Wednesday, 27 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Hannan Sher
  4. Awami Aghlat Aur Pakistani Pasti

Awami Aghlat Aur Pakistani Pasti

عوامی اغلاط اور پاکستانی پستی

پاکستان ایک آزادی کی کڑیوں میں جکڑا غلام ملک۔ کیا صرف یکطرفہ نااہلی کا نتیجہ ہے؟ اس سوال پر غور کرنا ہوگا۔ پاکستان کو آج آزاد ہوئے ایک عرصہ گزر چکا ہے۔ مگر حالات ہیں کہ آزادی کی راہ میں رکاوٹ بنے اب بھی عوام کو چڑا رہے ہیں۔ ہر دور کی کہانی ایک سی معلوم ہوتی ہے۔ ہر خبر "پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے"کے گرد گھومتی ہے۔ تمام کڑیاں نازک سے نازک تر معلوم ہوتی ہیں۔ ان ناکامیوں کا دوش ہم نے ہمیشہ حکومت اور اداروں کو دیا ہے۔ مگر ایک اہم پہلو یعنی عوامی کردار کے پاکستانی حالات پر اثرات پر کبھی بات نہیں کی۔ جیسا کہ مقولا ہے کہ (تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے) یعنی جہاں حکومت کی نااہلی نے ہمیں ان حالات کا تحفہ دیا وہاں عوام نے بھی بھرپور اپنا کردار ادا کیا۔

سو جن عوامی اغلاط نے ہمیں اس نہج تک پہنچایا ہے وہ ذیل ہیں۔ (جھوٹ، چوری، قانون کا مذاق)۔

جھوٹ ایک ایسا مرض ہے، جو معاشرے کے معاشرے نگل جاتا ہے۔ جس کا پھیلاؤ کرونا وائرس کی طرح کچھ عرصے میں ہی ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے علاقے تک اپنے رنگ دکھاتا جاتا ہے۔ جو گناہگار اور بے گناہ میں فرق نہیں کرتا اور ہر سو اپنے اثرات دیکھاتا ہے۔ پاکستان کی تباہ کاریوں میں جھوٹ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ لوگوں نے چند روپیوں کی خاطر ایک دوسرے سے زیادتی کو اپنا شیوہ ہی بنا لیا ہے اور جھوٹ کو اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ جھوٹ کا یہ سفر ایک دم شروع نہیں ہوتا۔ بلکہ پیدائش سے لے کر زندگی کے خاتمے تک ایک باب کی طرح پڑھایا اور عملاً سکھایا جاتا ہے۔ ہر عمر کا فرد اپنی سوچ اور فہم کے حساب سے جھوٹ کا سہارا لیے کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جو وقتی سکون اور مستقل تباہی کا سبب بن رہا ہے۔

ایک مثال اگر ریڑھی والے کی لی جائے۔ جو (ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور) کی عمدہ مثال ہے۔ سامنے رکھا سامان گاہکوں کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب تو ہو جاتا ہے۔ مگر جب خریداری کی باری آتی ہے تو جھوٹوں کی ایک طویل فہرست تیار ہونے لگ جاتی ہے۔ اگر من پسند چیز کا مطالبہ کیا جائے تو ریڑھی مالکان آئیں بائیں شائیں کا سہارا لیتے ہیں۔ بالفرض اگر کامیابی حاصل ہو بھی جائے تو بیکپ پر پڑتے ملاوٹی سامان سے بھرے شاپر مزہ کرکرا کر دیتے ہیں۔ شام کے وقت تو بلبوں کی روشنی کا بہترین استعمال جھوٹ اور دھوکا دھڑی کی بہترین مثال ہے۔ ایک اور جھوٹ کی قسم خراب اور تازہ سامان کا میل ہے۔ جو اس یقین دہانی سے رہڑھی والوں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے کہ بس۔ ان کے بعد اب کوئی سچا باقی نہیں۔ مگر گھر پہنچتے ہی اس جھوٹ کا پردہ فاش ہو جاتا ہے۔ یہ تو ایک آدھ مثال ہے۔ اس جیسی اور اس سے بھی بڑھ کر ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ جو پاکستان کی بدستور ناکامیوں کی وجہ بن رہیں ہیں۔

چوری یعنی حق تلفی سنگین جرائم میں سے ایک ہے۔ جسے سر انجام دینے کے لیے کبھی غریب اور کبھی حکومتی سخت پالیسیوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جو نااہلی اور کام چوری کی واضح مثال ہے۔

