Friday, 17 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Apni Betiyon Ko Darna Nahi, Larna Sikhayen

Apni Betiyon Ko Darna Nahi, Larna Sikhayen

اپنی بیٹیوں کو ڈرنا نہیں، لڑنا سکھائیں

معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہاں خواتین اور بچیاں کتنی محفوظ ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم ایک ایسے دور میں کھڑے ہیں جہاں آئے روز کسی نہ کسی معصوم بچی، نوجوان لڑکی یا عورت کے ساتھ ظلم، زیادتی، ہراسانی یا تشدد کی خبر دل دہلا دیتی ہے۔ یہ واقعات صرف چند افراد کے جرائم نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں، خاموشی اور کمزور سماجی نظام کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔

جب ایسے واقعات سامنے آتے ہیں تو اکثر سب سے پہلے سوال لڑکی سے کیا جاتا ہے۔ وہ کہاں گئی تھی؟ کیا پہن رکھا تھا؟ کیوں اکیلی تھی؟ لیکن بہت کم لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ مجرم کو یہ حوصلہ کس نے دیا؟ اسے یہ یقین کیوں تھا کہ شاید وہ سزا سے بچ جائے گا؟ اصل مسئلہ عورت کی آزادی نہیں بلکہ مجرم کی ذہنیت اور قانون پر عملدرآمد کی کمزوری ہے۔

اس لیے وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو صرف ڈرنا نہ سکھائیں بلکہ انہیں اپنے حقوق، اپنی عزت اور اپنی حفاظت کے لیے آواز اٹھانا بھی سکھائیں۔ انہیں یہ اعتماد دیں کہ اگر کوئی انہیں ہراساں کرے، دھمکائے یا نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو خاموش رہنے کے بجائے فوراً اپنے والدین، اساتذہ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دیں۔ خاموشی اکثر مجرم کو مزید طاقت دیتی ہے، جبکہ بروقت آواز کئی زندگیاں بچا سکتی ہے۔

لڑنا صرف جسمانی طاقت کا نام نہیں۔ اصل لڑائی شعور، تعلیم، خود اعتمادی اور انصاف کے حصول کی ہے۔ اپنی بیٹیوں کو تعلیم دیں، انہیں خود اعتمادی دیں، ضرورت ہو تو سیلف ڈیفنس کی تربیت بھی دلوائیں، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ ان کے اندر یہ یقین پیدا کریں کہ وہ کسی بھی ظلم کے سامنے تنہا نہیں ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے بیٹوں کی تربیت پر بھی اتنی ہی توجہ دینی ہوگی۔ انہیں بچپن سے سکھایا جائے کہ عورت قابلِ احترام ہے، کسی کی مرضی کے بغیر اسے چھونا، ہراساں کرنا یا اس کی آزادی سلب کرنا جرم اور گناہ دونوں ہے۔ ایک مہذب معاشرہ صرف مضبوط بیٹیوں سے نہیں بلکہ باکردار بیٹوں سے بھی تشکیل پاتا ہے۔

ریاست کی ذمہ داری بھی کسی سے کم نہیں۔ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو فوری، شفاف اور سخت قانونی سزا ملنی چاہیے تاکہ قانون کا خوف پیدا ہو۔ جب سزا یقینی ہوگی تو جرم کی شرح میں بھی کمی آئے گی۔ صرف بیانات اور مذمت کافی نہیں، مؤثر قانون اور اس پر بلاامتیاز عمل ہی معاشرے کو محفوظ بنا سکتا ہے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا اعتماد قائم کریں کہ وہ ہر خوف، ہر پریشانی اور ہر واقعے کے بارے میں بلا جھجھک بات کر سکیں۔ اکثر بچے صرف اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ انہیں ڈانٹ، الزام یا بدنامی کا ڈر ہوتا ہے۔ یہ خاموشی ٹوٹنی چاہیے۔

یاد رکھیے، کسی بھی ظلم کی ذمہ داری کبھی متاثرہ فرد پر نہیں ہوتی بلکہ صرف اور صرف ظالم پر ہوتی ہے۔ ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ بیٹیوں کو خوف میں جینا نہیں بلکہ باوقار، بااعتماد اور محفوظ زندگی گزارنے کا حق ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف اپنی بیٹیوں کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو بدلیں۔ ایسا معاشرہ جہاں عورت کو اپنی عزت اور جان کی حفاظت کے لیے ہر وقت خوف میں نہ جینا پڑے، جہاں مجرم کو قانون کا ڈر ہو اور جہاں انسانیت حیوانیت پر ہمیشہ غالب رہے۔

کیونکہ بیٹیوں کو صرف ڈرنا نہیں، اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا بھی آنا چاہیے اور معاشرے کو صرف نصیحتیں نہیں بلکہ انصاف بھی دینا ہوگا۔

Check Also

Faisla Karna Seekhein

By Sarfraz Saeed Khan