بلند کر لیں مگر دل چھوٹے کر لیے۔
بندن میاں کی آنکھوں میں اس وقت نمی اتر آتی ہے جب وہ تصور کرتے ہیں کہ تہران کی کسی گلی میں کوئی بوڑھی ماں اپنے نوجوان بیٹے کے لیے دعا کر رہی ہوگی اور دوسری طرف واشنگٹن کے کسی ایوان میں بیٹھا ہوا کوئی طاقتور شخص نقشے پر انگلی رکھ کر اگلے حملے کی منظوری دے رہا ہوگا انہیں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا اب انسانوں کے ہاتھ میں کم اور مفادات کے ہاتھ میں زیادہ جا چکی ہے وہ اخبار کی ایک اور سطر پڑھتے ہیں جس میں لکھا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر نئے قوانین نافذ کرتے ہوئے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بندن میاں تلخ مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقتیں اب سمندروں پر بھی محصول لینے لگی ہیں جیسے زمین کی دولت کم پڑ گئی ہو انہیں یاد آتا ہے کہ کبھی سمندر شاعروں کے خوابوں کا استعارہ ہوا کرتے تھے مگر اب وہ جنگی بیڑوں اور میزائل بردار جہازوں کی چراگاہ بن چکے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز واقعی بند ہوگئی تو صرف تیل نہیں رکے گا بلکہ دنیا کی سانس رک جائے گی۔
کراچی کی بندرگاہ سے لے کر یورپ کی فیکٹریوں تک ہر جگہ ایک خاموش بحران جنم لے گا غریب آدمی کے چولہے کی آگ مدھم پڑ جائے گی اور امیر ملکوں کی معیشتوں کے چہرے سے غرور اترنے لگے گا بندن میاں کے نزدیک جنگیں صرف بارود سے نہیں لڑی جاتیں بلکہ معیشت بھی ایک ہتھیار بن چکی ہے اور اس ہتھیار کی زد میں سب سے پہلے ہمیشہ عام آدمی آتا ہے وہ اپنے محلے کے کریانے والے کو یاد کرتے ہیں جو پچھلے دنوں آٹے اور گھی کی قیمتیں بڑھنے پر پریشان تھا اور کہہ رہا تھا کہ خلیج میں جنگ کا مطلب ہمارے گھروں میں فاقے ہیں۔
بندن میاں کو اس جملے نے اندر تک ہلا دیا تھا کیونکہ انہیں محسوس ہوا کہ دنیا واقعی ایک گاؤں بن چکی ہے جہاں ایک ملک کی آگ دوسرے ملک کے چولہے تک پہنچ جاتی ہے وہ اپنی سوچ کے دائرے میں مزید گہرائی تک اترتے ہیں تو انہیں اقوام متحدہ کی عمارت بھی ایک خاموش تماشائی دکھائی دینے لگتی ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ ادارے اب صرف بیانات جاری کرنے کے لیے رہ گئے ہیں جہاں انسانی حقوق کے الفاظ تو بہت بولے جاتے ہیں مگر انسان کہیں نظر نہیں آتا۔
بندن میاں طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ شاید اب امن کا نوبیل ان لوگوں کو ملنا چاہیے جو جنگوں کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرنا جانتے ہیں کیونکہ اصل امن تو کب کا دفن ہو چکا ہے وہ پھر خاموش ہو جاتے ہیں اور ان کے چہرے پر ایسی تھکن اتر آتی ہے جیسے انہوں نے پوری دنیا کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہو۔ اسی دوران مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوتی ہے تو بندن میاں کی جھکی ہوئی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی ابھرتی ہے وہ دھیرے سے کہتے ہیں کہ انسان جب زمین پر انصاف قائم نہیں کر پاتا تو پھر آسمان کی طرف دیکھنے لگتا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ آج کی دنیا نے خدا کو بھی اپنی سیاست میں تقسیم کر لیا ہے۔
ہر فریق اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے اور دوسرے کو مٹانے پر تلا ہوا ہے بندن میاں کو یہ منظر کسی ایسے جنگل جیسا محسوس ہوتا ہے جہاں ہر درندہ خود کو محافظ کہتا ہے وہ ایران کی نئی قیادت کے بارے میں سوچتے ہیں جو سپریم لیڈر کی وفات کے بعد ایک غیر یقینی کیفیت میں ابھری ہے انہیں لگتا ہے کہ اقتدار کے ایوان باہر سے جتنے مضبوط دکھائی دیتے ہیں اندر سے اتنے ہی خوفزدہ ہوتے ہیں نئی قیادت ایک طرف عوامی غصے کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری طرف امریکی دباؤ اور اسرائیلی حملوں کا سامنا کر رہی ہے۔
