Film Ki Taqat
فلم کی طاقت

دنیا میں دو طرح کی جنگیں لڑی جاتی ہیں۔ ایک جنگ بندوقوں، بارود اور میزائلوں سے لڑی جاتی ہے اور دوسری جنگ کہانیوں، فلموں، کتابوں اور ڈراموں سے۔ پہلی جنگ میں زمینیں فتح ہوتی ہیں لیکن دوسری جنگ میں ذہن فتح ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنی کہانی خود نہیں سناتیں، ان کی کہانی دوسرے لوگ لکھ دیتے ہیں اور جب دوسرے لوگ لکھتے ہیں تو وہ اکثر اپنے زاویۂ نظر سے لکھتے ہیں، اپنے مفادات کے مطابق لکھتے ہیں اور اپنی نسلوں کو وہی تاریخ پڑھاتے ہیں جس سے ان کا قومی بیانیہ مضبوط ہو۔
ہالی ووڈ نے امریکہ کو صرف ایک ملک نہیں، ایک خواب بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ برطانیہ نے اپنی بادشاہت، اپنی جنگوں اور اپنے ہیروز پر سیکڑوں فلمیں بنائیں۔ ترکی نے ارطغرل اور کورولوش عثمان جیسے ڈراموں کے ذریعے اپنی تاریخ کو نئی نسل تک پہنچایا اور دنیا بھر میں کروڑوں ناظرین حاصل کیے۔ جنوبی کوریا نے فلموں اور ڈراموں کے ذریعے اپنی ثقافت کو عالمی برانڈ بنا دیا۔ بھارت نے بھی اس حقیقت کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا کہ کیمرہ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں، بلکہ قومی بیانیہ تشکیل دینے کا سب سے مؤثر ہتھیار بھی ہے۔
اسی لیے بھارت تقریباً ہر بڑے تاریخی واقعے، قومی شخصیت، فوجی آپریشن، کھلاڑی، سیاست دان اور سماجی موضوع پر فلم یا ویب سیریز بناتا ہے۔ کبھی ایمرجنسی کے نام سے اندرا گاندھی کی زندگی کو پردۂ سکرین پر لایا جاتا ہے، کبھی بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ابھی نندن کے واقعے کو فلمی رنگ دیا جاتا ہے، کبھی ملکھا سنگھ کی جدوجہد کو دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور کبھی کرکٹر یووراج سنگھ کی زندگی پر فلم بنتی ہے۔ ان فلموں سے صرف ٹکٹ فروخت نہیں ہوتے بلکہ ایک قومی تصور بھی تشکیل پاتا ہے، جسے نئی نسل حقیقت سمجھنے لگتی ہے۔
حال ہی میں ہندوستان کی تقسیم کے پس منظر پر بننے والی ویب سیریز "فریڈم ایٹ مڈنائٹ" بھی اسی بحث کا حصہ بنی۔ پاکستان میں متعدد مبصرین اور ناقدین نے یہ اعتراض اٹھایا کہ اس میں قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت کو ایسے زاویے سے پیش کیا گیا جو ان کے نزدیک متوازن نہیں تھا، جبکہ کانگریس کی قیادت کو نسبتاً زیادہ مثبت انداز میں دکھایا گیا۔ تاریخی شخصیات کی فلمی پیشکش ہمیشہ بحث کا موضوع رہتی ہے، کیونکہ فلم ساز اکثر ڈرامائی ضرورت، اپنی تحقیق اور اپنے نقطۂ نظر کے مطابق کردار تشکیل دیتے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ بھارت کیا بنا رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کیا بنا رہا ہے؟
ہمارے پاس دنیا کی چند غیر معمولی شخصیات موجود ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح صرف پاکستان کے بانی نہیں بلکہ برصغیر کی آئینی سیاست کے بڑے رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ علامہ محمد اقبال صرف شاعر نہیں بلکہ ایک مفکر تھے جن کے افکار آج بھی فلسفہ، سیاست اور اسلامی فکر میں زیرِ بحث ہیں۔ لیاقت علی خان، فاطمہ جناح، عبدالستار ایدھی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، شعیب اختر اور متعدد دیگر شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگیاں فلموں اور ویب سیریز کا مواد رکھتی ہیں۔
لیکن ہم نے کیا کیا؟
