Friday, 17 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Kahin To Koi Kami Reh Gayi Hai

Kahin To Koi Kami Reh Gayi Hai

کہیں تو کوئی کمی رہ گئی ہے

یہ حقیقت ہے کہ بحیثیتِ مجموعی پاکستانی قوم ہمیشہ اپنی فوج کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ یہ قوم اپنے شہدا سے بے حد محبت کرتی ہے۔ فوج کو جب بھی ضرورت پڑی، قوم نے کھلے دل سے نہ صرف اس کا ساتھ دیا بلکہ کندھے سے کندھا ملا کر دشمن کے سامنے ڈٹ گئی۔ قیامِ پاکستان سے آج تک ہونے والی جنگوں میں ہماری فوج کبھی اکیلی نہیں لڑی، قوم ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑی رہی۔ 1948ء، 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں عوام کا جذبہ دیدنی تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ ہمیں بھی اگلے مورچوں پر بھیجا جائے، ہم بھی دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہونا چاہتے ہیں۔ 2019ء میں جب بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی تو پوری پاکستانی قوم بے چینی سے پاک فوج کے جواب کی منتظر تھی۔ دعائیں بھی جاری تھیں اور دشمن کے خلاف غم و غصے کا اظہار بھی ہو رہا تھا۔ لوگوں کا بس نہیں چل رہا تھا کہ خود دشمن کے ملک میں داخل ہو کر اس کا مقابلہ کریں۔

یہی منظر 2025ء میں بھی دیکھنے کو ملا، جب پڑوسی ملک نے پاکستان پر حملہ کیا۔ پاکستانی عوام کی آنکھوں میں رتی بھر خوف نظر نہیں آیا۔ قوم فوج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی، یہاں تک کہ فوجی جوانوں کو عوام سے کہنا پڑا کہ آپ گھروں میں رہیں، ہم دشمن کو خود ہی ناکوں چنے چبوا سکتے ہیں۔ پھر پاک فوج نے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے، جس کا منظر پوری دنیا نے دیکھا۔ آج بھی دنیا میں رافیل طیاروں کی تباہی کے ذکر ہوتا ہے۔ جب کبھی ملک کو ضرورت پڑی، خواہ قدرتی آفات ہوں یا دہشت گردی کے خلاف جنگ، عوام نے اپنی فوج کا ہر ممکن ساتھ دیا۔

جب بھی ملک کو کسی خطرے کا سامنا ہوا، قوم اور فوج ایک دوسرے کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوئے، لیکن اس کے باوجود ایک اہم سوال بار بار ذہن میں گردش کرتا ہے: پاک فوج سے محبت کرنے والی یہ قوم آخر سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف اس قدر شدید ردِعمل کا اظہار کیوں کرتی نظر آتی ہے؟ یہ کیسے ممکن ہوا کہ جو قوم ضرورت پڑنے پر اپنے جوانوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے اور ملک کے لیے جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتی، اسی قوم کا بہت سے لوگ بعض اوقات ریاستی اداروں کے بارے میں شدید ردِعمل اور بددلی کا اظہار کرنے لگے؟

فوج کے حامی صفحات یا اس سے متعلق خبروں پر شدید ردِعمل دیکھنے کو ملتا ہے۔ لوگ طنزیہ انداز میں ہنستے اور مذاق اڑاتے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے سرکاری صفحات پر بھی بعض افراد طعن و تشنیع اور تمسخر کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ بعض اوقات تو شہدا سے متعلق خبروں پر بھی تمسخر، الزام تراشی اور نامناسب تبصرے کیے جاتے ہیں۔ صرف یہی نہیں، جو عالمِ دین فوج کے ساتھ کھڑا ہو، اس کی پالیسیوں سے اتفاق کرے یا کسی معاملے میں اس کے ساتھ تعاون کرے، اسے بھی شدید تنقید، طعن و تشنیع اور بعض اوقات بدترین بدزبانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ درست ہے کہ اس رویے کا مظاہرہ کرنے والے بہت سے لوگ اخلاقی تربیت سے محروم اور بدزبان ہیں۔ ان کا طرزِ عمل افسوس ناک ہے۔ گالم گلوچ، دشنام طرازی اور الزام تراشی کسی بھی مہذب معاشرے کے شایانِ شان نہیں۔ تاہم یہ رویہ صرف کسی ایک سیاسی جماعت یا اس کے کارکنوں تک محدود نہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں، طبقات، علاقوں اور صوبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں بھی ریاستی اداروں کے بارے میں شکوے اور شکایات پائی جاتی ہیں۔ ان کے دلوں میں وہ اپنائیت نظر نہیں آتی جو مشکل وقت میں پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔

ممکن ہے کچھ لوگوں کے ذہنوں میں غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہوں یا کسی سیاسی جماعت یا رہنما نے انہیں غلط معلومات دی ہوں۔ ممکن ہے کہیں پروپیگنڈا ہو، کہیں سیاسی مفادات کارفرما ہوں اور کہیں دشمن کی سازش ہو۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ کہیں کوئی کمی رہ گئی ہو۔

ممکن ہے عوام کے کچھ شکوے بجا ہوں۔ ان کے پاس کچھ حقیقی شکایات ہوں۔ ممکن ہے عوام کے ذہنوں میں موجود غلط فہمیوں کو بروقت دور نہ کیا گیا ہو۔ ریاستی اداروں کو اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ جو قوم مشکل وقت میں فوج کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، وہ معمول کے حالات میں اس سے دور کیوں نظر آتی ہے؟ اس دوری کے کچھ نہ کچھ اسباب ضرور ہوں گے۔ ان اسباب کو سمجھنے اور دور کرنے کی ضرورت ہے۔

عوام اور فوج فطری طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں ایک ہی رہنا چاہیے۔ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان محبت، اعتماد اور اپنائیت کا رشتہ اس ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اس رشتے میں پیدا ہونے والی کسی بھی دراڑ کو محض دشمن کا پروپیگنڈا قرار دے کر نظرانداز کرنے کے بجائے اس کے حقیقی اسباب کو سمجھنے اور دور کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ کہیں تو کوئی کمی رہ گئی ہے اور اگر واقعی کوئی کمی ہے تو اسے تلاش کرنا اور دور کرنا ہی اس عظیم رشتے کو مزید مضبوط بنانے کا راستہ ہے۔ عوام بھی اسی ملک کے بیٹے ہیں، سیاست دان بھی اسی ملک کے بیٹے ہیں، فوج بھی اسی ملک کی ہے اور فوجی جوان بھی اسی قوم اور اسی دھرتی کے بیٹے ہیں۔ سب کے درمیان دوریاں ختم ہونی چاہئیں، شکوے شکایات دور ہونی چاہئیں۔ کم از کم اپنے لوگوں اور اپنی دھرتی کے بیٹوں کے ساتھ یہ سب کچھ محبت، اعتماد اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔

Check Also

Grand Father Paradox

By Mohammad Saleem