Aansu Sab Aik Jaise
آنسو سب ہیں ایک جیسے

چند روز قبل گیارہ سالہ ایک پشتون بچی حورین کو اغوا کرکے کچے کے علاقے میں لے جاکر انھیں یرغمال کرکے تاوان طلب کیا گیا ہے۔ حورین کس طرح سے اغوا ہوئی اغوا میں کون کون ملوث ہیں کتنا تاوان انھوں نے ادا کیا اور اغوا کار مزید کتنی رقم کا مطالبہ کر رہے تھے پولیس نے کس طرح آپریشن کرکے بچی کو بازیاب کرایا ہے وقت کے ساتھ ساتھ ان باتوں سے پردہ اٹھتا جائے گا اور حقیقت عیاں ہوتی جائے گی۔
کہتے ہیں ہیں حورین کی بازیابی پٹھانوں کی کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف لشکر کشی کا اعلان ہزاروں کی تعداد میں مسلح لوگوں کے کچے کی طرف روانگی کا نتیجہ ہے۔ پشتونوں کے اس عمل کو دیکھ کر ناصرف کچے کے ڈاکو بلکہ پکے کے ان کے سرپرست بھی پریشان ہو گئے تھے جس پر اس کہانی کو ختم کرنے کی کوشش ضرور کی گئی اور پولیس ایکشن کرکے اس کہانی کا اختتام کردیا گیا۔
ہوا کچھ یوں کہ گیارہ سالہ معصوم بچی حورین کی روتی ہوئی والدہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان سمیت تمام پشتون سے بچی کی بازیابی کیلئے اپیل کی۔ غمگین ماں کی فریاد آنسوں کو دیکھ کر خیبرپختونخوا لکی مروت سے انعام اللہ مروت پشین بلوچستان سے دولت خان ترین حورین کی بازیابی اور کچے کے ڈاکوؤں کی سرکوبی کے لئے لشکر جرار لے کر نکلے راستے میں لوگ آتے گئے کارواں بڑھتا گیا۔ جب کچے کے ڈاکوؤں اور پکے کے ان کے سرپرستوں نے اس صورت حال کو دیکھ کر گھبرا گئے جس پر شکار پور پولیس کی جانب سے جو آپریشن کیا گیا بچی بحفاظت بازیاب کروائی گئی۔ حورین کی بحفاظت بازیابی پر نہ صرف ان کے والدین رشتہ دار پشتون قوم بلکہ ہم بلوچ سندھی پنجابی سب کو یکساں طور خوشی ہوئی ہے۔
دیکھا جائے حورین کو اغوا ہوئے چند روز گزارے تھے ان کی ماں کی تڑپ اور پکار پر ہزاروں پشتونوں نے لبیک کہتے ہوئے سر پر کفن باندھ کر نکلے تھے۔ مطلوبہ جگہ پر پہنچنے سے قبل ان لوگوں کو بچی کی بحفاظت بازیابی کی خوش خبری سنا کر واپس کردیا گیا۔ یاد رہے دو سال قبل اسی مئی کے مہینے میں بگٹی قبیلے کے ایک نوجوان سردار عبد الرحمان کلپر کا قتل ہوا تھا ان کے ورثاء کو قتل کا شک کچے کے ڈاکوؤں پر تھا کیونکہ یہ ایریا ان کا ہے لہٰذا عبد الرحمن بگٹی کے قتل یہی کچے کے ڈاکو ملوث ہیں جس پر عبد الرحمن بگٹی کے ورثاء نے ڈاکوؤں سے وضاحت طلب کی تو یہ ڈاکو کسی بھی طور پر وضاحت دینے بات تک کرنے پر تیار نہیں تھے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر بگٹیوں نے کچے میں لشکر کشی کا اعلان کرکے سیکنڑوں کی تعداد میں مسلح بگٹیوں نے کچے کے علاقے رونتی میں دھاوا بول دیا دو روزہ مقابلے میں کئی ڈاکوؤں کے مرنے اور اپنی کمین گاہیں چھوڑ کر بھاگ نکلنے کے اطلاعات آئے۔ اس قبائلی آپریشن میں پولیس بھی شامل رہا آخر کار ڈاکو ہر قسم کی صفائی دینے پر مجبور ہو گئے نامور شخصیات کو شامل کرکے قرآن پر اپنی صفائی پیش کرکے بگٹی قبائل کے انتقام سے بچ گئے تھے۔
