Tuesday, 12 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Mustaqbil Ki Waba

Mustaqbil Ki Waba

مستقبل کی وباء

میں نے 2021 میں جب یہ کالم لکھا تھا، تو میرا مقصد کسی فلمی کہانی کا چرچا کرنا نہیں بلکہ اس ہولناک حقیقت سے پردہ اٹھانا تھا جو دبے قدموں انسانیت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ میں نے اپنی بحث کا آغاز جنوبی کوریائی فلم ٹرین ٹو بوسن کے اس منظر سے کیا تھا جہاں ایک گاڑی سے ٹکرا کر مرنے والا ہرن اچانک ایک عجیب و غریب ہیئت میں زندہ ہو جاتا ہے اور اس کے بعد ایک بند ٹرین کے اندر موت کا جو رقص شروع ہوتا ہے، وہ پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

اس مثال کو دینے کا مقصد یہ سمجھانا تھا کہ مستقبل میں آنے والی وبائیں محض اتفاق نہیں ہوں گی، بلکہ یہ ایک منظم بائیولوجیکل وارفیئر کا حصہ ہوں گی۔ میں نے متنبہ کیا تھا کہ جنیٹک انجینئرنگ کے ذریعے انسان کے اینڈوکرائن اور اعصابی نظام کو نشانہ بنایا جائے گا تاکہ انسان اپنے ہوش و حواس کھو کر ایک زومبی بن جائے۔ میں نے واضح کیا تھا کہ ان وائرسز کا الزام کسی نہ کسی جانور پر دھرا جائے گا تاکہ لیبارٹریوں کے مزموم مقاصد پر پردہ پڑا رہے اور میرا اشارہ 2028 کی اس ہولناک ٹائم لائن کی طرف تھا جہاں یہ منصوبہ اپنی انتہا کو پہنچے گا۔

آج مئی 2026 میں، وہی منظرنامہ جو میں نے ٹرین کی مثال سے سمجھایا تھا، اب سمندر کی لہروں پر نمودار ہوا ہے۔ ارجنٹائن سے روانہ ہونے والا کروز شپ ایم وی ہونڈیئس اس وقت ایک عالمی بحث کا مرکز ہے جہاں اچانک مسافروں میں وہی اعصابی ہیجان اور پراسرار اموات دیکھی گئیں۔ جس طرح فلم میں ٹرین ایک بند نظام تھی، یہ کروز شپ بھی ایک تیرتی ہوئی لیبارٹری ثابت ہوا ہے جہاں بند ماحول میں انسانوں پر وائرس کے اثرات کا تجربہ کیا گیا۔ اس بار بھی الزام ایک چوہے پر لگا کر اسے ہنٹا وائرس کا نام دیا گیا، تاکہ لوگ اس کے پیچھے چھپی جنیٹک انجینئرنگ کو نہ دیکھ سکیں۔

یہ وائرس صرف ایک بیماری نہیں بلکہ عالمی معیشت کو ہالٹ کرنے کا ایک ہتھیار ہے۔ سمندر عالمی سپلائی چین کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور کروز شپس یا کارگو جہازوں میں وباء کا یہ خوف دراصل سمندری لاک ڈاؤن کی تمہید ہے۔ اگر اس وائرس کا شور آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں میں مچایا جائے، تو عالمی توانائی کی ترسیل کو روک کر کھپت کو زبردستی کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور ہرمز کے راستے کو مخصوص اسٹریٹجک مقاصد کے لیے کلیئر کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس سارے کھیل کا سب سے خوفناک پہلو وہ کیرئیر ہے جو اب ہر گھر میں موجود ہے۔ مائیکروسافٹ اور کوکا کولا کا حالیہ اربوں ڈالر کا گٹھ جوڑ بظاہر ٹیکنالوجی کا ہے، لیکن درحقیقت یہ انسانی جسم کے قلعے میں داخل ہونے کا نیا راستہ ہے۔ کوکا کولا کے ذریعے ایسے نامیاتی اور بائیو کیمیکل اجزاء انسانوں کو پلائے جا رہے ہیں جو جسم کے مدافعتی نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ جب مخصوص ریڈیائی لہروں یا وائرس کو ریلیز کیا جائے گا، تو یہ اجزاء جسم کے اندر اس کے لیے ریسیور کا کام کریں گے اور انسان وہی زومبی حرکات کرے گا جو ہم نے کابل ایئرپورٹ کے ہیجانی مناظر میں دیکھیں۔

ہمیں نہیں معلوم کہ جو مشروبات ہم پی رہے ہیں یا جو مصنوعات ہم استعمال کر رہے ہیں، ان میں کون سے خاموش کیرئیرز چھپے ہیں۔ اس اعصابی مفلوجی سے بچنے کے لیے۔۔

مصنوعی مشروبات سے مکمل اجتناب کریں تاکہ آپ کا جسم کسی بھی وائرس کے لیے بارود کا کام نہ کرے۔

پٹرول پر انحصار ختم کرکے پیدل چلنے اور سائیکل چلانے کی عادت ڈالیں تاکہ اگر اچانک پہیہ جام کر دیا جائے تو آپ معذور اور مفلوج نہ ہو جائیں۔

کثرت سے پانی پیئیں تاکہ زہریلے مادے خارج ہوں اور بھرپور نیند لیں تاکہ آپ کا اعصابی نظام کسی بھی سگنل کے خلاف مضبوط رہے۔

فطرت کے جتنا قریب ہوں گے، ان لیبارٹری کے بنے فتنوں سے اتنا ہی محفوظ رہیں گے۔

ہمیں ایک ایسی دنیا کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جہاں توکل اور یقین کو توڑ کر لوگوں کو زومبی بنایا جائے گا تاکہ وہ فتنہ دجال کے سامنے کوئی مزاحمت نہ کر سکیں۔ میری پیش گوئی اور حالیہ کروز شپ کا واقعہ ثابت کر رہے ہیں کہ بساط بچھ چکی ہے، اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم لیبارٹری کے چوہے بنیں گے یا شعور رکھنے والے انسان۔

Check Also

Marka e Haq Aur Pakistan Ki Difai Hikmat e Amli Kanaya Daur

By Muhammad Mohsin Khan