Friday, 17 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Peer Intizar Hussain Musawir
  4. Tareekh Ka Maskh Chehra Aur Shajron Ki Pewand Kari

Tareekh Ka Maskh Chehra Aur Shajron Ki Pewand Kari

تاریخ کا مسخ چہرہ اور شجروں کی پیوند کاری

انسانی معاشرے میں خاندانوں اور قبیلوں کا بنیادی مقصد صرف باہمی پہچان اور تعارف رہا ہے۔ یہ تقسیم اس لیے ہرگز نہیں تھی کہ اسے برتری ثابت کرنے، فخر جتانے یا من گھڑت کہانیاں گھڑنے کا ذریعہ بنا لیا جائے۔ لیکن تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب بھی مٹیار اور کمزور ذہنوں کو اپنے اندر کوئی حقیقی خوبی نظر نہیں آئی، انہوں نے اپنی ساکھ بچانے کے لیے جھوٹے شجروں اور ریت کے گھروندوں کا سہارا لیا۔

آج کے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ علم اور تحقیق کتب خانوں کے بجائے فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز کی زینت بن چکے ہیں۔ اب ہر وہ شخص جس نے تاریخ کی کسی بنیادی کتاب کا مطالعہ بھی نہیں کیا، وہ خود کو مورخ سمجھ کر خاندانی نسب کی جراحی کرنے بیٹھ جاتا ہے۔ کچھ نادان دوستوں نے تاریخ کو بچوں کا کھیل سمجھ لیا ہے، جہاں وہ اپنی مرضی سے شجروں میں نئے نام جوڑتے ہیں اور زمانوں کا ایسا تضاد پیدا کر دیتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

علمِ تاریخ کا سب سے بڑا اور بنیادی اصول زمانوں کا درست حساب ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص آٹھویں صدی ہجری کے کسی عظیم وجود کو زبردستی دسویں یا گیارہویں صدی کے بادشاہوں کے عہد سے جوڑ دے؟ یہ تو بالکل ایسی ہی مضحکہ خیز بات ہے جیسے کوئی دعویٰ کرے کہ عہدِ قدیم کا کوئی راجہ آج کے دور کے کسی افسر کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ جب فکری پختگی کی کمی ہو، تو لوگ ایسی ہی فاش غلطیاں کرتے ہیں جہاں صدیوں کا فاصلہ ایک ہی لمحے میں مٹا دیا جاتا ہے۔ ایسی کمزور کوششیں تاریخ کا حصہ نہیں بنتیں، بلکہ لکھنے والے کی علمی کمزوری کو سب کے سامنے عیاں کر دیتی ہیں۔

انسانی نسب اور خاندانی تاریخ میں ملاوٹ کرنا محض ایک معمولی غلطی نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے ساتھ ایک بڑی فکری خیانت ہے۔ جب ہم اپنی پہچان کو کسی سچے اور دستاویزی حوالے کے بغیر محض سنی سنائی کہانیوں پر کھڑا کرتے ہیں، تو ہم تاریخ کے چہرے کو مسخ کر رہے ہوتے ہیں۔ علمِ انساب کی اپنی ایک روح ہے جو ہمیشہ عدالتی فیصلوں، پرانے کتبوں اور معتبر دستاویزی ثبوتوں کی محتاج ہوتی ہے۔ جو لوگ اس نازک علم کو اپنی ذاتی خواہشات کے سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں، وہ دراصل علمی دنیا میں خود اپنا وقار کھو بیٹھتے ہیں۔

ماضی پر نظر دوڑائیں تو ہمیں ایسی بہت سے مثالیں ملتی ہیں جہاں عارضی دنیاوی فائدے یا مفاخرت کے شوق میں شجروں کو بدلنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں۔

ایک واضح مثال اندلس (اسپین) کے آخری دور کی ہے۔ جب وہاں بنو امیہ کا اقتدار زوال کی طرف بڑھ رہا تھا اور چھوٹی چھوٹی مقامی حکومتیں بن چکی تھیں، تو ان خود ساختہ حکمرانوں نے اپنی حیثیت کو معزز ثابت کرنے کے لیے درباری نقیبوں اور نام نہاد تاریخ دانوں کی خدمات حاصل کیں۔ انہیں بھاری رقوم دی گئیں تاکہ وہ ان کا شجرہ نسب زبردستی عرب کے معزز ترین خاندانوں اور قریش سے جوڑ دیں۔ وقتی طور پر تو انہوں نے خود کو کاغذوں میں ہاشمی لکھوا لیا، لیکن جب تاریخ کے عظیم مورخ ابنِ خلدون نے قلم اٹھایا، تو انہوں نے اپنے شہرہ آفاق "مقدمہ" میں ان تمام جھوٹے شجروں کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا۔