چوری کی کئی اشکال ہیں۔ جن میں دو اہم ہیں۔ ایک کسی سے کچھ چھین لینا دوسرا اپنے فرائض مکمل طور پر سر انجام نہ دینا۔ میرے نزدیک دوسری قسم یعنی کام چوری زیادہ نقصان کا سبب بنتی ہے۔ اس کا اثر ایک شخص یا خاندان پر نہیں بلکہ پورے معاشرے حتی کہ پورے ملک پر ہوتا ہے۔ مثلاً سرکاری کرسی پر بیٹھا تقریباً ہر شخص اپنے آپ کو سرکار، ملک کا مالک، وجہ تشکیل پاکستان سمجھتا ہے۔ کوئی کام کروانا ہو۔ سرکاری افسران چاہے کسی بھی پوسٹ پر ہوں (تاریخ پہ تاریخ، تاریخ پہ تاریخ) کے فارمولے کو اپنانا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام سے رشوت لینا ثواب کا کام تصور کیا جاتا ہے۔ جو انفرادی چوری کو معاشرتی چوری میں بدل دیتا ہے۔ دوسری مثال عوام کا حق کے ساتھ کھڑا نہ ہونا ہے۔ ہمارے ملک میں اگر ایک (فرد یا طبقے)کو مار پڑھ رہی ہو، چاہے مالی ہو، سماجی ہو، سیاسی ہو۔ حق و باطل میں فرق نہیں کیا جاتا۔ سچ جاننے کی کوشش کو ایک بوجھ اور مصیبت سمجھا جاتا ہے۔ اگر معلوم ہو بھی جائے کہ ناحق ظلم کیا گیا ہے۔ تو محض ویڈیوز بنانے اور گھروں میں مخملی بستروں پر لیٹے لایک اور شییر کے علاوہ کچھ نہیں کیا جاتا۔ دراصل یہاں عوامی یکجہتی کی اشد ضرورت ہوتی ہے، مگر کام چوری آڑے آ جاتی ہے۔ نتیجہ ملک میں ناانصافی کے پھیلاؤ کی صورت میں نکلتا ہے۔

قانون دنیا میں امن و سکون قائم کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ مگر پاکستانی عوام اسے حکومت کی طرف سے کیے گئے ظلم اور بوجھ کی مانند سمجھتی ہے اور پاسداری کے نام پر جگاڑ بازی پر انحصار فرض تصور کرتی ہے۔ یہ مسئلہ ملک میں حق تلفی کے رواج کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتا ہے۔ دھوکا دھڑی اور جبر جیسے جرائم کو ہوا دیتا ہے۔ مثلاً عوام کی طرف سے ٹریفک کے قوانین کی پاسداری نہ کرنا ایک بہترین مثال ہے۔ جہاں ٹریفک سگنل کو مذاق، ہیلمٹ کے پہننے کو توہین اور اوور سپیڈنگ کو کلا کاری سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ لاکھوں لوگوں کو ہر سال ان وجوہات کی بنا پر اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ یہ سب تو عوام کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ قانون کی پاسداری کریں اور اپنی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

دوسرا قانون کے شفاف طریقے کو آلودہ کرنا ہے۔ اگر کوئی جرم کا مرتکب ہے تو رشوت، سفارش، دھوکے جیسے قانون دشمن طریقے کار اپنائے جاتے ہیں۔ اس میں عام عوام کی نااہلی صاف نظر آتی ہے۔ یہاں عوام کو چاہیے کہ وہ امن و سکون کے حصول کے لیے قانون کے کام میں مداخلت کی بجائے مدد کرنے پر زور دیں اور مجرموں کو ان کی سزا دلانے میں قانون کا ساتھ دیں۔ تیسرا حق پر مبنی قوانین کو نافذ کرنے اور برقرار نہ رکھنے میں عوامی ناکامیاں واضح نظر آتی ہیں۔ جن کی وجوہات میں عوام کی لاعلمی، ڈر، یکجہتی سے دوری اور عدم برداشت شامل ہیں۔ انہی وجوہات نے ہمیشہ سے پاکستانی عوام کو اپنے حق کے حصول کی راہ میں رکاوٹوں کا کام کیا ہے۔

سو ہر وقت حکومت اور اداروں کو برا بھلا کہنا درست نہیں۔ عوام کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے۔ کم از کم ہمیں اپنی طرف سے تو بہتری کی طرف قدم بڑھائے جائیں۔ اس راہ میں مشکلات ضرور ہیں مگر (کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے) کو ذہن میں رکھ کر ایک کوشش کرنی چاہیے۔ باقی اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور امید پر دنیا قائم ہے۔

Check Also

Erin Hutchings Ka Karnama

By Saleem Zaman