اتنی لمبی چوڑی تہمید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ کیا بگٹیوں کو سردار عبد الرحمان کے قتل کی صفائی دینے کے لئے کچے کے ڈاکوؤں کو قبائل نے مجبور کیا یا سرکار نے اسی طرح مغوی حورین کی بازیابی لشکر کشی کی بدولت ممکن ہوئی یا پولیس نے کی اگر پولیس نے کی تو پشتونوں کے اکٹھے ہونے سے قبل کیوں نہ ہوئی اور بگٹیوں کے ڈاکوؤں کے ساتھ خونی تصادم کے بعد ڈاکوؤں نے ہر قسم کی صفائی دینے کے لئے کیوں تیار ہوگئے تھے۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پولیس نے حورین کی ماں کی آنسوں کو دیکھ کر یا خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے پشتونوں کے لشکر کو دیکھ کر ایکشن لیا یقیناً پشتونوں کے لشکر کو دیکھ کر سندھ پولیس نے ایکشن لیا۔
کہتے ہیں آنسو خوشی کے ہوں، یا غم کے، ہوتے ہیں ایک جیسے اِن آنسوؤں کی کوئی، پہچان نہیں ہوتی اس لئے تو میں کہتا ہوں کہ آنسو چاہیے حورین کی اماں کے ہوں یا پریا کماری کی ماں وینا کماری ہوں یا فضلہ سرکی کی والدہ سکینہ سرکی اجالا سولنگی کی ماں کے ہوں ماں تو ماں ہے ان کی تڑپ بھی ایک جیسی ان کے آنسو بھی ایک جیسے بس فرق ہے تو طاقت کا اثرورسوخ کا قومیت کا ظلم کے خلاف ہونا مظلوم کا ساتھ دینا بہترین عمل ہے جو میرے غیرت مند پشتون بھائیوں نے کرکے دیکھایا۔ انھوں نے نعرے نہیں لگائے جلسے جلوس نہیں کئے بلکہ عملی طور سروں پر کفن باندھ کر نکلے تھے جس کا اثر ہم سب نے دیکھا اس یک جہتی اور اتفاق کو سبھی نے سراہا ضرور۔
بات ہے ایک ماں کی پریا کماری کی والدہ وینا کماری ان کے والد راج کمار گزشتہ پانچ سال سے آنسو بہا رہے ہیں ان کی آنکھوں کا پانی خشک ہوگیا نہ صرف پریا کماری بلکہ فضلہ اجالا کی بھی مائیں حورین کی اماں کی طرح آنسو بہا رہی ہیں نا جانے ان ماں وں کے آنسوں سسکیوں کا اثر کسی پر کیوں نہیں ہورہا ہے نا پولیس پر نا ہی کسی قوم قبیلے یا پھر کسی قوم پرست مذہبی سیاسی جماعت پر آخر کیوں۔
وفاقی صوبائی حکومتوں سے گزارش ہے کہ خدا کے لئے ان ڈاکوؤں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف بلا تفریق فوری کارروائی کرکے تمام مغویوں کو بازیاب کرایا کے ان کو عبرتناک سزا دی جائے جو طریقہ آج کل شروع ہوا ہے پھر دیکھا دیکھی ہر قبیلے کے لوگ مسلح دستے رکھنا شروع کر دیں گے اور پھر یہ لوگ مختلف طریقوں سے اپنی طاقت کا اظہار کرتے رہیں گے جو کہ عام عوام اور حکومت کے لئے اچھا عمل نہیں ہے۔