ہم نے اپنی تاریخ کو کتابوں تک محدود کر دیا۔ آج کا نوجوان موبائل کی اسکرین پر رہتا ہے۔ وہ دو گھنٹے کی فلم دیکھ سکتا ہے، آٹھ اقساط پر مشتمل ویب سیریز مسلسل دیکھ سکتا ہے، لیکن تین سو صفحات کی کتاب پڑھنے کے لیے اس کے پاس شاید وقت بھی نہ ہو اور عادت بھی نہ ہو۔ اگر ہم اپنی تاریخ کو اسی انداز میں پیش نہیں کریں گے جس انداز میں نئی نسل مواد دیکھ رہی ہے تو پھر دوسروں کی بنائی ہوئی کہانیاں ہی ان کے ذہن میں جگہ بنائیں گی۔
یہ صرف نظریاتی مسئلہ بھی نہیں، معاشی مسئلہ بھی ہے۔
دنیا کی فلمی صنعت اربوں ڈالر کی معیشت بن چکی ہے۔ ایک کامیاب فلم سینما گھروں کے علاوہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز، ٹیلی ویژن، اشتہارات، سیاحتی سرگرمیوں اور یادگاری مصنوعات کے ذریعے کئی گنا آمدنی پیدا کرتی ہے۔ جب کسی شہر یا تاریخی مقام پر فلم بنتی ہے تو لوگ اس جگہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے بھی پہنچتے ہیں۔
پاکستان اس حوالے سے بے شمار مواقع رکھتا ہے لیکن ہم نے ان سے شاید ہی کبھی فائدہ اٹھایا ہو۔ اگر آپ پنجاب کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ایک شخصیت بار بار سامنے آتی ہے اور وہ ہے مہاراجہ رنجیت سنگھ۔
رنجیت سنگھ 1780ء میں موجودہ پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں پیدا ہوا۔ اسی خطے سے اس نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور بعدازاں لاہور کو اپنی سلطنت کا دارالحکومت بنایا۔ لاہور کا شاہی قلعہ اس کے اقتدار کا مرکز رہا اور آج بھی قلعے کے ساتھ اس کی سمادھی موجود ہے، جہاں دنیا بھر سے سکھ یاتری آتے ہیں۔ یہ صرف ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ برصغیر کی مشترکہ تاریخ کا اہم باب ہے۔
رنجیت سنگھ نے مختلف سکھ مثلوں کو متحد کرکے سکھ سلطنت قائم کی، جسے تاریخ میں سکھ ایمپائر کہا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی سلطنت لاہور سے نکل کر ملتان، کشمیر، پشاور، اٹک، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان اور خیبر کے کئی علاقوں تک پھیل گئی۔ کشمیر سے پشاور اور ملتان سے دریائے ستلج تک اس کی حکمرانی قائم ہوئی۔ انیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں یہ برصغیر کی مضبوط ترین ریاستوں میں شمار ہوتی تھی۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس شخصیت کی زندگی میں اقتدار، جنگ، سفارت کاری، محبت، سازشیں، فتوحات اور شکستیں سب کچھ موجود ہو، کیا اس پر عالمی معیار کی ویب سیریز نہیں بن سکتی؟
رنجیت سنگھ کی شخصیت کا ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ وہ صرف ایک فاتح نہیں تھا بلکہ ایک منتظم بھی تھا۔ اس نے اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے یورپی جرنیلوں کی خدمات حاصل کیں، توپ خانے کو مضبوط کیا اور ایک ایسی ریاست قائم کی جس نے کئی دہائیوں تک برصغیر کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔
اگر پاکستان رنجیت سنگھ پر ایک اعلیٰ معیار کی ویب سیریز بنائے تو یہ صرف ایک تاریخی منصوبہ نہیں ہوگا بلکہ سفارتی، ثقافتی اور معاشی منصوبہ بھی ہوگا۔ دنیا بھر میں کروڑوں سکھ آباد ہیں۔ ان میں سے بے شمار افراد کی مذہبی اور تاریخی وابستگی پاکستان سے ہے، کیونکہ ننکانہ صاحب، پنجہ صاحب، لاہور، گوجرانوالہ اور دیگر کئی مقامات ان کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ایک معیاری ویب سیریز انہیں صرف ایک کہانی نہیں دکھائے گی بلکہ ان مقامات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی خواہش بھی پیدا کرے گی۔ اس سے مذہبی سیاحت بڑھے گی، ہوٹل آباد ہوں گے، مقامی کاروبار ترقی کرے گا اور پاکستان کا ایک مثبت، ثقافتی چہرہ دنیا کے سامنے آئے گا۔
لیکن سوال صرف رنجیت سنگھ تک محدود نہیں۔