ابنِ خلدون نے واشگاف الفاظ میں لکھا: "اقتدار یا زمین کی حاکمیت بدل جانے سے کسی کا خون اور نسب نہیں بدل جاتا۔ جو مصلحت پسند اپنے اثر و رسوخ کو چمکانے کے لیے جھوٹے شجرے تراشتے ہیں، وہ تاریخ کی نظر میں مجرم بنتے ہیں کیونکہ وقت بالاخر سچ اور جھوٹ کو الگ کرکے ہی دم لیتا ہے"۔

اسی طرح بغداد پر حملے کے بعد جب عباسی خاندان کے لوگ بکھر گئے، تو کئی مقامی خاندانوں نے راتوں رات خود کو عباسی ظاہر کرنا شروع کر دیا تاکہ وہ معاشرے میں معزز کہلا سکیں۔ کچھ عرصہ تو ان کا یہ دعویٰ چلتا رہا، لیکن جیسے ہی پرانے خاندانی کاغذات اور دستاویزی شواہد سامنے آئے، ان کی بنائی ہوئی یہ نقلی عمارتیں زمین پر آ گریں اور سچائی سب کے سامنے واضح ہوگئی۔ تاریخ کا یہ سبق ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ جھوٹ کا ملمع عارضی طور پر تو آنکھوں کو دھوکہ دے سکتا ہے، لیکن وقت کی کسوٹی پر ہمیشہ سچا اور کھرا تانبا ہی بچتا ہے۔

سچ کو کبھی کسی بیساکھی یا مصنوعی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جو سونا ہوتا ہے، وہ اپنی چمک سے پہچانا جاتا ہے اور اسے مٹی میں دبانے کی کوششیں ہمیشہ ناکام ہوتی ہیں۔ برصغیر کی اس پاکیزہ دھرتی پر کچھ ایسی عظیم اور بزرگ ہستیاں آسودہ خاک ہیں جن کا اصل ہاشمی نسب اور خاندانی تاریخ سورج کی طرح روشن ہے۔ وہ ہاشمی وراثت کے سچے امین اور برصغیر کے وہ عظیم ترین وجود ہیں جن کی تعلیمات سے یہ خطہ منور ہوا۔ ان کے تاریخی حقائق، عدالتی فیصلے اور صدیوں پرانے دستاویزی ثبوت آج بھی اس طرح محفوظ ہیں کہ وقت کی گرد بھی انہیں دھندلا نہیں سکی۔

جب اپنے پاس پیش کرنے کے لیے کوئی حقیقی خوبی نہ ہو، تو لوگ دوسروں کی تاریخ پر ہاتھ ڈالنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ خاندانی پہچان کا فخر اپنی جگہ معتبر ہے، لیکن جب اس میں جھوٹ اور تضادات کی ملاوٹ کر دی جائے، تو پہلی ہی علمی جرح کے سامنے وہ سب کچھ بکھر جاتا ہے۔ عقیدت کا اصل تقاضا سچائی اور عاجزی ہے، نہ کہ ایسے شجرے تراشنا جن کی جڑیں تاریخ میں کہیں موجود ہی نہ ہوں۔

ہمیں ان سطحی اور کمزور کوششوں پر رنجیدہ ہونے کی بالکل ضرورت نہیں، کیونکہ مٹی کا کام اڑنا ہے اور سچ کا کام ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ تاریخ کا سفر بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہتا ہے اور آنے والا وقت خود واضح کر دیتا ہے کہ کون نسب کی سچی وراثت کا اصل وارث تھا اور کون تاریخ کے صفحات پر زبردستی کے پیوند لگانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہمیں صرف اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہمارا قلم ہمیشہ سچائی، شائستگی اور علمی دلیل کا ساتھ دے، کیونکہ دلیل کا ختم ہونا ہی دراصل علم کا زوال ہے۔

Check Also

Grand Father Paradox

By Mohammad Saleem