بندن میاں سوچتے ہیں کہ شاید اقتدار دنیا کا سب سے تنہا مقام ہے جہاں انسان کے گرد ہجوم تو بہت ہوتا ہے مگر اعتماد کہیں نہیں ہوتا انہیں یاد آتا ہے کہ تاریخ میں کتنے بادشاہ ایسے گزرے جو اپنی طاقت کے زعم میں دنیا فتح کرنا چاہتے تھے مگر آخرکار اپنی ہی تنہائی کے قیدی بن گئے وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہوتے ہیں اور پھر دھیرے سے کہتے ہیں کہ جنگیں کبھی فاتح پیدا نہیں کرتیں صرف قبریں بڑھاتی ہیں انہیں اسرائیل کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں آئرن ڈوم سسٹم کی تنصیب کی خبر بھی بے حد مضحکہ خیز محسوس ہوتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ انسان پہلے خوف پیدا کرتا ہے پھر اسی خوف سے بچنے کے لیے دیواریں بناتا ہے اور پھر انہی دیواروں کے سائے میں خود کو محفوظ سمجھنے لگتا ہے حالانکہ خوف دیواروں سے نہیں نیتوں سے ختم ہوتا ہے۔ بندن میاں کو لگتا ہے کہ مشرق وسطیٰ اب ایک ایسے بارودی گودام میں بدل چکا ہے جہاں ایک چنگاری پورے خطے کو راکھ میں تبدیل کر سکتی ہے۔ سعودی عرب اپنی تشویش میں مبتلا ہے متحدہ عرب امارات اپنی تجارت کے مستقبل سے خوفزدہ ہے اسرائیل اپنے وجود کے دفاع میں ہر حد پار کرنے پر تیار ہے اور ایران اپنے وقار کی جنگ لڑ رہا ہے مگر ان سب کے درمیان عام انسان کہیں کھو گیا ہے وہ انسان جو صرف سکون سے جینا چاہتا ہے اپنے بچوں کو تعلیم دینا چاہتا ہے شام کو گھر لوٹ کر روٹی کھانا چاہتا ہے مگر عالمی سیاست نے اس کی زندگی کو اعداد و شمار میں تبدیل کر دیا ہے۔
بندن میاں جب یہ سب سوچتے ہیں تو ان کے دل میں ایک عجیب سا بوجھ اترنے لگتا ہے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ شاید انسانیت اپنی روح کھو چکی ہے وہ اپنے کمرے کی دیوار پر لگی ہوئی علامہ اقبالؒ کی تصویر کو دیکھتے ہیں اور دھیرے سے کہتے ہیں کہ شاعر تو برسوں پہلے انسان کو خودی کا سبق دے گئے تھے مگر دنیا نے خودی کو خود غرضی بنا لیا۔ طاقتور قومیں اب انصاف کے بجائے مفاد کی زبان سمجھتی ہیں اور کمزور قومیں خوف کے حصار میں زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔
بندن میاں کی نگاہ پھر اخبار پر پڑتی ہے جہاں لکھا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں متوقع ہے وہ تلخی سے مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ دنیا بھی عجیب ہے پہلے جنگیں مسلط کرتی ہے پھر مذاکرات کے نام پر تصویریں کھنچواتی ہے انہیں اپنے ملک کا دکھ بھی اندر سے کاٹنے لگتا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ پاکستان جس کے اپنے لوگ مہنگائی بے روزگاری سیاسی انتشار اور بداعتمادی میں گھرے ہوئے ہیں وہ دنیا کو امن کا راستہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے مگر شاید یہی اس دھرتی کی قسمت ہے کہ یہ ہمیشہ جلتی ہوئی دنیا کے بیچ امن کی شمع جلانے کی کوشش کرتی ہے۔
بندن میاں کی آنکھوں میں اس لمحے اپنے وطن کے لیے عجیب سی محبت ابھرتی ہے وہ محسوس کرتے ہیں کہ تمام کمزوریوں کے باوجود اس سرزمین میں ابھی بھی دعا باقی ہے ابھی بھی لوگ جنگ سے نفرت کرتے ہیں ابھی بھی مائیں اپنے بچوں کو نفرت نہیں انسانیت کا سبق دیتی ہیں مگر ساتھ ہی انہیں خوف بھی آتا ہے کہ اگر یہ جنگ مزید پھیل گئی تو اس کے شعلے جنوبی ایشیا تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ عالمی معیشت کی تباہی پہلے ہی غریب ملکوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور اگر تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں تو شاید آنے والے دنوں میں روٹی بھی خواب بن جائے بندن میاں اپنی لرزتی ہوئی انگلیوں سے حقے کی راکھ جھاڑتے ہیں اور آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جہاں شام کے سائے گہرے ہو رہے ہیں۔۔
جاری ہے۔۔