آخر ہم قائداعظم محمد علی جناح پر عالمی معیار کی فلم کیوں نہیں بنا سکے؟ ایک ایسا وکیل جو بمبئی کی عدالتوں سے اٹھ کر برصغیر کے سب سے بڑے آئینی رہنما میں تبدیل ہوا، جس نے مذاکرات، قانون اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے ایک نئی ریاست کے قیام میں مرکزی کردار ادا کیا، اس کی زندگی کسی بھی بین الاقوامی فلم سے کم دلچسپ نہیں۔
اسی طرح علامہ محمد اقبال کی زندگی میں فلسفہ، شاعری، یورپ کا سفر، فکری ارتقا، ملتِ اسلامیہ کا تصور اور نوجوانوں کے لیے امید کا پیغام موجود ہے۔ ان کی زندگی پر بننے والی ایک معیاری فلم صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ایران، ترکی، وسطی ایشیا اور اردو و فارسی سے وابستہ دنیا میں بھی غیر معمولی دلچسپی پیدا کر سکتی ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی بھی فلمی دنیا کے لیے ایک مکمل داستان ہے۔ ایک ذہین طالب علم، بین الاقوامی سفارت کار، عالمی لیڈر، عوامی رہنما، اقتدار، جنگ، سیاست، عدالتی مقدمات اور ایک المناک انجام، یہ سب ایسے عناصر ہیں جو ایک مضبوط سیاسی ڈرامے کی بنیاد بن سکتے ہیں، بشرطیکہ اسے تحقیق، توازن اور تاریخی دیانت کے ساتھ بنایا جائے۔
اسی طرح اگر کھیل کی دنیا کی طرف آئیں تو شعیب اختر کی زندگی بھی غیر معمولی ہے۔ راولپنڈی کے ایک نوجوان کا دنیا کا تیز ترین بولر بننا، زخمی ہونا، تنازعات، واپسی، شہرت اور عالمی کرکٹ میں اپنا منفرد مقام بنانا، یہ سب کچھ ایسی کہانی ہے جسے دنیا دلچسپی سے دیکھ سکتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس موضوعات نہیں ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں قومی منصوبہ کبھی سمجھا ہی نہیں۔
ترکی نے اپنی تاریخ کو ڈراموں میں ڈھالا تو اس کی ثقافتی طاقت میں اضافہ ہوا۔ جنوبی کوریا نے اپنے ڈراموں کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی زبان، موسیقی، لباس اور خوراک کو متعارف کرایا۔ بھارت نے بھی کئی دہائیوں سے فلموں کو اپنی نرم طاقت کے طور پر استعمال کیا۔ وہ اپنی کامیابیوں کو نمایاں کرتا ہے، اپنی غلطیوں کو اپنے زاویۂ نظر سے بیان کرتا ہے اور اپنی نئی نسل کو وہی تاریخ دکھاتا ہے جسے وہ قومی مفاد کے مطابق سمجھتا ہے۔
پاکستان کو بھی اس میدان میں قدم رکھنا ہوگا، لیکن ایک فرق کے ساتھ۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں فلم سازی کو اکثر صرف تفریح سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ تعلیم، سیاحت، معیشت اور سفارت کاری کا بھی مؤثر ذریعہ ہے۔ اگر حکومت، نجی شعبہ، فلم ساز، مورخین اور جامعات مل کر قومی شخصیات اور تاریخی موضوعات پر سرمایہ کاری کریں تو آنے والے برسوں میں پاکستان نہ صرف اپنی تاریخ دنیا کے سامنے بہتر انداز میں پیش کر سکتا ہے بلکہ اربوں روپے کی نئی فلمی اور سیاحتی معیشت بھی پیدا کر سکتا ہے۔
قومیں صرف سرحدوں سے نہیں بنتیں، وہ اپنی یادداشت سے بنتی ہیں اور قومی یادداشت محفوظ رکھنے کا سب سے طاقتور ذریعہ آج کتاب کے ساتھ ساتھ کیمرہ بھی ہے۔
اگر ہم اپنی کہانی خود نہیں سنائیں گے تو کوئی اور سنائے گا۔ اگر ہم اپنے ہیروز کو خود پردہ سکرین پر نہیں لائیں گے تو دوسروں کے تخیل میں بنے ہوئے کردار ہماری نئی نسل کی یادداشت کا حصہ بن جائیں گے۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بھی بندوق کے ساتھ ساتھ کیمرے کی طاقت کو سمجھے، کیونکہ آنے والے زمانے میں تاریخ صرف کتابوں میں نہیں لکھی جائے گی، بلکہ فلموں، ویب سیریز اور ڈیجیٹل اسکرینوں پر بھی لکھی جائے گی اور جو قوم اس زبان میں اپنی بات نہیں کرے گی، اس کی کہانی کوئی اور لکھ دے گا۔

